Daily Mashriq


مولانا سمیع الحق کی شہادت اور مابعد

مولانا سمیع الحق کی شہادت اور مابعد

مولانا صاحب سے ذاتی وعلاقائی (کہ ان کے آباؤ اجداد چونترہ ضلع کرک سے آکر یہاں سکونت پذیر ہوئے تھے) تعلق کے علاوہ اصل تعلق ومحبت اور عقیدت ان کے والد ماجد ولی الحق زمانہ کے عظیم علمی کارناموں اور عظیم درس گاہ حقانیہ کے سبب بھی ہے لیکن خود مولانا احقر پر کتنے مہربان تھے اور کس پائے کی محبت وشفقت کا اظہار فرماتے تھے اس کا صحیح علم صرف اللہ کو ہے لیکن حقانیہ کے کئی اساتذہ کرام‘ طلبہ اور بالخصوص مولانا کے فرزند ارجمند مولانا حامد الحق اور آ پ کے خاندان کے دیگر افراد کو بھی تھا۔ مولانا کی علمیت‘ روحانیت‘ ملک وملت اور عالم اسلام کیلئے خدمات جلیلہ تاریخ میں امر ہے۔ اس پر بہت کچھ لکھا اور کہا جا چکا ہے لیکن اس کے علاوہ آپ کی شہرت دوام کا ایک یادگار‘ انمٹ اور نہ بھولنے والا کردار افغانستان پر روسی حملے کے بعد آہستہ آہستہ دنیا کے سامنے نمودار ہوا۔ آپ کے عظیم درس گاہ کے بے شمار طلبہ نے جہاد افغانستان میں جو کردار ادا کیا اس سے بھلے پاکستان اور افغانستان کے کئی سیاستدانوں اور دانشوروں اور صحافیوں کو اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس حوالے سے مولانا محترم کے مؤقف‘ خلوص اور پائے استقامت میں روز اول سے لیکر آج تک کوئی لغزش رونما نہ ہوسکی۔ آپ کو پاکستان سے اس کے دو قومی نظرئیے پر قیام کے سبب شدید محبت تھی۔ جب بھی پاکستان کے اسلامی تشخص کیخلاف کسی نے بات کی یا آپ کو کہیں اس حوالے سے خطرات محسوس ہوئے آپ نے بہت دو ٹوک انداز میں بغیر کسی شف شف اور اگر مگر کے نظریۂ پاکستان کا دفاع کیا۔ اسی مقصد کیلئے دفاع پاکستان کونسل میں جنرل حمید گل مرحوم کیساتھ آپ شانہ بشانہ کھڑے رہے۔

آپ کی شخصیت کا یہ پہلو میرے لئے بہت دلچسپی‘ اہمیت اور قابل تقلید تھا کہ ضعیف العمری کے باوجود دارالعلوم حقانیہ میں حدیث وفقہ کے دروس پڑھانے میں سیاسی مشغولیات اور اکوڑہ خٹک سے باہر رہنے کے علاوہ کبھی ناغہ یعنی تعطیل نہیں کی۔ اس کیساتھ آپ نے تصنیف وتالیف کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔

کئی جلدوں پر مشتمل دارالعلوم الحقانیہ کی تاریخ اور مولانا عبدالحق اور آپ کیساتھ پاکستان اور دنیا بھر کے علماء‘ فضلا اور عام لوگوں کے سوالات اور استفسار وغیرہ مشتمل مکتوبات وجوابات کو بہت خوبصورت انداز میں شائع کرایا جو آنے والی نسلوں اور محققین کیلئے ایک قیمتی اثاثہ ثابت ہوگا لیکن اب جب آپؒ کو بہت سنگدلی کیساتھ شہید کیا گیا ملک اور ملک سے باہر مختلف مکاتب فکر کے ہاں مختلف قسم کے تبصرے اور تجزئیے جاری ہیں اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا جب یہ سانحہ کسی ایک طرف محقق ہوکر قانونی تقاضوں کے مطابق تکمیل کو نہیں پہنچتا۔ سیاسی‘ صحافتی اور علمی حلقوں کو اس قسم کے بڑے واقعات پر تبصروں اور آراء کا پیش کرنا فطری بھی ہے اور ضروری بھی۔ لیکن سوشل میڈیا والوں سے گزارش ہے کہ جس قسم کا غیر ذمہ دارانہ رویہ کا عام سیاسی واقعات وغیرہ کے بارے میں ان کا وطیرہ بن چکا ہے خدارا مولانا محترم کے حوالے سے اس قسم کی باتیں پھیلانا کہ آپ کا قتل کہیں خدانخواستہ خاندانی یا ادارتی اختلافات یا چپقلش کے سبب ہوا ہے قطعاً بے بنیاد اور شرپسندانہ ہے اور اس بات میں کوئی شک نہیں کہ آپ کی شہادت کا عالم اسلام اور بالخصوص پاکستان اور افغانستان میں امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات‘ پاک چائنہ سی پیک اورعمران خان کے اہم دورہ چین اور مشرق وسطیٰ میں جاری نازک کشمکش کیساتھ گہرا تعلق ہے۔

ایک دنیا جانتی ہے کہ آپ اہم علمی وسیاسی کردار کے سبب بابائے طالبان ( فادرآف طالبان) کے نام سے مغرب میں ایک خاص تعارف حاصل تھا اور افغانستان کے طالبان پر ان کے استاد ہونے کے علاوہ دارالعلوم حقانیہ سے اکثریتی طالبان کے فارغ التحصیل ہونے کی وجہ سے ایک اہم اثر ورسوخ بھی حاصل تھا۔ گزشتہ دنوں جب قطر میں امریکہ اور طالبان کے درمیان زلمے خلیل زاد کے ذریعے اہم مذاکرات کیلئے سٹیج سجایا گیا اور قندھار کے جنرل رزاق کا قتل ہوا اور افغانستان کے صدر اور ایجنسیوں کی طرف سے روایتی الزام تراشی کی عادت کے تحت اس کا الزام بھی پاکستان پر عائد کیا گیا جس کا کوئی ثبوت ان کے پاس نہیں بلکہ سارے شواہد افغانستان کے اندر ہی موجود ہیں اور پھر پچھلے دنوں جب ٹی ایل پی والے اچانک بھڑک اُٹھے اور جلاؤ گھیراؤ کی مہم شروع ہوئی تو شاید لوہا گرم دیکھ کر اور اسی تناظر میں حالات سازگار پاتے ہوئے اس ناقابل فراموش کردار کو راستے سے ہٹانے کا منصوبہ روبہ عمل لایا گیا جس کا آج کے حالات میں طالبان کے امریکہ کیساتھ مذاکرات کے حوالے سے اور پاکستان کے دفاع ومفادات کے سلسلے میں اہم کردار ہو سکتا تھا۔ اسی لئے اندازے یہی لگائے جا رہے ہیں کہ مولانا محترم کی مظلومانہ شہادت کے تانے بانے ملک سے باہر کے حالات وواقعات سے جڑے ہوئے ہیں۔ ہماری دعا ہے کہ مولانا محترم کو اللہ تعالیٰ عظیم درجات سے سرفراز فرمائے۔ آپ کے اہل خانہ‘ دارالعلوم حقانیہ کے لاکھوں طلبہ اور اہل پاکستان وافغانستان کو صبر جمیل عطا فرمائے اور ان کے قاتلین دیدہ عبرت نگاہ ہوں۔ آمین یا رب العالمین

متعلقہ خبریں