یہ سڑکوں پر نکلنے کا وقت نہیں

یہ سڑکوں پر نکلنے کا وقت نہیں

تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے عندیہ دیا ہے کہ ان کو لگتا ہے کہ پاکستان کو بچانے کے لیے ایک مرتبہ پھر سڑکوں پر نکلنا پڑے گا۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ تحریک انصاف 2018میں ہونے والے عام انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ (ن )اور پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی)کو شکست دے کر کامیابی حاصل کرے گی اور اپنی حکومت کے ابتدائی چار سالوں کے دوران ہی پاکستان کی نصف غربت ختم کر دے گی۔تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان کی سیاسی جدوجہد میں جذباتیت اور جذبات کی رو میں بہہ کر خطاب اور دعوے ان کی وہ کمزوری بن چکے ہیں جن پر قابو پانے پرتوجہ کی ضرورت ہے۔ عمران خان کے مخالفین کا اس پر دل جلے قسم کا تبصرہ یہ ہے کہ عمران خان کو سڑکوں پر نکلنے کی دھمکی دینے کی ضرورت اس لئے نہیں تھی کہ وہ پہلے ہی سے سڑکوں پر ہیں۔ بہر حال سیاسی مخالفین کی نوک جھونک سے قطع نظر اگر عمران خان کی سیاست کا معروضی حقائق کی روشنی میں جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آتی ہے کہ تحریک انصاف کی قیادت کوئی لائحہ عمل طے کئے بغیر اور مطلوبہ نتائج کے حصول کی عدم منصوبہ بندی کے ساتھ ایجنڈا دیتی ہے جس کی وجہ سے ان کی کوئی سیاسی تحریک بار آور ثابت نہیں ہوتی۔ ہمارے تئیں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی رخصتی کے معاملے کو کسی سیاسی تحریک کے زمرے میں شمار کرنا توہین عدالت ہوگی۔ عمران خان کو سیاسی تحریک چلانے کا پورا پورا حق حاصل ہے مگر جب بھی وہ کوئی منصوبہ بندی کریں اگر وہ بروقت نفع و نقصان کامیابی و ناکامی کا بار بار مشاہدہ کریں گے تو زیادہ بہتر ہوگا۔ تحریک انصاف کے اس وقت سڑکوں پر نکلنے سے کوئی مسئلہ حل نہ ہوگا اور نہ ہی اس سے مطلوبہ نتائج حاصل ہوسکتے ہیں۔ ہمارے تئیں ایک سیاسی جماعت کے لئے یہ وقت سڑکوں پر نکلنے کا نہیں بلکہ عام انتخابات میں کامیابی کیلئے منصوبہ بندی اور جدوجہد کا ہے۔ اگر تحریک انصاف کی قیادت سڑکوں پر ہوگی تو آئندہ عام انتخابات میں کامیابی کے لئے ہوم ورک کون کرے گا۔ اس موقع پر سڑکوں پر نکلنے کی بجائے رابطہ عوام مہم' جلسے جلوس اور خاص طور پر کارکنوں سے تسلسل سے ملاقاتیں اور مشاورت زیادہ بہتر حکمت عملی ہوگی۔
ایمبولینس کے انوکھے استعمال کا تاخیر سے نوٹس
ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال چترال کے طبی فضلے اور کوڑا کرکٹ کو تلفی کی بجائے دریائے چترال میں بہانے کی ویڈیو کے پھیل جانے پر ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال کے ڈپٹی میڈیکل سپرنٹنڈنٹ اور ان کے دو ماتحت ملازمین کو ملازمت سے معطل کرکے ان کیخلاف انکوائری کا حکم کافی نہیں بلکہ ہسپتال کے ایم ایس کے خلاف بھی کارروائی ہونی چاہئے تھی۔ جو اس امر سے غافل پائے گئے کہ ان کے زیر انتظام ہسپتال کا کوڑا کرکٹ دریائے چترال میں بہایا جا رہا ہے ۔ جس سڑک سے کوڑا کرکٹ پھینکا جاتا رہا ہے وہ زیادہ دور نہیں جبکہ ہسپتال کی ایمبولینس کا اس کے لئے استعمال تو دنیا کو ہنسنے کا موقع دینے کے مترادف ہے۔ بہر حال اگر جگ ہنسائی والی یہ ویڈیو وائرل نہ ہوتی تو شفاف دریائے چترال میں نہ جانے مزید کتنا عرصہ اور طبی فضلہ پھینکا جاتا۔ اس ویڈیو سے یہ شبہ بھی ہوتا ہے کہ شاید اس جگہ پر فضلہ اور کوڑا کرکٹ پھینکنے کا قصور صرف ہسپتال انتظامیہ ہی نہیں کرتی بلکہ پورے شہر کا کوڑا کرکٹ پھینک کر آلودگی پھیلائی جاتی ہے جس سے دریائے چترال کی مشہور و معروف مچھلیوں کی نسل کشی ہونا فطری امر ہوگا۔ علاوہ ازیں اسی پانی کا زیریں علاقوں میں پینے کے لئے استعمال میں لانے کا بھی امکان ہے۔ بہر حال اس پورے واقعے کی انکوائری کے بعد تمام ذمہ دار عناصر کے خلاف کارروائی کی ضرورت ہے۔ چترال کے ضلعی انتظامی سربراہ سے بھی اس ضمن میں باز پرس کی جانی چاہئے کہ ان کو ویڈیو وائرل ہونے سے قبل اس کا احساس کیوں نہ ہوا اور انہوں نے آنکھیں بند کیوں کر رکھی تھیں۔ ہسپتال کے ایم ایس سے ایمبولینس کے اس انوکھے استعمال پر خاص طور پر استفسار کی ضرورت ہے تاکہ اسے لوگ موجودہ حکومت کی صحت کے شعبے میں تبدیلی سے تمثیل نہ دینے لگیں۔ چترال میں کوڑے کرکٹ کو تلف کرنے کے لئے مقامات کی کمی نہیں اگر کمی ہو بھی تو اس کا انتظام چنداں مشکل نہیں۔

اداریہ