Daily Mashriq

بھارتی سپریم کورٹ کا ناقابل قبول فیصلہ

بھارتی سپریم کورٹ کا ناقابل قبول فیصلہ

بھارت کی ماتحت عدالت نے بابری مسجد تنازعے میں فیصلہ دیا تھا کہ2.77ایکڑ کی متنازعہ اراضی مسلمانوں اور ہندئوں میں برابر تقسیم ہو فریقین کے اس کے خلاف بھارتی سپریم کورٹ سے رجوع پر جو فیصلہ آیا وہ سراسر یکطرفہ ہے جس میں متنازعہ زمین ہندئوں کو فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے مسلمانوں کی اشک شوئی کیلئے مسجد کی تعمیر کیلئے پانچ ایکڑ زمین ایودھیا میں فراہم کرنے کا حکم دیا گیا ہے بھارتی سپریم کورٹ ایک جانب کہتی ہے کہ فیصلہ قانون اور شواہد کی بنیاد پر دیا گیا حالانکہ ایسا نہیں سوال یہ ہے کہ اگر بابری مسجد کی متنازعہ جگہ ہندئوں کی ملکیت تھی تو پھر مسجد کیلئے متبادل جگہ دینے کے حکم کی کیا ضرورت تھی ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کی ماتحت عدالت کا فیصلہ بھی بھارتی مسلمانوں کیلئے اگرچہ قابل قبول نہ تھا لیکن جہاں مسلمان عبادت کرتے تھے اس جگہ کو مسجد کیلئے دینے اورجو ہندئوں کی پوجا پاٹ کی جگہ تھی اسے ہندئوں کے حوالے کرنا تنازعہ کا مناسب حل تھا۔ایک ہی جگہ دونوں مذاہب کے پیروکاروں کا اپنے اپنے عقیدے کے مطابق عبادت اور پوجا پاٹ بھارت میں انتہا پسندہندو برادری برداشت کرنا شروع کرتی تو یہ بھارت میں مذہبی رواداری کی ابتدا ہوتی ۔خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور صدر میںمسجدالدرویش اور چرچ کی متصل عمارتیں مذہبی روادی کی علامت کے طور پر موجود ہیں جہاں کبھی کوئی تنازعہ سامنے نہیں آیا لیکن ہندو معاشرے اور خاص طور پر متعصب بی جے پی دور حکومت میں جہاں راہ چلتے مسلمانوں کو برداشت نہیں کیا جاتا وہاں اس قسم کی توقع ہی عبث ہے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ عدالت کا فیصلہ کم اور متعصب بی جے پی کا فیصلہ زیادہ لگتا ہے جس سے پورے ہندوستان کے مسلمانوں کا غم وغصہ اور دنیا بھر میں مسلمانوں میں تشویش کی لہر فطری امر ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فیصلہ سیکولر بھارت کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کے دعویدار ملک بھارت میں مسلمانوں پر مظالم کی سرکاری سطح پر سرپرستی ہورہی ہے جس کی ذمہ داری وزیراعظم نریندر مودی اور ان کی جماعت بی جے پی پر عائد ہوتی ہے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کا خاتمہ اور کشمیریوں کو اقلیت میں تبدیل کرنے کی سازش بھی دراصل مسلمانوں کے خلاف ہی بھارتی ہندوحکومت کا اقدام ہے۔دنیا کی نام نہاد بڑی جمہوریت میں اقلیتوں کو اب کوئی تحفظ حاصل نہیں دیکھا جا ئے تو انتہا پسند بھارتی حکومت کے مقابلے میں حکومت پاکستان کی وسعت قلبی کا مظاہرہ بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے دن پر کرتارپور راہداری کھولنا اور سکھوں کو اپنے مقدس مذہبی مقام پر آمدورفت کی نہایت آسانیوں کی فراہمی ہے ۔پاکستان اور بھارت کے درمیان یہ فرق دنیا کو نظر آئے تو پاکستان کے بارے میں دنیا کے خیالات ضروربدل سکتے ہیں لیکن آنکھوں پر جہاں تعصب کی پٹی بندھی ہووہاں اس کی توقع کم ہی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قبضے ایودھیا میں بابری مسجد کی شہادت اور ٹرین کو آگ لگانے جیسے سنگین واقعات ہی بھارتی حکومت کی اقلیتی برادری کے خلاف اقدامات نہیں بھارت سکھوں کے مقدس مقام میں فوجی کارروائی اور سکھوں پر بھی زمین تنگ کرنے کا نہ صرف مرتکب رہا ہے بلکہ اب بھی انتہا پسند بھارتی حکومت اور ہندئوں کی کوشش ہے کہ وہ بھارت سے اقلیتی برادری کی شہریت ختم کر کے ان کو بھارت سے جانے پر مجبور کریں بھارت میں جس طرح اقلیتوں کے خلاف گھیرا تنگ کیا جارہا ہے اس کا واحد حل بھارت کی اقلیتی برادری کا اتحاد اور ایک دوسرے کا تحفظ ہے ۔پاکستان کا حالیہ اقدام اور رویہ سکھوں کیلئے خیر سگالی کا ایک واضح پیغام ہے جس کا مثبت جواب بھارت میں سکھوں اورمسلمانوں کے درمیان دونوں کے مفاد اور تحفظ کیلئے ہم آہنگی اور اتحاد کی صورت میں سامنے آنا چاہیئے۔ بھارتی سپریم کورٹ کافیصلہ مسلمانوں کیلئے کسی طور قابل قبول نہیں اس کے خلاف نظر ثانی کی اپیل اور دیگر امکانات کا جائزہ لینے کے بعدمسلمان یقینا اپنا لائحہ عمل طے کریں گے۔عدالت کے حکم کی پابندی بھارتی سرکار کی ذمہ داری ہے لیکن بھارت کے مسلمانوں اور اقلیتی برادری کے حقوق کا تحفظ بھی بھارتی سرکار ہی کے فرائض میں شامل ہے اس فیصلے کے بعد بھی اگر مسلمانوں کو تحفظ نہ دیا جا سکے تو بھارت کو اپنی سیکولر اور جمہوری حیثیت کے دعوے پر نظر ثانی کرنی چاہیئے۔

کرتار پور راہداری افتتاح ،سکھ برادری کی خوشی کا دن

پاکستان کی جانب سے کرتارپور راہداری کھولنے اور بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں مظالم اور بھارتی سپریم کورٹ کے اس موقع پر فیصلے کو اگرچہ ایک ساتھ دیکھا جانا فطری امر تو ہے وطن عزیز میں لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اس کا واضح طور پر اظہار بھی کرتی ہے لوگ اظہار نہیں کرتے اسے محسوس ضرورکررہے ہیں ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستانیوں کو ایسا کرنے کا پورا حق حاصل ہے ۔بھارت کے کردار وعمل کے برعکس پاکستان نے سکھ برادری کے مذہبی مقام کی اہمیت اور ان کو مذہبی رسومات کا موقع دینے کیلئے جو قدم اٹھایا ہے اس کا بھارتی رویئے سے کوئی موازنہ نہیں اور یہ ایک ایسا اقدام ہے جس کے ذریعے پاکستان نے بھارت اور پاکستان سمیت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سکھ شہریوں کا دل جیت لیا ہے سکھ برادری کیلئے کرتارپور خصوصی اہمیت کا حامل مقام ہے۔ہم سمجھتے ہیں کہ پاکستان نے بھارتی حکومت اور قیادت کی طرف سے ناک بھوں چڑھانے کے باوجود کرتارپور راہداری کے افتتاح کو ممکن بنا کر ایک بہت بڑا سفارتی کارنامہ سرانجام دیا ہے اور پاکستان نے عملی طور پر ثابت کردیا ہے کہ پاکستان اقلیتوںکو اہمیت دینے والا ملک ہے اس راہداری کوممکن بنا کر پاکستان نے بھارت پر اخلاقی اور سفارتی برتری حاصل کی ہے۔یہ کوئی پوشیدہ امر نہیں کہ مودی حکومت نے اس منصوبے کو روکنے کے لیے کئی حربے استعمال کیے لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکی۔ پھر اس بات کو بھی ہمیں سمجھنا چاہیے کہ سکھ برادری دنیا بھر میں پھیلی ہوئی ہے ۔ پاکستان کے اندر سکھوں کے تاریخی گردوارے کو سہولیات کی فراہمی نہ صرف پاکستان کے مفاد میں اچھا اقدام ہے بلکہ یہ پاکستان کا بھارت کے خلاف سفارتی محاذ پر بھی ایک غیر معمولی عمل ہے جس کے باعث مودی حکومت کو بہت بڑا دھچکا لگتا ہے۔کرتار پور راہدری پر پاکستان کی ساکھ کو بھرپور فائدہ پہنچے گا اور اقوامِ عالم میں پاکستان کا مثبت تشخص اجاگر ہوگا۔ عالمی برادری پر یہ بات بھی واضح ہوگی کہ امن کے لیے پاکستان زیادہ سنجیدہ ہے۔پاکستان کے اس مثبت اقدام پر بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں یا پھر بھارت میں مسلم برادری کے حوالے سے خیرکے اقدامات کی کوئی توقع نہیں حالانکہ بھارتی حکومت اگر چاہے تو پاکستانی زائرین کوویزے کی شرائط نرم کر کے اور دیگر طریقوں سے سہولیات دے سکتی ہے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذہبی سیاحت کے فروغ کی بڑی گنجائش ہے پاکستان میں سکھوں اور ہندئوں کے کئی اہم اور مقدس مقامات ہیں جبکہ بھارت میں مسلمانوں کی تاریخ کے مطالعے اور بزرگارن دین کے مزارات کی زیارت کے بڑے مواقعے ہیں پاکستان نے کرتارپور راہداری کے ذریعے جو باب کھولا ہے دونوںممالک کا مفاد اسی میں ہے کہ اس موقع کو مواقع میں تبدیل کریں اور دونوں ملکوں کے عوام کو قریب آنے کا موقع دیں اور باہم تعلقات میں بہتری لانے کیلئے بھی ان مواقع کو بروئے کار لائیں۔

متعلقہ خبریں