تشخص اور تصور پر ڈرون حملے

تشخص اور تصور پر ڈرون حملے

حکومت نے انتخابی قوانین میں تبدیلی کی منظوری کے دوران ہی ختم نبوت سے متعلق حلف نامہ بھی خارج کردیا ۔جس پر ملک میں ایک اضطراب اور بے چینی پیدا ہو گئی ۔اس حلف نامہ میں حلفیہ کے الفاظ حذف کر کے صرف اقرار کرتا ہوںکرتی ہوں کے الفاظ باقی رہنے دئیے گئے ۔ملک میں عمومی طور پر یہی سمجھا گیا کہ حکومت نے امریکہ اور یورپ کو خوش کرنے کے لئے ختم نبوت کو انتخابی قوانین سے خارج کردیا یہ تو اچھا ہوا کہ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کو جلد ہی اپنی غلطی کا احساس ہوگیا اور اس کا نوٹس لیتے ہوئے ختم نبوت سے متعلق قانون کو اصل شکل میں بحال کرکے انتخابی قوانین کا حصہ بنا دیا گیا ۔پاکستان کانام اور دستور اس کے تشخص کی علامت اور عکاس ہے ۔اس کے باوجود''اسلامی جمہوریہ پاکستان ''کو تصوراور تشخص کے بحران سے دوچار کرنے کی کوششیں زوروں پر ہیں۔پاکستان جس خطے میں واقع ہے اس کے مجموعی مزاج اور سماجی اور سیاسی ثقافت کا لحاظ کئے بغیر پاکستان کو تنہا کر کے ایک مخصوص محدب عدسے سے دیکھا جارہا ہے۔بھارت نے اپنا سفر سیکولرازم کے نعروں اور دعوؤ ں سے شروع کیا۔دستور کی لکھی ہوئی کتاب کے برعکس بھارت نے ہر قدم سیکولرازم کی بجائے ہندوازم کی طرف بڑھایا اور اب یہ سفر حتمی منزل کے قریب ہے ۔بھارت میں ایک سخت گیر ہندو جماعت اپنی گرفت قائم کر چکی ہے اور سوسائٹی پر ہندو دھرم کو جبراََ ٹھونسا جا رہا ہے ۔بھارت میں نئے نین نقش کچھ اس انداز سے تراشے اور اُبھارے جا رہے ہیں کہ اس کی ہندو ریاست کی شناخت کھل کر سامنے آئے ۔نریندر مودی نے اس سمت کے سفر میں جو کمی چھوڑی تھی وہ یوپی جیسی اہم ریاست میں یوگی ادتیہ ناتھ جیسے سادھو حکمران پوری کر رہے ہیں ۔یوگی ادتیہ ناتھ کی حکومت نے سیاحوں کی گائیڈ سے تاج محل جیسی خالص رومانوی اور سیاحتی عمارت کو خارج کر دیا ۔یہ تاریخی عمار ت دنیا کا ساتواں عجوبہ ہے اورواقعتا زمین پر انسانی محنت اور ذہن کا ایک شاہکار ہے ۔مدتوں تک یہ بھارت کی پہچان رہا ۔اس عمارت سے کوئی مذہبی داستان اور رزمیہ کہانی وابستہ نہیں ۔اس میں داخل ہونے کے لئے کسی مذہب کی قید نہیں ہوتی مجھے اس تاریخی عمارت کو دیکھنے کا اتفاق ہوا ہے ۔اس کے اندر گھومنے والوں میں مسلمانوں سے زیادہ ہندونمایاں ہو تے ہیں۔اس عمارت کے کسی پہلو سے ہندو ددھرم کی توہین عیاں نہیں ہوتی ۔سوائے اس کے کہ عمارت پر قرآنی آیات اور یہ فارسی اشعار کندہ ہیں ۔

برمزارِ ماغریباں نے چراغ ِ نے گلِ
نے پرِ پروانہ سوزد نے صدائے بلبلِ
یوں تاج محل خالص ایک رومانوی کہانی کا مرکز ہے ۔دنیا بھر سے آنے والے سیاحوں کا مرکز ہونے کی وجہ سے یہ بھارتی معیشت کو سہارا دیتا ہے ۔انسان کے حسن تعمیر اور تدبیر کے اس شاہکار میں واحدخرابی صرف یہ ہے کہ اس کہانی کے کردار وں کے نام مسلمان ہیں ۔ یہ بات اب نئے بھارت میں ریاستی طاقت کو ہضم نہیں ہو رہی۔بھارت میں گائے جیسے جانور کو تقدس کا ایسا جامہ پہنایا گیا ہے کہ انسان بھی گائے کو حسرت اور یاس سے دیکھ رہے ہیں ۔یوں پنڈت نہرو کا بھارت پٹیل کے بھارت میں ڈھل رہا ہے اور ان دونوں سوچوں کا دھاگہ امبیڈ کرکی صورت میں ٹوٹتا جا رہا ہے۔ایک طرف بھارت کو چین کے مقابلے کے لئے عظیم اقتصادی اور فوجی طاقت بنا یا جا رہا ہے تو دوسری طرف بھارت کے ایک ہندو ریاست میں ڈھلنے کو محض اس بنا پر برداشت کیا جا رہا ہے کہ اس جدید دور میں بھارت ان کے نظریہ ٔ ضرورت پر پورا اُترتا ہے۔دوسری طرف پاکستان کو آئینی شناخت سے محروم کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔اس شناخت سے بھارت کو سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اس سے پاکستان بھارت سے الگ اور مختلف دکھائی دیتا ہے۔ہندو اکثریت سے الگ شناخت پر اصرار ہی پاکستان کے قیام کا جواز تھا ۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ یہی نکھرتی اور گہری ہوتی ہوئی شناخت اب بھی پاکستان کو بھارت میں تحلیل ہونے سے بچائے ہوئے ہے۔پنڈت نہرو تو ساٹھ کے عشرے میں پاکستان کو کنفیڈریشن کا دانہ ڈال چکے ہیں ۔ایوب خان نے پنڈت نہرو کی اس پیشکش کو مسترد کردیا تھا ۔پاکستان کی الگ شناخت کو ظاہر کرنے والا اس ملک کا دستوری نام ہے ۔ایک مرحلے پر اچھے بھلے اسلامی جمہوریہ پاکستان کو امریکہ کے پاکستانی سفارت خانے کے دعوت ناموں میں'' ڈومین آف پاکستان''لکھا گیا تھا جب ملک کے اندر اس پر ہنگامہ کھڑا ہوا تو اسے املاء کی غلطی کہہ کر جان چھڑائی گئی ۔ اسی دور میں جب پاکستان کا تصور اور تشخص بیرونی دبائو پر تبدیل کرنے کی چھوٹی چھوٹی اور منتشر مہمات جاری تھیں جنرل اشفاق پرویز کیانی کا ایک بیان سامنے آیا تھا کہ اسلام ہی پاکستان کی بنیاد ہے اور رہے گا۔اس بیان کے بعد فوج نے اپنا وزن واضح طور پر ایک پلڑے میں ڈال دیا تھا ۔موجودہ حکومت نے ختم نبوت کے حلف نامے سے چھیڑ چھاڑ کی تو ایک بار پھر ہنگامہ کھڑا ہو گیا اور حکومت اس دبائو کا سامنا نہ کر سکی اور سپیکر سردار ایاز صادق نے اسے ڈومین آف پاکستان کی طرح'' کلریکل مسٹیک''کہہ کر دامن چھڑا لیا اوریوں شق اصل شکل میں بحال ہو گئی۔تاہم کور کمانڈرز کے اہم اور غیر معمولی اجلاس میں خاموشی کے بعد جب فوجی ترجمان بول پڑے تو اس گفتگو میں ایک جملہ معنی خیز تھا کہ فوج ناموسِ رسالت پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر ے گی ۔یہ محض ایک ترجمان کی بات نہیں تھی بلکہ ایک چھوٹے سے پراسرار سکوت اور توقف کے بعد اجلاس کی بریفنگ ہی تھی ۔حیرت ہے کہ ابھی تک این جی اومافیا نے یہ اعتراض نہیں اُٹھایا کہ فوج ایک پروفیشنل ادارہ ہے اس کا ناموسِ رسالت سے کیا تعلق؟ہو نہ ہو'' ڈومین آف پاکستان'' کی طرح ختم نبوت کی شق میں ترمیم بھی پاکستان کے تصور اور تشخص پر ایک ڈرون حملہ ہی تھا جو ناکام ہوگیا ہے۔ڈرون حملوں کے یہ سلسلے ختم نہ ہوئے تو مغربی بلاک کو خدا حافظ کہنے کے ساتھ ہی کہیں مغربی جمہوریت کا بستر بھی نہ گول ہوجائے۔

اداریہ