Daily Mashriq

پطرس بخاری کے دور۔۔ اور آج کے کتے

پطرس بخاری کے دور۔۔ اور آج کے کتے

ہمارے یہاں تو کتوں کو کوئی خاص اہمیت نہیں دی جاتی لیکن انگریزی زبان میں کتوں کو کافی اہمیت حاصل ہے ، انگریزی کے کئی مہاوروں میں کتے کو استعمال کیا گیا ہے،کتے کی اس فرنگی زبان میں اہمیت کو دیکھتے ہوئے جب انہوں نے ایک کارٹون میں ہمارے پیارے وطن کو یا ہمارے صدر مملکت کو کتے سے تشبیہ دی تھی تب بھی ہم نے برا نہیں منایا تھا کہ ان کے ہاں کتا ایک اچھی بات سمجھا جاتا ہے کسی کو کتا کہنا اس کی دوستی اور وفاداری کو ظاہر کرتا ہے۔ کتے پر لکھنے کی جرأت تو ہم نہیں کر سکتے کیونکہ ہمارے یہاں بلکہ دنیا جہاں کے کتے پہلے ہی ہمارے پیارے شہر پشاور سے تعلق رکھنے والے مشہور و معروف سیاست دان محترم پطرس بخاری سے سخت نالاں ہیں ، کیاکہا کہ پطرس بخاری صاحب سیاست داں نہیں تھے بلکہ ادب کی دنیا کے بے تاج بادشاہ تھے ، انہوں نے شاندارو لازوال ادب تخلیق دیا اور اس سے بھی بڑھ کر ریڈیو پاکستان کو بھی اپنی بلندیوں تک پہنچانے میںان کی خدمات کو بھلایا نہیں جاسکتا ، مگرمحترم پطرس بخاری صاحب کی ان ساری خوبیوں کے ساتھ ساتھ وہ سیاست دان بھی تھے اگر نہیں تھے تو انہوں نے کتوں کو سیاست کیوں سکھائی پطرس بخاری کی تحریر ''کتے '' سے پہلے میرے شہر کے یہ سادہ لوح کتے انگریزی زبان کے اس مہاورہ '' بھونکنے والے کتے کاٹتے نہیں''کے مصداق ایک وقت میں ایک کام کرتے تھے یا یوں کہا جائے کہ کتوں کے صرف دو گروہ تھے ایک خونخوار کتوںکا گروہ تھا جو صرف کاٹتے اور لوگوں کو نقصان پہنچاتے تھے، جابجا بھونکنا ان کے مزاج میں نہیں تھا یوں اپنی اس خوبی کی وجہ سے حفظ ماتقدم کے طور لوگ ان سے دور رہتے ہوئے محفوظ رہتے تھے اور دوسرا گروہ صرف بھونکنے والے کتوں کا تھے جو صرف بھونکتے تھے ڈراتے تھے مگر کسی کو کاٹتے نہیں تھے، کسی کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتے تھے یعنی کہ امن پسند کتے،اس طرح کے کتے ہمارے گلی محلوں میں عام تھے نئے آنے والے ان کے بھونکنے سے ڈر جاتے بالخصوص بھکاری اور چھابڑی والے۔ان کتوں میں کچھ قوم پرست کتے ہیں جو کوٹ پتلون والوں پر بھونکتے ہیں۔ چونکہ ہم ان کی اس خوبی نما خامی سے اچھی طرح واقف تھے لہٰذہ ہم محلہ والے امن و سکون سے آتے جاتے۔لیکن اس عظیم لکھاری نے ان دونوں گروہوں کو جگا دیا ان کے اندر کے کتے کو اپنی بھر پور صلاحیتوں سے آگاہی بہم پہنچا دی۔گو ہم مانتے ہیں کہ پطرس بخاری خود بھی کتوں سے بہت نالاں تھے اوراپنے اسی مضمون میںالتجاء کی ہے کہ ''خدا اگر انہیں کچھ عرصہ کے لئے اعلیٰ قسم کی بھونکنے اور کاٹنے کی صلاحیت انہیں عطا ء ہوتو جنون انتقام ان کے اندر بھی موجود تھااس انتقام کے بعد تمام کے تمام کتے علاج کے لئے کسولی پہنچ جائیں''۔

لیکن پطرس بخاری کے مضمون کے بعد یوں کتوں نے انگریزی مہاورہ کی دھجیاں اڑادیں کب یہ بھونکنے والے کتے بھونکنا بند کردیں اور کاٹنا شروع کردیں اب یہ سراسر ان کا استحقاق تھا لہٰذہ یہی ہوااب وہ بھونکنے اور کاٹنے جیسے دونوں کام کرتے ہیں او جب ضرورت پڑتی ہے بھونکنا بند کردیتے ہیں اور کاٹنا شروع کردیتے ہیں، ا ب ان سے بچ کر حضرت انسان کہاں جائے اب کون کس پر اعتبار کرے گا اور کتوں کی بھونکنے والی اور کاٹنے والی نسلوں سے بچائو کیونکر ممکن ہو گا یہاں تو سلوتری حضرات بھی بے بس ہیں، کیونکہ ان کا کہنا ہے بھئی جائیں اس کتے کو پکڑ کر ہمارے مطب میں لائیں تاکہ ہم ان کا تجزیہ کرسکیں اب اگر اتنی ہمت و جرأت ہم میں ہوتی تو ہم وہیں نہ اس کے ساتھ حساب بیباک کر لیتے۔

اب اگر کوئی کہے کہ اس میں محترم پطرس بخاری کا کیا قصور کیونکہ کتوں میں تو یہ خوبیاں قدرت نے پیدائشی رکھی تھیں لیکن پطرس بخاری صاحب کوہم اس لئے دوشی سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کتوں کو ان کی ا ن خوبیوں سے آگاہی دلائی۔ اس سے پہلے کتے نہیں جانتے تھے کہ وہ ایک طرز سے دوسری طرز میں باآسانی آجاسکتے ہیں اور اس حرکت کے لئے انہیں کسی سے پوچھنے تک کی بھی چنداں ضرورت نہیں۔ پہلے یہی کتے گلیوں میں پھرتے تھے اور ہم انہیں کچھ بھی نہیں سمجھتے ہوئے آتے جاتے تھے کیونکہ ''گھر کے بچھڑے کے دانت نہیں گنے جاتے '' کے مصداق ہم ان کی تمام تر جرأت وہمت سے واقف تھے ان کی کیا مجال کہ ہمیں کچھ کہہ سکیں۔ پطر س بخاری اس کے لئے قصور وار ہیں کہ یہی شق سقراط پر بھی لگی تھی سقراط کا جرم یہ نہیں تھا کہ اس کی سوچ خطرناک تھی بلکہ اس کاقصور یہ تھا کہ وہ سوچنا سکھاتا بھی تھااس کے زیر اثر ایتھینز کے نوجوان اپنے زنگ آلود عقائد اور دیمک زدہ روایات پر سوالا ت اٹھانے لگے تھے۔عقائد اور روایات پر ضرب پڑے تو حکمرانوں کے ایوان ضرور لرزتے ہیںنتیجہ یہ کہ سقر اط کو زہر کا پیالہ پینا پڑا مگر اس سے پہلے وہ ایسی دانشگاہ قائم کر چکا تھا جس کے فیض سے افلاطون اور ارسطور نے جنم لیا جن کے خیا لات اور افکاراگلے ڈیڑھ ہزار سال تک انسانی علم ، سوچ اور فن کی بنیاد ٹھہرے۔ خدارا ہمارے اس کالم کو کسی طور پطرس بخاری کی شان میں گستاخی نہ گنا جائے اور نہ ہی اسے آج کے کسی سیاست دان سے تشبیہ دی جائے یہ سراسر میرا اپنا خیال ہے اور اس میں کسی قسم مماثلت محض اتفاقی ہوگی۔

متعلقہ خبریں