Daily Mashriq

میدان جنگ کی بجائے امن کی لکیر

میدان جنگ کی بجائے امن کی لکیر

اسلام آباد کے میدان کارزار بننے کے خدشات کے جو بادل مولانا فضل الرحمان کے مارچ اور دھرنے کے باعث برسنے کو تیار تھے خدا کا شکر ہے چھٹتے نظر آرہے ہیں ۔مولانا جس رفتار اور انداز سے اسلام آباد کو چلے تھے اسے دیکھ کر یہ انداز ہ ہورہا تھا کہ کسی نہ کسی مرحلے پر وہ حکومت و ریاست کے ساتھ ٹکرا جائیں گے ۔لہجوں اور طرز گفتگو سے آمدہ حالات اور حکمت عملی کا کسی حد تک اندازہ لگایا جا سکتا ہے مگر مولانا کے دھرنے میں یہ اندازہ غلط ثابت ہوا ۔آزادی مارچ اسلام آباد میں داخل ہوا تو مولانا کے لہجے کی تلخی کچھ اور بڑھ کر سامنے آئی شاید یہ ہجوم بے کراں کو دیکھنے کا اثر تھایا وہ پہلے مرحلے پر جارحانہ انداز اختیار کرکے اپنی سودے بازی کی طاقت کو بڑھا نا اور حکومت و عسکری قیادت کو دبائو میں لانا چاہتے تھے۔ ان کی پہلی تقریر نے ہی ملک کی عسکری قوت کے ساتھ ان کی توتکار کا سامان کیا ۔عمران خان کے سیاسی ترجمان اور دست وبازو تو اس بحث میں الجھے ہی تھے مگر مولانا کے پہلے خطاب نے ہی عسکری قیادت کو بھی کچھ وضاحتوں پر مجبور کیا ۔جس کے بعد سے تصادم کے خدشات اور خطرات کچھ اور بڑھ گئے ۔اس دوران پس پردہ رابطوں کا سلسلہ بھی چل نکلا اور مولانا کی دو اہم اتحادی جماعتوں مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی قیادت نے بھی عقابی رویے کا ساتھ دینے کی بجائے فاختائوں کی سوچ کے حق میں اپنا وزن ڈالا ۔مولانا تنہا کوئی فیصلہ کرنے کو تیار نہیں تھے وہ چاہتے تھے کہ ملک کے دو بڑی پارلیمانی جماعتیں ان کے شانہ بشانہ اس سفر میں آگے چلیں ۔دونوں جماعتیں کئی بار اقتدار میں رہ چکی ہیں اور اس وقت بھی منتخب ایوانوں میں بڑی شراکت دار ہیں ۔سینیٹ میںڈپٹی چیئرمین اور سندھ کی وزارت اعلیٰ پیپلزپارٹی کے پاس ہے تو قومی اسمبلی اورسینیٹ میں قائد حزب اختلاف کے مناصب مسلم لیگ ن کے پاس ہیں ۔دونوں جماعتوں کی قیادت اس وقت مشکلات کا شکار ہے ۔میاں نوازشریف اور آصف زرداری جیلوں میں ہیں اور صحت کی اچھی کیفیت میں نہیں ۔ان جماعتوں کے کئی دوسرے راہنما مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔اس لئے ان جماعتوں کے حالات مولانا فضل الرحمان سے قطعی مختلف تھے جن کے پاس کھونے کو کچھ بھی نہیں تھا ۔ان دونوں زمانہ شناس جماعتوں نے بہت حکمت اور خاموشی کے ساتھ مولانا سے یک جہتی کا اظہار بھی کیا اور ان سے اپنے راستے الگ بھی رکھے ۔اسی دوران آئی ایس پی آر کے دوٹوک بیان نے حالات کا منظر بڑی حد تک واضح ہوگیا ۔میجر جنرل آصف غفور کی اس وضاحت سے کہ فوج سول حکومت کے تابع ہے یہ اشار ہ دیا کہ اس دھرنے کو کسی بھی سطح پر پردے کے پیچھے سے حمایت حاصل نہیں۔اول تو یہ تاثر کہیں موجود نہیں تھا اور کہیں موجود بھی تھا تو آصف غفور کے بیان کے بعد دور ہوگیا ۔جس کے بعد حکومت اور مولانا کے درمیان ڈیڈ لاگ بڑھنے اور ایک تصادم کے امکانات زیادہ واضح طور پر نظر آنے لگے تھے ۔آئی ایس پی آر کے بیان نے کو لکیر قائم کی تھی وہ جلد ہی تصادم کی بجائے امن کی لکیر بن گئی ۔مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے اپنے پائوں روک لئے اور مولانا کے لہجے میں ایک تبدیلی محسوس کی جانے لگی۔ا س دوران حکومت نے بھی مولانا کے ساتھ بیک چینل رابطوں کا سلسلہ شروع کیاا ور سیاسی مصالحت کار ی کے فن میں ید طولیٰ رکھنے والے چوہدری شجاعت حسین کو بروئے کار لانے کا فیصلہ ہوا ۔چوہدری صاحب نے اپنے روایتی سٹائل میں مولانا کے ساتھ گپ شپ کرکے ان کا غصہ مزید ٹھنڈا کر دیا ۔گزشتہ شب مولانا نے اگلے لائحہ عمل کے لئے جو خطاب کیا اس میں وزیر اعظم اور سویلین بالادستی کے حوالے سے اپنے روایتی موقف کا اظہار تو لگی لپٹی رکھے بغیر کیا مگر اس گفتگو میں اشتعال اور غصے کا گراف بڑی حد تک گر چکا تھا ۔اب مرنے والے جذبات کی جگہ مدلل انداز سے اپنے جذبات کا اظہار کیا جا رہا تھا ۔ایک سیاسی راہنما اپنی پرامن اور طویل جدوجہد کے خدوخال بیان کر رہے تھے اور اس میں کہیں قانون اور آئین کی حدود سے باہر نکلنے کا جذبہ غالب نہیں تھا ۔وہ اپنے پیروکاروں اور خود اپنی امن اور آئین کے ساتھ وابستگی کی طویل تاریخ بیان کر رہے تھے ۔مولانا کے اسی خطاب سے تصادم کے سائے چھٹنے کے آثار پیدا ہو رہے تھے ۔اب یہ طے ہورہا ہے کہ آزادی مارچ معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ڈی چوک کی طرف بڑھنے سے گریز کرے گا اور معاملہ موجودہ جلسہ گاہ میں رفع دفع ہوجائے گا۔انہوںنے ڈی چوک کے ماضی سے اظہار نفرت کرتے ہوئے اسے خرافات کی جگہ قرار دیا ۔بظاہر تو ان کا اشارہ عمران خان کے ڈی چوک دھرنے کی طرف تھا مگر حقیقت یہی ہے کہ ڈی چوک چونکہ اقتدار کے ایوانوں کے قریب واقع ہے اور ان ایوانوں میں کیا گل کھلائے جاتے رہے ہیں یہ تاریخ کا حصہ ہے ۔اقتدار کے ایوانوں میں معاشرتی اقدار اور روایات کے ساتھ کیا ہوتا رہا ہے اس نے واقعی ڈی چوک اور اس کے گرد ونواح کو خرافات کا مقام بنا رکھا ہے ۔اچھا ہوا مولانا نے اس'' بدنام'' اور'' خرافاتی'' مقام کی طرف بڑھنے سے گریز کا راستہ اپنا یا۔مولانا نے اپنے دھرنے کو آخری معرکہ بنا کر ساری توانائی یہیں ختم کرنے کی بجائے اپنے پیروکاروں کو جدوجہد کے کئی مراحل کے لئے ذہنی طور پر تیار کرنے کا آغاز کیا۔اب وہ اسلام آباد سے پرامن انداز میں واپسی کا رختِ سفر باندھ لیں گے تو حکومت اور مولانا دونوں کے لئے ضروری ہے کہ ''کیا کھویا کیا پایا '' کی بیلنس شیٹ مرتب کریں۔

متعلقہ خبریں