Daily Mashriq


پارلیمانی سیاست پر بدتہذیبی کے سائے

پارلیمانی سیاست پر بدتہذیبی کے سائے

جمہوریت مغرب کا تحفہ ہے اس لئے اس نظام پر مغرب ہی کے اثرات کوئی اچنبھے کی بات نہیں ہے۔ ہمارے ہاں بھی پارلیمانی جمہوری روایات پر ایسی ہی چھاپ ہے جیسا کہ دوسرے ملکوں کی جمہوریت پر ہے۔ علامہ اقبال نے ایک جگہ لکھا ہے

گریز ازطرز جمہوری غلام پختہ کاری شو

کہ ازمغز دو صد خر فکر انسانی نمی آید

اسلام نے شورائیت کو اہمیت دی ہے جہاں مسائل سے نمٹنے کیلئے مشاورت کی جاتی ہے۔ اگرچہ موجودہ حالات میں جمہوریت کو بہت حد تک اسلامی شورائیت کے نزدیک بلکہ اس کا متبادل قرار دیا جاتا ہے مگر روایات کے حوالے سے اسلامی شورائیت اور مغربی جمہوریت میں اقدار کا فرق ضرور ہے یعنی شورائیت میں باہمی احترام جبکہ جمہوریت میں کسی مسئلے پر عدم اتفاق کے ڈانڈے پہلے مخالفانہ طرز استدلال اور پھر منطق سے عاری غصہ سامنے آتا ہے جو ذرا تیز ہو جائے تو بدلحاظی‘ بدتہذیبی کی حدوں کو چھونے لگتا ہے اور مزید تیز ہو جائے توگالم گلوچ میں ڈھل جاتا ہے۔ اس نوعیت کا نظارہ ابھی حال ہی میں پنجاب اسمبلی میں دیکھا گیا جب سب کچھ اُلٹ دیا گیا اور سپیکر نے لیگ(ن) کے کچھ ارکان صوبائی اسمبلی کا داخلہ ہی ایوان میں بند کر دیا تھا جس کے بعد لیگ(ن) کے اراکین پنجاب اسمبلی نے احتجاجاً اسمبلی کا نہ صرف بائیکاٹ کیا بلکہ اسمبلی کی دہلیز پر دھرنے کی صورت احتجاج بھی کیا اور حکومت اور اپوزیشن کے مابین تقریروں اور جوابی تقریروں میں سخت جملوں کا تبادلہ بھی ہوتا رہا۔ یہ صورتحال دیکھ کر انگریزی کا وہ مقولہ بھی یاد آتا رہا کہ ’’Tyranny of majority becomes democracy‘‘ یعنی اکثریت کی آمریت جمہوریت بن جاتی ہے۔ بدقسمتی سے جب سیاست میں تھڑدلے اور بڑبولے وارد ہو جاتے ہیں تو باہمی احترام رخصت ہو جاتا ہے۔ انتہائی معذرت کیساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ان دنوں بھی ایسی ہی صورتحال ہے۔ اسمبلیوں کے اندر جھانک کر دیکھیں تو اچھے لوگوں کے سنگ کم ظرف بھی دندناتے پھرتے ہیں جن کا کام جھوٹے سچے الزامات لگا کر پارلیمنٹ کی پُرامن فضا کو مکدر کرنا ہے۔ وہ جو گوئبلز نے اصول قائم کیا تھا کہ اتنا جھوٹ بولو کہ سچ آئے تو بستی کی بستیاں ویران ہو چکی ہوں۔ کیا یہ ہماری بدنصیبی نہیں کہ جمہوری روایات کے امین لوگوں کے بیچ کاذبین کی بھی ایک خاص تعداد ان ایوانوں کا حصہ ہے جو نہ صرف اسمبلی کے اندر بدزبانی کا مظاہرہ کرتے ہیں بلکہ اسمبلی کے باہر اور ٹی وی ٹاک شوز میں بھی اپنی ’’زباندانی‘‘ کا مظاہرہ کرتے رہتے ہیں حالانکہ ایسے ہی لوگوں کیلئے تو خواجہ حیدر علی آتش نے صدیوں پہلے کہا تھا

لگے منہ بھی چڑانے دیتے دیتے گالیاں صاحب

زباں بگڑی سو بگڑی تھی خبر لیجئے دہن بگڑا

یہ گنتی کے چند لوگ اتنے بڑے ایوان میں کیسے پہنچ گئے اللہ ہی بہتر جانتا ہے کیونکہ ان جیسے سیاسی بونوں کو ان ایوانوں کے اطراف موجود سڑکوں پر جانے کی اجازت بھی نہیں ملنی چاہئے۔ ان کی بدزبانی سے پارلیمنٹ کا وقار جس بری طرح مجروح ہو رہا ہے اس پر افسوس کا اظہار کئے بنا نہیں رہا جاسکتا۔ اس صورتحال کا مداوا کیا ہو؟ اس پر ضرور غور کرنا چاہئے اور دونوں ’’ہاتھوں‘‘ کو ملکر تالی بجانی پڑے گی۔ یہ تو اچھا ہی ہوا کہ گزشتہ روز وزیردفاع پرویز خٹک کی تجویز پر حکومت اور اپوزیشن نے اسمبلی اجلاسوں کیلئے ضابطۂ اخلاق پر اتفاق کرتے ہوئے ایک کمیٹی بنانے کی حمایت کر دی ہے۔ درپیش صورتحال پر تقاریر میں اچھے خیالات سامنے آئے۔ پرویز خٹک نے کہا کہ یہی ماحول رہا تو عزت نہیں رہے گی۔ اپوزیشن لیڈر شہباز شریف نے کہا کہ کلہاڑا خود ماریں گے تو کسی کو دوش نہیں دے سکتے۔ ضابطۂ اخلاق کے بارے میں کمیٹی بنانے کی حمایت راجہ پرویز اشرف اور مولانا عبدالواسع نے بھی کی ہے۔ ادھر وزیراعظم عمران خان نے اپنی جماعت کے اراکین پارلیمنٹ کو پابند کر دیا ہے کہ وہ پرویز خٹک سے اجازت ملنے کے بعد ہی تقاریر کریں گے۔ گویا وہ جو سکول کے زمانے میں ہر کلاس میں ایک مانیٹر مقرر کیا جاتا تھا جو کلاس میں ہر پیریڈ کے خاتمے کے بعد اگلے سبجیکٹ کے ٹیچر کے ایک کلاس سے نکل کر دوسری کلاس میں آنے تک کے وقفے کے دوران کلاس میں نظم وضبط برقرار رکھنے کا ذمہ دار ہوتا تھا اور اگر کوئی لڑکا یا لڑکے غل غپاڑہ کرتے تو ان کی شکایت آنے والے ٹیچر یا پھر کلاس ماسٹر تک پہنچا کر کلاس کا ماحول بہتر بنانے میں مددگار ہوتا۔ ویسے یہ بھی ہماری پارلیمانی تاریخ میں پہلی بار ہو رہا ہے کہ اراکین اسمبلی کے اوپر ایک مانیٹر بٹھا دیا گیا ہے مگر وہ جو سکول کے زمانے میں شرارتی لڑکوں کو کنٹرول رکھنے کیلئے ایسا کیا جاتا تو شاید وزیراعظم کو بھی اپنے ’’شرارتی‘‘ اراکین کے بارے میں کوئی بریفنگ دی گئی ہو۔ بہرحال ماحول میں بہتری لانے کیلئے کچھ نہ کچھ تو کرنا پڑے گا حالانکہ ڈسپلن قائم کرنے کی ذمہ داری ہر رکن اسمبلی پر ذاتی طور پر بھی عاید ہوتی ہے لیکن اسے کیا کہا جائے کہ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد بھی اگر کوئی بچپنے کے دور سے باہر آنے کو تیار نہ ہو تو ایک ٹی وی اشتہار کے پنچ لائن کی طرح ان سے بھی کہا جا سکتا ہے کہ ’’اب تو بڑے بن جائیے‘‘۔

ہم کبھی نہ چھوڑیں گے بات برملا کہنا

ہاں نہیں شعار اپنا درد کو دوا کہنا

متعلقہ خبریں