Daily Mashriq

جڑواں شہر وں کے چھوٹے شہر

جڑواں شہر وں کے چھوٹے شہر

کہنے کو تو انہیں جڑواں شہر کہتے ہیں،مگر یہ قصہ اب قصہ پارینہ میں شمار ہوتا ہے کیونکہ اب اردو کے مشہور زمانہ ناول آنندی کی کہانی کی مانند اس کے ارد گرد کئی نئے شہر آباد ہوگئے ہیںبلکہ مزید کئی بستیاں بنتی چلی جارہی ہیں جو آہستہ آہستہ بستیوں سے خود بخود چھوٹے چھوٹے شہروں میں ڈھل جائیں گی اور جس تیزی سے تعمیرات جاری ہیں شاید ایک دور ایسا بھی آجائے جب ان شہروں کے باسیوں کی آنے والی نسلیں یہ سوال اٹھانے پر مجبور ہو جائیں کہ''شہر کے بیچوں بیچ یہ پارلیمنٹ''کس نے بنا کر ہم پر مسلط کردی ہے؟تاہم ایسا شہر آنندی کی طرح اگلی کسی صدی میں ہو سکے،فی الحال تو عمارتیں بن رہی ہیں،پلازے کھڑے ہورہے ہیں،بڑے بڑے شاپنگ مالز آنے والے دنوں میں یورپ امریکہ اور خلیجی ممالک کے مالز کو شرمندہ کرنے کی تیاریاں پکڑے ہوئے ہیں،جبکہ جڑواں شہروں اور ان نئی بستیوں کے سماجی''ماڈلز کا جائزہ لیا جائے تو ان میں بھی ایک واضح فرق دکھائی دیتا ہے،چہ جائیکہ ان کا ملک کے دوسرے شہروں خصوصاًہم جسے پشاور کے لوگوں کی طرز زندگی کے ساتھ تقابل کیا جائے تو سچی بات ہے کہ ہم تو خود کو ان کے سامنے' 'پینڈو'' دکھائی دیتے ہیں۔ان نئی بستیوں یا مستقبل کے شہروں ہی کے حوالے سے کسی شاعر نے شاید کہا ہوگا کہ

میں نے اس کو اتنا دیکھا جتنا دیکھا جا سکتا تھا

لیکن پھر بھی دوآنکھوں سے کتنا دیکھا جا سکتا تھا

جی ہاں،میں گزشتہ دو دن سے جڑواں شہروں کے متصل دو نئی بستیوں کے نظارے کررہا ہوں جن میں سے ایک تو ملک کے کئی حصوں میں ایک چین کی صورت اگنے والی بستیاں بحریہ ٹائون اور دوسری بستی ڈی ایچ اے ہے جو راولپنڈی اسلام آباد کے جڑواں شہروں کے سنگ بھی اپنی چھب دکھلا رہی ہیں اور کہیں کہیں ایک دوسرے کے ساتھ بھی دریا کے دو کناروں کی مانند ساتھ ساتھ چلتی ہوئی ایک دوسرے میں دریا کے پانی کی طرح مدغم ہونے کی داستان رقم کر رہی ہیں،کہنے کو تو یہ نئی بستیاں ہیں مگر لفظ بستی شاید ان کی وسعت کے سامنے پانی بھر تی دکھائی دیتی ہے۔البتہ جڑواں شہروں کی نسبت ان نئی آبادیوں کی سماجی زندگی محولہ شہروں کے مقابلے میں ایک بالکل نئی صورتحال کی نشاندہی ضرورکرتی ہیں،اسلام آباد اور راولپنڈی میں زندگی جس قدر تیز ہے نئی آباد ہونے والی ان سو سائیٹیوں میں اس تیزی کا عشر عشیر بھی دکھائی نہیں دیتا کہ وہاں حرکت تیز تر ہے جبکہ یہاں ایک خاموشی،سناٹا،سکون اور سکوت کا عالم دکھائی دیتا ہے،یہ بھی نہیں کہ ان تازہ بستیوں میں خدانخواستہ موت کا سا سکوت چھایا ہوا ہے مگر اس قسم کی نئی کالونیوں(جنہیں کالونی کہنا خود کی شرمندگی کا باعث ہوسکتا ہے)کی ڈیزائنگ ہی ان کو تعمیر کرنے کا خواب دیکھنے والوں نے یوں کی ہے کہ جو لوگ بڑے شہروں کے ہنگاموں اور ہائو ہو سے تنگ آچکے ہوں ان کو ایک پرسکون ماحول فراہم کردیا جائے،اس لیئے دن کے اوقات میں تو یہ شہر جہاں جہاں کمرشل سرگرمیوں کے حوالے سے دفاتر اور دکانیں موجود ہیں وہاں قدرے رونق ضرور رہتی ہے جبکہ شام کے بعد شاپنگ کیلئے دکانیں رش سے بھر جاتی ہیں مگر رہائشی علاقوں میں سرگرمیاں قدرے کم ہو جاتی ہیں البتہ خواتین اور بچے اپنے گھروں سے نکل کر یا تو چہل قدمی کرتی نظر آتی ہیں یا پھر سڑک کنارے بیٹھ کر گپ شپ کر تی دنیا ومافیہا سے بے خبر دکھائی دیتی ہیں،انہیںکوئی خوف نہیں کہ خدانخواستہ انہیں کوئی آکر پریشان کرے گااسی طرح صفائی ستھرائی کا بھی نہایت خوبصورت سسٹم ہے اورگھروں کے باہر بڑے بڑے ڈسٹ بن موجود ہوتے ہیں،قریبی گھروں کے مکین اپنے گھروں کی باقیات یعنی کوڑا کرکٹ،کچرا وغیرہ ان میں ڈال دیتے ہیں جہاں سے سوسائٹی کی گاڑیاں یہ باقیات اٹھا کر لے جاتی ہیں البتہ مکینوں کو معمولی رقم بطور معاوضہ یا اخراجات دینا ہوتی ہے۔تاہم جہاں تک ان بستیوں کی مجلسی زندگی کا تعلق ہے شاید ثقافتی سرگرمیوں کے حوالے سے بانجھ پن ان کا خاصا ہے،ممکن ہے آگے چل کر کوئی صورت ایسی ضرور نکل آئے جب ثقافتی سرگرمیوں کی ابتداء ہوسکے،شنید ہے کہ شاید سنیما بنانے کا پروگرام تو ہے،اسی طرح اگرچہ شعراء وادباء تو موجود ہیں مگر ان کی جانب سے تادم تحریر کسی قسم کی ادبی سرگرمیوں کی اطلاع سامنے نہیں آئی۔نہ کوئی ایسا کلچرل کمپلیکس(فی الحال) دکھائی دیتا ہے جہاں ادبی،ثقافتی سرگرمیاںکی جا سکیں۔ایک اور اچھی بات ٹرانسپورٹ کا شٹل سروس ہے جو لوگوں کو ایک سرے سے دوسرے سرے تک لانے لیجانے، ضروریات زندگی کے حصول اور مارکیٹوں تک پہنچانے میں مددگار ہے گویا ان بستیوں کے قیام کا خواب دیکھنے والوں نے اپنے خوابوں کی تعبیر کا بہترین اہتمام کیا ہے یعنی بقول احمد فراز

دیکھو یہ میرے خواب تھے،دیکھو یہ میرے زخم ہیں

میں نے سبھی حساب جاں بر سر عام رکھ دیا

متعلقہ خبریں