حامد کرزئی کی حق گوئی ، تا خیر ہی سے سہی

حامد کرزئی کی حق گوئی ، تا خیر ہی سے سہی

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں دہشت گرد تنظیم دولت اسلامیہ (داعش)کی موجودگی کے حوالے سے امریکا پر شبہات کااظہار کرتے ہوئے سوال اٹھایا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اور فوج کی موجودگی میں داعش کیسے پیدا ہوئی۔روسی ٹی وی آر ٹی کو ایک انٹرویو میں حامد کرزئی نے افغانستان کے حوالے سے امریکا کی نئی پالیسی کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اطلاعات ہیں کہ امریکا افغانستان میں داعش کی پشت پناہی کررہا ہے اور شرپسندوں کو اسلحہ فراہم کیا جاتا ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکا امن و استحکام قائم کرنے اور انتہاپسندوں کو شکست دینے کے لیے افغانستان آیا تھے لیکن آج اس سے بھی زیادہ دہشت گردی ہے کیوں؟ جس کے بارے میں ہمیں بات کرنی چاہیے ۔افغانستان کے سابق صدر نے کہا کہ پاکستان بھی افغانستان کا اہم اتحادی ہے اور بہتر تعلقات افغانستان کے مفاد میں ہیں۔سابق افغان صدر حامد کرزئی نے روسی ٹی وی کو انٹر ویو میں جن حقائق کی نشاندہی کی ہے اس سے ذرا بھی اختلاف کی اس لئے گنجائش نہیں کہ یہ حالات و واقعات سے ثابت ہے اگر حامد کرزئی سمیت تخت کا بل پر بیٹھنے والا ہر شخص یعنی فی الوقت اشر ف غنی اس طرح کی مبنی بر حقیقت سوچ رکھے اور اس کے مطابق پالیسیاں ترتیب دینے کی سعی کرے تو نہ صرف افغانستان کی ایک درست سمت متعین ہوگی بلکہ افغان طالبان کے ساتھ ساتھ پاکستان سمیت دیگر پڑوسی ممالک کے ساتھ بھی اس کے تعلقات میں بہتری نہ آنے کی کوئی وجہ نہیں ۔ عالمی سطح پر حالات وواقعات کے تناظر میں اب یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ داعش امریکہ کی پیداوار ہے حامد کرزئی کی یہ بات بالکل درست ہے کہ افغانستان میں امریکہ کی موجودگی میں داعش کیسے وجود میں آئی اور اس کو تقویت پکڑنے سے قبل ختم کرنے یادبانے کی کوئی سنجیدہ سعی کیوں نہ کی گئی ۔ پاکستان میں بھی کبھی کبھار پر اسرار انداز میں وال چاکنگ اور داعش کے جھنڈے لگانے کا واقعہ رونما ہونے کے پیچھے امریکی منصوبہ بندی کا رفرما نظر آتی ہے جس کا واحد مقصدپاکستان کو دبائو میں لانا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو اس قسم کی صورتحال اس وقت پیدا کر دی جاتی ہے جب پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات تنائو کا شکار ہو جاتے ہیں لیکن بہر حال یہ ہمارے اداروں اور حکومت کا فرض ہے کہ وہ پر اسرار انداز میں داعش کی چاکنگ اور جھنڈے لگانے والوں کو بے نقاب کر کے عوام کو بتائیں کہ پس پردہ عناصر کون ہیں اور حقیقت کیا ہے۔ اس ضمن میں کسی مصلحت کا شکار ہونے سے زیادہ اہم عوام کو اعتماد میں لینا اور عوام کا اعتماد بحال کرنا ہے ۔ حامد کرزئی کے انٹر ویو میں اٹھا ئے گئے سوالات اور صورتحال کی نشاندہی اپنی جگہ اس قددر جامع اور چشم کشا ہیں کہ اس پر مزید بات کرنے کی گنجائش نہیں سوائے اس کے کہ افغان صدر اشرف غنی کو یہ یاد دلا یا جائے کہ تخت کابل پر براجمان حامد کر زئی اپنے دور اقتدار میں سار ا ٹوکر ا پاکستان کے سرپر رکھنے کی شہرت رکھتے تھے۔ بعد ازاں بھی افغان قیادت پاکستان ہی کو مطعون کر تی رہی اگر اشرف غنی پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات میں بہتری کے خواہاں ہیں تو مناسب ہوگا کہ وہ اپنے پیشرو کے خیالات سے استفاد ہ کریں اور حقیقت حال کا بروقت ادراک کریں اگر ایسا نہ کیا تو مدت اقتدار کے خاتمے کے بعد اگر حامد کر زئی کی طرح ان کو بھی ادراک ہو جائے تو اب پچھتائے ہوت جب چڑیاں چک گئیں کھیت والی صورتحال ہوگی جس سے افغان عوام کو کوئی فائدہ نہ ہوگا افغان صدر اشرف غنی نے پاکستان کی سیاسی قیادت کی دعوت قبول کرنے کی بجائے فوجی قیادت کی دعوت قبول کر کے پاکستان کا دور ہ کرنے کی حامی بھری ہے اسی مصلحت کا تو اسے ہی علم ہوگا کہ وہ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق کی قیادت میں پارلیمانی وفد کی قیادت کی دعوت کی بجائے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی دعوت کو زیادہ اہمیت کیوں دی۔ بہر حال دعوت قبول کرنے کی زیادہ اہمیت نہیں لیکن دورے کے دوران افغان صدر کس ذہن کے ساتھ آتے ہیں وہ اہمیت کا حامل ہوگا۔ ہم سمجھتے ہیں کہ افغان قیادت جب تک حقیقت حال کا ادراک نہیں کرے گی اور زمینی حقائق کو مد نظر رکھ کر افغان عوام کے مفادات کے تحفظ کو بھارتی دوستی پر ترجیح کا رویہ نہیں اپنائے گی تب تک اعتماد کی فضا پیدا ہونا مشکل ہوگا۔ اشرف غنی کو اس امر پر ضرور غور کرنے کی ضرورت ہے کہ اس سے زیادہ سخت موقف رکھنے والے حامد کرزئی آج جس نتیجے پر پہنچ چکے ہیں وہ بھی چراکارے کند عاقل کہ بازآید پشیمانی کے مصداق نہ بنیں بلکہ اپنے ملک و ملت کے مفاد میں داخلی قوتوں کے ساتھ معاملت میں حقیقت پسندانہ رویہ اختیار کریں۔ ساتھ ہی ساتھ پاکستان کے حوالے سے اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لائیں۔ امریکہ کا افغانستان میں داعش کو سپورٹ کرنے کی منطق سمجھنا زیادہ مشکل نہیں۔ امریکہ کو شاید اس امر کا احساس ہو چکا ہے کہ افغانستان کی حکومت اب داخلی قوتوں کے ساتھ مفاہمت کی سوچ اختیار کرنے والی ہے۔ بنا بریں اس کو اپنی موجودگی اور دنیا کے سامنے استدلال کے لئے داعش کا ہوا کھڑا کرنا پڑا۔ علاوہ ازیں افغان حکومت کو دبائو میں رکھنے کا اب امریکہ کے پاس کوئی راستہ باقی نہیں بچا تھا۔ امریکہ کی کوشش ہوگی کہ اب وہ افغانستان میں ایسے حالات پیدا کرے کہ اس کے انخلا کا مطالبہ نہ کیا جائے۔ اس امر سے افغان حکومت بھی بخوبی واقف ہے کہ امریکہ دنیا میں جہاںبھی گیا آج اس کے اڈے ان ممالک میں موجود ہیں۔ اس ساری صورتحال میں افغان حکومت کے لئے طالبان سے معاملت اور پڑوسیوں سے اعتماد کے تعلقات کا قیام ہی واحد راستہ ہے۔ اگر کابل حکومت چاہے تو حامد کرزئی کے بیان کردہ حقیقت حال کی روشنی میں اشرف غنی دورہ پاکستان کے موقع پر ایک نئی بنیاد رکھ سکتے ہیں۔

اداریہ