Daily Mashriq

پولیس فورس سے حساب بھی لیا جائے

پولیس فورس سے حساب بھی لیا جائے

سٹی پٹرولنگ فورس کو بیالیس جدید موٹر سائیکلوں کی فراہمی جہاں فورس کو مضبوط کرنے کا حامل قدم ہے وہاں حکومت کو اس امر پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ ہر بار مختلف ناموں سے فورس بنا کر اور ان کو موٹر سائیکلیں دے کر حکومت ان سے جو توقعات وابستہ کررہی ہے اور عوام ان سے جو توقعات وابستہ کرتے ہیں پولیس فورس ان پر پورا اترنے میں کامیاب کیوں نہیں ہوتی۔وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا اگر رپورٹ طلب کریں اور اس معاملے کا جائزہ لیں کہ پولیس فورس میں وقتاًفوقتاً بھرتیاں ہوتی رہی ہیں اور پولیس کو جو گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں دی جاتی رہی ہیں وہ پہلے سال ہی منظر سے غائب کیوں ہوجاتی ہیں اور نئے سرے سے انتظامات کی ضرورت کیوں پڑتی ہے ۔سٹی پٹرول کو جو گاڑیاں دی گئی تھیں ابتدائی مہینوں میں تو یہ گاڑیاں سڑکوں پر نظر آئیں اس کے بعد یہ گاڑیاں آہستہ آہستہ غائب ہوتی گئیں اب یہ کبھی کبھار ہی نظر آتی ہیں حکومت نے جو موٹرسائیکل سوار دستے قبل ازیں متعارف کرائے تھے اب وہ باقی کیوں نہیں پولیس حکام ہر بار وسائل کے حصول اور بھرتیاں کرنے کے بعد فورس کو منظم اور جاری کیوں نہیں رکھ پائے۔حکومت کو اس امر کا بھی خاص طور پر نوٹس لینا چاہیئے کہ پولیس گاڑیوں کا غیر قانونی استعمال نہ ہونے پائے اور یہ گاڑیاں صرف اور صرف گشت ہی کیلئے مختص ہوں اور اسی کی مناسبت سے ان کو ایندھن فراہم کیا جائے اور تمام اخراجات کا پوری طرح آڈٹ کرایا جائے تو پولیس کو یہ رعایت نہیں ملنی چاہیئے کہ وہ کروڑوں کے اخراجات کا حساب بھی نہ دے سکے۔

اضافی عملے کی واپسی کا احسن اقدام

حکومت خیبرپختونخوا کی جانب سے وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ کے بائیس سے زائد اضافی عملے کو سٹب لشمنٹ ڈیپارٹمنٹ کو رپورٹ کرنے کی ہدایت کرنے کا جو احسن اقدام کیا ہے اس سے اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ سرکاری دفاتر میں ضرورت سے زائد ملازمین تعینات ہیں جو صوبے کے خزانے پر اضافی بوجھ ہیں۔سمجھ سے بالاتر امر یہ ہے کہ اتنے سارے ملازمین کو سالہاسال وزیراعلیٰ سیکرٹریٹ میں کیوں رکھا گیا تھا اور ان سے کیا کام لیا جاتا رہا ۔ بہرحال دیر آید درست آید کے مصداق یہ احسن قدم ہے جس کی روشنی میں دیگر محکموں اداروں اور نیم خود مختار اداروں میں بھی عملے کی تعداد اور کام کا جائزہ لیاجانا چاہیئے اور اضافی عملے کو واپس بھجوانے کی ضرورت ہے۔

متعلقہ خبریں