Daily Mashriq

ناموس رسالتۖکی آڑ میں

ناموس رسالتۖکی آڑ میں

سیاست اور جمہوریت میں سیاسی جماعتوں کے ایک دوسرے سے اختلافات اور الزامات عام سی بات ہے یہ مذہب میں بھی ہوتا ہے جہاں سے جمہوریت پروان چڑھی ہے اور ہمارے پڑوس میں بھی ہوتا ہے جو دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار ہے۔ لیکن ہمارے ہاں جمہوریت کی عجیب داستان ہے ۔ یہاں کے سیاستدانوں کو جمہوریت اور جمہوری روایات اُس وقت تک عزیز ہیں جب تک وہ خود اقتدار میں ہوں،لیکن جب کبھی اقتدار سے باہر ہوں یا حزب اختلاف کی نشستوں پر بیٹھنا پڑے تو اُس وقت حزب اقتدار میں اپنے سیاسی مخالفین پر جتنے الزامات لگا سکتے ہوں اُس سے گریز نہیں کرتے پھر جب یہ سیاستدان لڑتے لڑتے پوائنٹ آف نوریٹرن پر پہنچ جاتے ہیں تو پھر اپنے مخالفین کو زچ کرنے نقصان پہنچانے اور اقتدار سے ہٹانے کیلئے اسٹیبلشمنٹ سے ہاتھ ملانے میں کوئی عار اور باک نہیں سمجھتے ۔اسی کے نتیجے میں بادل نخواستہ جب ملکی سلامتی وحفاظت کی نظر سے پاک افواج ٹیک اوور کرلیتی ہے تو ان ہی سیاستدانوںکی جماعتوں میں سے ٹوٹ ٹوٹ اتنے ستارے مارشل لاء والوں کے ارد گرد جمع ہو جاتے ہیں کہ ایک نئی سیاسی جماعت وجود میں آجاتی ہے یہ ایوب خان کے کنوینشن مسلم لیگ سے لیکر ق لیگ تک کی صورت میں پاکستان کی سیاسی تاریخ کا حصہ بن چکا ہے اس کے علاوہ ذوالفقار علی بھٹو سے لیکر نوازشریف اور چودھری شجاعت حسین اور ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی اور جے یو آئی تک سب مارشل لاء لانے والے جرنیلوں کی خوان نعمت سے یہ فیضیاب ہوتے رہے ہیں۔اور یہ بھی قابل برداشت ہے کیونکہ ملک اپنا،فوج اپنی اور سیاستدان اپنے سیاستدان جب آپس میں کسی نقطہ اتفاق وسمجھوتہ پر نہیں پہنچتے تو جرنیل صاحبان اُن کو آرام کرنے کا مشورہ دینے حاضر ہو جاتے ہیں اور سیاستدان چند برس آرام کرنے کے بعد تازہ دم ہو کر جمہوریت کے غم میں گھل گھل کر وہ جماعتیں جو حزب اقتدار اور اختلاف میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کو برداشت کرنا بھول جاتے ہیں دوبارہ ایک ہو کر کبھی پی این اے کبھی ایم آرڈی اور کبھی موجودہ اسلام آبادی آزادی مارچ اور دھرنا میں اکٹھے ہوجاتے ہیں اور اس کا سارا وبال عوام بیچاروں پر پڑتا ہے ۔یہ بھی قابل برداشت ہے کہ چلو کہنے کو جمہوریت میں اس کی بھی گنجائش نکل ہی آتی ہے لیکن تکلیف اور شدید تکلیف اور ذہنی وروحانی کوفت اُس وقت ہوتی ہے جب جمہوریت کے درد میں ذاتی انا ،مفادات اور سیاست کرنے کی آڑ میں مذہبی کارڈ اور وہ بھی بہت نازک اور حساس شکل میں استعمال کیا جاتا ہے ۔اس دھرنے میں موجود مدارس کے نوجوان طلبہ سے جب میڈیا کے لوگوں نے یہ سوال کئے کہ آپ لوگ یہاں کس مقصد کے لئے ہیں! تو اُنہوں نے بغیر سوچے فوراً جواب دیتے ہوئے کہا کہ''ہمیں اپنے قائدین'' نے بتایا ہے کہ یہ شخص (عمران خان)گستاخ رسولۖ صحابہ اور یہودیوں وقادیانیوں کا ایجنٹ ہے لہٰذا ان کا اقتدار سے ہٹانا لازمی ہے خواہ اس کے لئے سال بھر یہاں دھرنا دینا پڑے یا جنگ لڑنی پڑے یہ وہ نکات ہیں جو ہماری سیاسیات کے لئے مشکلات پیدا کرنے کا باعث بنتی ہیںیہی وہ باتیں ہیں جو مغربی میڈیا تک پہنچتی ہیں تو اُن کے کان کھڑے ہوجاتے ہیں کہ ان مدارس میں جب ایسے لوگ تیار ہوتے ہیں جو اپنے وزیراعظم پر سیاسی اختلافات کے باعث اتنا بڑا الزام لگاتے ہیں تو ناموس رسالت قانون کا پاکستان کے غیر مسلموں کے خلاف تو بدرجہ اولیٰ استعمال ہو سکتا ہے ۔تب حکومت پاکستان پر دبائو آتا ہے کہ اس قانون کو ختم کیا جائے۔ اسی طرح پچھلے دن دھرنا کے سٹیج سے وزیراعظم کے خلاف عوام کو اُکسانے وبھڑکانے کی غرض سے کہی گئی بات کہ9نومبر تو علامہ اقبال کی پیدائش کا دن ہے لیکن عمران خان سکھوں کے لئے کرتارپور راہداری کا افتتاح کرنے جارہے ہیں اگر یہ بات واقعی اقبال کی محبت وعقیدت میں کی جاتی تو قابل تحسین تھی،لیکن اس سے بہت پہلے نواز شریف کے دور حکومت میں محمد اقبال کے یوم پیدائش کی چھٹی ختم کرائی گئی ،علامہ اقبال کو پاکستان کے تعلیمی اداروں اور نصاب سے بہت خاموشی کے ساتھ نکالا گیا ،کہیں سے بھی کوئی آواز نہیں اُٹھی۔کاش! ہم مذہبی ،قومی اور انسانی معاملات میں سیاست سے ذرا ہٹ کر الگ ہوتے۔۔ورنہ اس میں بھی شک نہیں کہ سکھوں کے لئے راہداری بھی سیاست اور خارجہ پالیسی کا حصہ ہے اس لئے نریندرمودی کو اس پر سخت تکلیف ہے۔اگر نیت صحیح ہو تو علامہ اقبال اور کرتارپور راہداری کے درمیان بھی قدرمشترک اس طرح تلا ش کی جاسکتی ہے کہ علامہ محمد اقبال نے گورو نانک کی تعلیمات وفلسفہ کو اُس دور آشوب میں توحید پر مبنی ہونے کے سبب سراہا ہے۔اور''نانک'' کے عنوان سے ایک نظم لکھی ہے جس میں گورونانک کو مئوحد پکار کر آپ کو پنجاب سے توحید کی صدا قرار دیا ہے اور برہمنی ذہنیت کے خلاف حق کی آواز کہا ہے

آہ شعور کے لئے ہندوستان غم خانہ ہے

درد انسانی سے اس بستی کا دل بیگانہ ہے

پھر اُٹھی آخر صدا تو حید کی پنجاب سے

ہند کو اگر مرد کا مل نے جگایا خواب سے

لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ ناموس رسالتۖ جیسے اہم ترین موضوع اور ایشو کے ذریعے ذاتی انا وسیاست کا سکور نہ کیا جائے ۔اس کے بے جا استعمال سے ملک کے اندر اورباہر بڑے مسائل پیدا ہونے کا اندیشہ ہوسکتا ہے ۔عمران خان کو ہٹانے گرانے کے لئے اور سوبہانے سو تراکیب اور سو دلائل تراشے جا سکتے ہیں ۔لہٰذا مذہبی کارڈ حقیقی معنوں میں دفاع ناموس رسالتۖ کے لئے محفوظ رکھیں۔

متعلقہ خبریں