Daily Mashriq


یہ لطیفہ نہیں تو کیا ہے؟

یہ لطیفہ نہیں تو کیا ہے؟

ایک نجی ٹی وی چینل کے مطابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کی صدارت میں تحریک انصاف کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس ہوا، اجلا س میں چین کی جانب سے امدادی رقم سے متعلق سوالات پر وزیراعظم نے یہ کہہ کر شرکاء اجلاس کو خاموش کرا دیا کہ چین نے پاکستان کی تاریخی امداد کی ہے، چین کتنی مدد دے رہا ہے ظاہر نہیں کی جا سکتی، دراصل چین نے پاکستان کو نقد مالی امداد کا اعلان کرنے سے روک دیا ہے کیونکہ چین کے دیگر پارٹنرز تحفظات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ ناقدین پی ٹی آئی کے چیئرمین کے ان ارشادات پر تنقید کرتے ہوئے اس کو ایک لطیفہ سے معمور کر رہے ہیں۔ ویسے تو پی ٹی آئی کے دیگر رہنما اور وزراء کے بیان لطائف سے باہر نہیں ہوا کرتے ہیں تاہم تنقید نگاروں کی انگشت نمائی درست نہیں ہے کیونکہ یہ بات اس وقت لطیفہ قرار پاتی جب موصوف کوئی رقم بتا دیتے۔ حیر ت انگیز بات یہ ہے کہ جس طرح وزیراعظم نے فرمایا ہے کہ امدادی رقم کو اخفاء میں رکھنے کی چین نے ہدایت کی ہے، گویا پاکستان میں ہی تبدیلی نہیں آئی ہے دنیا میں بھی تبدیلی آرہی ہے۔ ایسا تو اسکول کے بچوں میں ہوا کرتا ہے کہ جب حامد اپنے ہم جماعت زاہد کو کوئی چیز دیتا تو ساتھ ہی یہ ہدایت دیتا کہ دیکھ یار میرے ساتھی محمود کو اس کی ہوا نہ لگے، ورنہ میں ناراج ہو جاؤں گا۔

چین کسی ملک کے دباؤ میں نہیں ہے اور نہ اس کو محتاجی ہے جس کی وجہ سے وہ امدادی رقم کو گمنامی میں رکھنا مقصود گردانتا ہو، جب سے عمران خان نے چین کا دورہ شروع کیا تب سے ہی اس دورے کے بارے میں سوشل میڈیا پر قوس وقزح رنگ میں قیاس آرائیاں جاری ہو چکی تھیں حتیٰ کہ سوشل میڈیا پر یہ بھی کہہ دیا گیا کہ چھ ارب ڈالر چین نے ادا کر دیئے ہیں جس سے ادائیگیوں کا توازن پھندے سے نکل گیا ہے، اہم بات یہ ہے کہ ماضی بعید کی طرح عوام کا حافظہ کمزور نہیں رہا ہے، اب عوام ماضی قریب کیا ماضی بعید میں بھی اچھی طرح تاک جھانک کر لیتے ہیں یہ کوئی 2013 ء سے کچھ پہلے کی بات ہے کہ تحریک انصاف کے قائدین نے بڑے کھلے دل کیساتھ وعدہ کیا تھا کہ وہ قوم سے کسی معاملے میں جھوٹ نہیں بولیں گے، قوم سے کچھ نہیںچھپائیں گے، یہ موصوف کا کھلا اعلان تھا تب سے عوام ترس گئے ہیں کہ وہ کبھی اندر کی بھی سچی کہانی سنا دیا کریں مگر یقین کرنے کو دل چاہتا ہے کہ آخر وہ اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں جو کہہ رہے ہیں درست ہی کہہ رہے ہیں نا قدین کو ایسے ہی چڑ ہے، لیکن اس کے باوجود بات ذرا سی ترچھی لگ رہی ہے۔ اسی پارلیمانی پارٹی کے اجلاس کے بارے میں ایک اچھی خبر یہ معلوم ہوئی کہ عمران خان نے اپنے اراکین کو ہدایت کی ہے کہ ایوان میں منظم ہوکر چلیں، اپوزیشن کی ہر بات کا جواب دینا ضروری نہیں ہوتا، کوئی بھی رکن قومی اسمبلی وزیر دفاع پرویز خٹک کی اجازت کے بغیر ایوان میں تقریر نہیںکرے گا، یہاں تک بات دل کو لگتی ہے کہ کسی بھی جماعت کے ارکان کو اسمبلی میں کم ازکم منظم طور پر چلنا چاہئے، کسی افراتفری کا مؤجب نہیں بننا چاہئے اور افراتفری کو فرو کرنے میں اپنا کردار ادا کرنا چاہئے کیونکہ ایوان کسی قوم کے اقدار کی عکاس ہوا کرتے ہیں اور قوم کو پرکھنے کی کسوٹی ہوا کرتے ہیں چنانچہ ایوان کا مچھلی بازار بن جانا پوری قوم کیلئے باعث سبکی ہے۔ ہاں یہاں ایک مصیبت کھڑی ہوگئی ہے کہ اب وزیردفاع کو ہمہ وقت ایوان میں موجود رہنا پڑے گا کیونکہ ان کی عدم موجودگی میں زبان کھولنے کی اجازت دینے والا کوئی نہیں ہوگا تو بات کیسے بنے گی۔ دوسرے الفاظ میں عمران خان نے پرویز خٹک کے نحیف کندھوں پر ایسا بوجھ لاد دیا ہے جو ان کی توانائی سے بڑھ کر ہے۔

جب نواز شریف وزیراعظم تھے تو اس وقت تحریک انصاف اور پی پی ان کا ایوان سے غیرحاضر رہنے پر ترش تر پریڈ لے رکھتی تھیں، طعنہ دیا جاتا تھا کہ میاں نواز شریف کو ایوان کے وقار کا احساس نہیں ہے ان کے نزدیک ایوان کی کوئی قدر نہیں ہے اہمیت نہیں ہے کہ زیادہ تر ایوان سے باہر ہی پھرتے رہتے ہیں، میاں صاحب جواز میں یہ جواب پیش کرتے تھے کہ ان کی دیگر مصروفیات ملک کیلئے بہت اہم ہیں اس لئے ان کا باقاعدگی کیساتھ ایوان میں آنا نہیں ہو پاتا البتہ ایسا کچھ حال عمران خان کا بھی تھا جب وہ حزب اختلاف کا حصہ تھے کیونکہ ان کو نواز حکومت کیخلاف سڑکوں پر مٹرگشت کرنے سے فرصت نہیں تھی چنانچہ وہ ایوان کی طرف رخ نہیں کرتے تھے۔ نواز حکومت کے آخری ایام میں تو یہ صورتحال بنا دی تھی کہ انہوں نے پارلیمنٹ کو چور پارلیمنٹ قرار دیدیا تھا اور اس کے اجلاس میں شرکت سے انکار کر دیا تھا۔ موجودہ پارلیمنٹ کے بارے میں تو اپوزیشن کا متفقہ فیصلہ ہے بلکہ تحریک انصاف کی حواری جماعتوں میں سے بعض کا بھی یہ مؤقف ہے کہ یہ پارلیمنٹ جعلی پارلیمنٹ ہے مگر اس کے باوجود وہ باقاعدگی سے اجلاسوں میں شریک ہو کر ایوان کے تقدس کو بڑھوتی دے رہے ہیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین سے کوئی شکوہ نہیں ہے کیونکہ مؤقف تبدیل ہوتا رہتا ہے ممکن ہے کہ شرکت نہ کرنے کے مؤقف میں سرشام ہی کوئی تبدیلی آجائے تاہم اگر یہ بات کھول دیتے کہ ان کی کونسی ایسی اہم ترین مصروفیت ہے جو پارلیمان کے اجلاس میں شرکت سے مانع ہے تو بہتر رہتا، اب ناقدین پھر اچھل کود کریں گے۔

متعلقہ خبریں