Daily Mashriq


اب کیا پردہ تو کیا پردہ کیا

اب کیا پردہ تو کیا پردہ کیا

تبدیلی آئی رے کے دعویداروں نے زنانہ پاکستان اور مردانہ پاکستان بنانے کی شروعات کردیں۔ ہمارے اس جملے پر چونکنے والے یقینا اس خبر کو پڑھ یا سن کر بھی چونکے ہونگے جس میں کہا گیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت نے گرلزاسکولوں میں مردوں کے داخلے اور زنانہ کھیلوں کے مقابلوں میں مردوں کی بطور مہمان خصوصی شرکت پر پابندی کا اعلامیہ جاری کر دیا۔

اس خبر کو پڑھنے کے بعد ہمارے کانوں میں پردے میں رہنے دو، پردہ نہ اٹھاؤ، پردہ جو اٹھ گیا تو بھید کھل جائے گا جیسے فلمی گیت کے بول گونجنے لگے اور دل ناداں پکار پکار کر کہنے لگا کہ اللہ نہ کرے اس خبر کے پیچھے کوئی ایسا واقعہ یا کہانی چھپی ہو جس کی پردہ داری کے لئے خیبر پختون خوا حکومت ان ایکشن ہوگئی ۔ ہماری اس سوچ یا خیال پرکرنل شیر خان کلی تحصیل صوابی ضلع مردان کی گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج کے میگزین ’’ شمال ‘‘ نے اس وقت مہرتصدیق ثبت کر دی جب یہ مجلہ راقم السطور کے پاس تبصرہ کرنے کی غرض سے بھیجا گیا ،شمال کا سال 2017-2018 کے شمارہ کی ورق گردانی کرنے کے دوران ہم اس وقت چونکے بنا نہ رہ سکے جس وقت ہماری نظر اس میگزین میں شائع ہونے والی نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ لینے والی ان طالبات کی تصاویر پرپڑی جن میں موجود لڑکیوں کے چہروں پر بڑی بے دردی سے رنگ تھوپ کر یا ان کے چہروں کو مندمل کرکے گہنا دیا گیا تھا ، تصویریں دیکھ کر یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کالج کی نصابی یا غیر نصابی سرگرمیوں میں حصہ نہ لے رہی ہوں بلکہ لڑکی ہونے کے جرم ناکردہ کی سزا بھگت رہی ہوں۔ ہمارے معاشرے میں لڑکیوں کو مقید رکھنا اور ان کو اپنے بھائی بندھوں سے گھلنے ملنے نہ دینے کے عمل کو مذہبی شعائر کی پابندی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمارے مذہب میں خواتین کو نامحرم مردوں سے پردہ کرنے کا حکم ہے، جسکے لئے دوپٹہ ، چادر ، چاردیواری،اوڑھنی ، برقعہ، اسکارف، حجاب ، نقاب، جیسے بہت سے لبادے متعارف ہوئے جن میں شٹل کاک نامی برقعہ اپنی مثال آپ ہے ، ان برقعوں کی آڑ میں جنم لینے والے بہت سے واقعات ایسے ہیں جنہوں نے برقعہ نامی حیا دار لبادے کے تقدس کو پامال کرکے رکھ دیا ، لیکن اس کے باوجود ہماری پردہ دار خواتین ان کا استعمال اپنی عصمت کی حفاظت کے لئے ضروری سمجھتی ہیں ۔ اگر وہ شٹل کاک برقعہ نہ استعمال کرنا چاہیں تو وہ فیشنی برقعے استعمال کرسکتی ہیں ، دوپٹہ یا چادر اوڑھ سکتی ہیں ، حجاب یا اسکارف سے پردہ کرنے کا بھرم قائم رکھ سکتی ہیں، پردہ داری کے تقاضے پوررے کرنے کے لئے کبھی کبھی وہ گھونگھٹ کا بھی سہارا لے لیتی ہیں

آئے ہیں وہ مزار پر گھونگھٹ اتار کے

مجھ سے نصیب اچھے ہیں میرے مزار کے

گھونگھٹ میں منہ چھپانے والی خواتین کسی دلہا کی دلہن لگنے لگتی ہیں ، ان میںسے بعض دلہنیں ایسی بھی ہوتی ہیں جن کو گھونگھٹ اٹھا کر دیکھا جائے تو گھونگھٹ اٹھانے والا چکر ا کر رہ جاتا ہے ۔ ایسے ہی ایک دلہا نے جب اپنی دلہن کا گھونگھٹ اٹھایا تو اس کی اوٹ سے جو چیز نکلی اسے دیکھ کر دلہا چکرا کر گرنے لگا کہ ایسے میں وہ بولی کہ اے میرے سرتاج آپ مجھے حکم کریں کہ میں آپ کے خاندان کے کس کس فرد سے پردہ کیا کروں ، جس کے جواب میں دلہا میاں نے اپنے آپ کو سنبھالتے ہوئے جواب دیاکسی سے بھی پردہ کرو البتہ مجھ سے اپنا منہ ضرور چھپایا کرو،

پردہ جو اٹھادیا گیا ہے

کیا تھا کہ چھپا دیا گیا ہے

پردہ کرنے سے صرف حسن مشرق کا سنگھار یا اس کی حفاظت ہی نہیں ہوتی اس سے وہ عیب بھی چھپ جاتے ہیں جو پردے کے بغیر سامنے آنے سے آشکارا ہوجاتے ہیں ، ترقی یافتہ دنیا میں ایسے ممالک کی کمی نہیں جہاں برقعہ تو برقعہ حجاب اور اسکارف تک پہننے کو قابل تعزیر جرم قرار دیا گیا ہے، پردے کی مخالفت کرنے والے ان ممالک کی خواتین مادر پدر آزادی کی سزا بھگت رہی ہیں ، ہمارے ہاں اللہ کے فضل وکرم سے خواتین کے چہروں کو ڈھانپنے کی روایت نہ صرف قائم اور دائم ہے بلکہ ان کی پردہ داری کے بہانے ہم ان کی بے جان اور بے ضرر تصاویر کو کالا کرنے سے بھی دریغ نہیں کرتے ، یہ بات بعید از حقیقت نہیں کہ پارلیمنٹ میں قوم کے منتخب مرد نمائندوں کی اکثریت ہے جن پر ان بچیوں کے اسکولوں میں داخل ہونے پر پابندی لگ گئی ہے جن کے والدین نے ان پر اعتبار کیا اور ان کو اپنے قیمتی ووٹ سے منتخب کرکے اسمبلیوں میں بھیجا، ہم اس بات کے چشم دید گواہ ہیں کہ دھرنوں کی سیاست نے عمران خان کواقتدار کی کرسی تک پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس سیاست کو کامیاب بنانے کے لئے قوم کی وہ بچیاں بھی تھیں جنہوں نے اپنے دوپٹوں کے پھریرے لہرا کر عمران خان کو وزیر اعظم پاکستان کے منصب پر فائز کروادیا ،اب اس ہی عمران خان کی پارٹی کے با اختیار لوگ لڑکیوں کے اسکولوں کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھنے والے ایم پی ایز کو ان کی آنکھیں نوچ دینے کی تنبیہہ کررہے ہیں ، اگر ایسا کرنے سے قومی غیرت کے تقاضے پورے ہوتے ہیں تو یہ ایک اچھا عمل ہے لیکن پی ٹی آئی کے ماضی قریب میں جھانکنے سے ہمیں ان کا یہ عمل ایک کھلا تضاد نظر آتا ہے ۔ اور ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ

منہ چھپانا تھا تمہیں پہلے ہی روز

اب کیا پردہ تو کیا پردہ کیا

متعلقہ خبریں