Daily Mashriq


جناب! یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے

جناب! یہاں آوے کا آوا ہی بگڑا ہوا ہے

فوجداری مقدمات کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے سینئر جج جسٹس آصف سعید خان کھوسہ کا یہ کہنا بجا طور پر درست ہے کہ دو تین جھوٹے گواہوں کو عمر قید کی سزائیں ہو گئیں تو نظام درست ہو جائے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جھوٹے گواہوں سے بازپرس کریں گے اور جھوٹی گواہیوں پر سزا دینے والے جج صاحبان سے بھی پوچھ گچھ کریں گے۔ جج اگر انصاف نہیں دے سکتا تو اسے انصاف کی کرسی پر بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔ پاکستانی نظام انصاف کے مختلف مراحل میں موجود قباحتوں اور اس حوالے سے شکایات پر دردمندی سے توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ یہ ضرورت اسی طور پوری ہوسکتی ہے جب ابدی سچائی پر مبنی حضرت امام علیؓ کے اس قول کو سامنے رکھا جائے کہ ’’معاشرہ کفر پر قائم رہ سکتا ہے ظلم پر نہیں‘‘۔

ہماری دانست میں نظام انصاف میں اصلاحات لازمی ہیں مگر اس سے قبل مقدمات کے اندراج اور تفتیش کے مراحل کا بھی بغور جائزہ لیا جانا چاہئے۔ بدقسمتی سے ہمارا سماجی رویہ یہ بن گیا ہے کہ کسی تنازعہ کی وجہ سے مقدمہ درج کروانے کی نوبت آجائے تو مدعی کی کوشش ہوتی ہے کہ مخالف فریق کے زیادہ سے زیادہ عزیز واقارب کو ایف آئی آر میں ملزم نامزد کروا دیا جائے۔ اس سوچ کے پیچھے اولاً تو علاقے میں دھاک بٹھانا ہوتا ہے ثانیاً فریق مخالف کو اچھی طرح رگڑا لگانا۔ اس سے پہلے مرحلہ پر ایف آئی آر بھاؤ تاؤ سے درج ہوتی ہے جتنے زیادہ نرخ ملیں اتنی زیادہ دفعات پر مقدمہ کی عمارت اُٹھتی ہے۔ اگلے مرحلہ میں تفتیشی افسران کی خوب روٹیاں لگتی ہیں۔ کسی وقوعہ کے جو گواہان مدعی فریق کی طرف سے سامنے آتے ہیں ان میں سے اکثر موقع پر موجود ہی نہیں ہوتے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تفتیشی آفیسر کو چند لمحوں میں ہی اس حقیقت کا علم ہو جاتا ہے کہ گواہ جھوٹے ہیں یا یہ کہ ملزمان کی جو تعداد مدعی نے لکھوائی ہے وہ درست نہیں لیکن پولیس کا تفتیشی نظام‘ نظام انصاف کی معاونت کی ذمہ داریاں نبھانے کیلئے نہیں بلکہ اہلکاروں کے کاروبار کو قائم رکھنے کے نکتۂ نظر سے چلایا جاتا ہے۔

ایف آئی آر‘ گواہ اور تفتیش یہی تین چیزیں عدالتی سماعت کے دوران بنیادی اہمیت رکھتی ہیں سارا مقدمہ ان کے گرد گھومتا ہے۔ جناب جسٹس کھوسہ کا یہ کہنا بجا ہے کہ انصاف کی کرسی پر بیٹھنے والوں کو انصاف کرنا چاہئے۔ سوال مگر یہ بھی ہے کہ عدالت کے سامنے پیش کی گئی تفتیش‘ گواہان اور دیگر شواہد کا کیا کیا جائے؟۔ اصلاحات بہت ضروری ہیں آغاز اندراج مقدمہ سے کر لیا جائے تو زیادہ مناسب ہوگا مثلاً اگر اندراج مقدمہ سے قبل ایک سے زیادہ یا کم ازکم دو پولیس افسر اس امر کی تحقیق کر لیں کہ مدعی نے پیش کردہ مؤقف اور فہرست ملزمان میں کتنی صداقت ہے تو کام بہت آسان ہو جائے گا۔ یہ بات ہرگز نہیں کہ سارے ہی مقدمات جھوٹے ہوتے ہیں بدقسمتی مگر یہ ہے کہ درست مقدمات کی عمارت بھی جھوٹ وکذب پر اُٹھائی جاتی ہے۔ جھوٹے گواہ‘ پولیس ٹاؤٹ‘ پیشہ ور ضمانتی‘ کارخاص‘ یہ چار کردار اگر ختم ہو جائیں تو کسی تفتیشی افسر کو جرأت نہ ہو کہ وہ سیاہ کو سفید اور سفید کو سیاہ بنا کر پیش کرے۔

عدالتی عمل میں جو کج ہیں یا جن کی طرف جناب جسٹس کھوسہ نے توجہ دلائی ہے وہ بجا طور پر درست ہیں مگر اس کا بھی تو کوئی علاج ہونا چاہئے کہ ایک شخص یا پارٹی نچلی عدالتوں میں یہ بتائے بغیر کہ اعلیٰ عدلیہ میں بھی اس حوالے سے کوئی مقدمہ یا درخواست زیر سماعت ہے مقدمہ دائر کر دیتا ہے۔ ایک نہیں درجنوں مثالیں موجود ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا ہمارے وکلاء صاحبان نہیں جانتے کہ ان کا سائل مقدمہ اپنے مقدمہ کے حوالے سے سچ کتنا بول رہا ہے اور جھوٹ کتنا۔ بہت ضروری ہے کہ اس امر پر بھی توجہ دی جائے کہ وکلاء صاحبان جھوٹے مقدمات کے مدعیوں کی حوصلہ افزائی نہ کریں۔ تیسری اہم بات یہ ہے کہ جس مقدمہ میں نچلی عدالت سے سزا ہو اور بالائی عدالتوں سے بریت تو نچلی عدالتوں کے ججوں سے یہ تو پوچھا جائے کہ انہوں نے جن وجوہات کی بنا پر سزائیں دیں وہ اگلی عدالت نے مسترد کیوں کر دیں؟ نظام انصاف کے اندر اگر جوابدہی کو یقینی بنا لیا جائے تو کم سے کم وقت میں بہتری لائی جاسکتی ہے۔

عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ ایک سے جڑے دوسرے معاملے یعنی اندراج مقدمہ اور تفتیش کے مراحل کو عدالتی نظام سے الگ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا۔ درست ہے کہ جج صاحبان کو جھوٹی گواہیوں اور تفتیش کے سقموں کا بروقت نوٹس لینا چاہئے مثلاً اگر کسی مقدمہ میں بریت کے وقت استغاثہ کا مؤقف مسترد ہو تو جج کا فرض بنتا ہے کہ وہ نظام پولیس کے ذمہ داروں کو آگاہ کرے کہ جھوٹے مقدمے کے اندراج اور غیر تسلی بخش تفتیش سے عدالت کا وقت ہی ضائع نہیں ہوا بلکہ نظام پولیس پر بھی سوال اُٹھے ہیں۔ بنیادی طور پر یہ سارے معاملات ذمہ داریوں کے احساس سے بندھے ہوئے ہیں۔ اس پر بھی دو آراء نہیں کہ کسی ایک ادارے کو درست کر لینے سے مثالی نظام کا قیام ممکن نہیں ہر شخص ادارے کو اپنی اپنی جگہ حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔مگر اس کا کیا کریں کہ ہم ایک ایسے سماج میں جی رہے ہیں جہاں معمولی سی ٹریفک جام کے دوران موٹر سائیکل سواران فٹ پاتھوں پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ ملاوٹ اور گرانی کو حق سمجھا جاتا ہے۔ ستم یہ ہے کہ دودھ میں ملاوٹ کرنے والے کریم داد کو شکوہ ہوتا ہے کہ اکبر میڈیکل سٹور سے دو نمبر ادویات فروخت ہوتی ہیں۔ فٹ پاتھ پر موٹر سائیکل دوڑانے والا کہتا ہے ملک میں قانون کی حاکمیت ہی نہیں۔ تطہیر ذات کے بغیر تطہیر سماج کا خواب شرمندۂ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ تطہیر سماج نہ ہو تو کسی بھی معاملے میں سو فیصد دیانت کی توقع عبث ہے۔ نظام انصاف میں کج بہرطور ہیں مگر کیا اس نظام کی دہلیز تک پورا سچ لایا گیا؟ کیا کسی کو معلوم نہیں کہ عدالتوں کے احاطوں میں پیشہ ور ضمانتی چند سو یا ہزار دوہزار پر مل جاتے ہیں۔ ایک ایک کرکے ان خرابیوں کا علاج کرنا ہوگا۔ آغاز نیچے سے ہی کیا جائے تو زیادہ بہتر نتائج مل سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں