''مدتوں ہم کسی منزل کی طرف بڑھ نہ سکے''

''مدتوں ہم کسی منزل کی طرف بڑھ نہ سکے''

ان دنوں ہم بہت سے کام یہ کہہ کر پس پشت ڈال دیتے ہیں کہ پنکھے بند ہوئے تو انشاء اللہ فلاں کام کریں گے آج کا کام کل پر چھوڑنا ایک بہت بڑا عیب ہے بہت سے کام جمع ہوتے رہتے ہیں اور ہم پنکھے بند ہونے کا بہانہ تراشنے سے باز نہیں آتے ۔کل ہمارا چھوٹا بیٹا احتشام کہہ رہا تھا کہ بابا پہلے آپ اے سی بند ہونے کا کہہ کر ہمیں ٹال دیتے تھے اب پنکھوں کا بہانہ بناتے رہتے ہیںگھر کی حالت دیکھی نہیں جاتی اب ڈسٹمپر کروانا بہت ضروری ہے دن روز بروز چھوٹے ہوتے جارہے ہیں اگر ان دنوں ڈسٹمپر کروا لیا جائے تو پنکھے چل رہے ہیں پینٹ جلد ہی سوکھ جائے گا۔ دلیل تو اچھی خاصی تھی لیکن ہم دس بارہ برس کے بچے کے سامنے کیسے ہتھیار ڈال دیتے ! ادھر ادھر سے کھینچ تان کر کچھ اوٹ پٹانگ قسم کے دلائل سے اسے خاموش تو کروادیا لیکن ضمیر کی خلش نے رات بھر بے چین رکھا صبح سویرے اٹھ کر ہم نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ کالا خان استاد کو فون کر کے گھر پینٹ کرنے کا نادر شاہی حکم جاری کردیا۔

اب جناب دوسرے دن کالا خان استاد اپنے دو عدد شاگردوں سمیت آدھمکا، اللہ پاک کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ کالا خان استاد کام بڑی دیانت داری کے ساتھ کرتا ہے اس نے دو چار دنوں میں ہمارے گھر کی جون بدل کر رکھ دی۔ دیواریں تازہ بہ تازہ پینٹ سے جگمگ جگمک کرنے لگیں اس کا یہ کہنا بھی تھا کہ پینٹ سے مچھر اور دوسرے کیڑے مکوڑے بھی مرجاتے ہیں ہم عام مچھر اور کیڑے مکوڑوں کو کب خاطر میں لاتے ہیں البتہ ڈینگی مچھر کی بڑی دہشت ہے اس سے ہماری جان نکلتی ہے اخبار میں روزانہ کی بنیادوں پر یہ ایک عدد جان لے رہا ہے۔ شروع کے چند دن تو خوب ہنگامہ رہا لیکن اب شاید حکومت بھی تھک ہار کر خاموش ہوگئی ہے محکمہ صحت والے بھی سپرے کر وا کر اپنی ساری ذمہ داریوں سے سبکدوش ہوچکے ہیں دراصل بات ڈینگی مچھر تک محدود نہیں ہے اصل چیز احساس ذمہ داری ہے ایسے بہت سے کام ہیں جو ہمارے عدم احساس ذمہ داری کی وجہ سے یا تو رکے رہتے ہیں یا پھر اچھے طریقے سے نہیں ہو پاتے !کل کیلی فورنیا سے ڈاکٹر نیر بشیر نے فون کیا ہم ان سے امریکہ کی باتیں پوچھتے رہتے ہیںان باتوں میں ہمارے سیکھنے کے لیے بہت کچھ ہوتا ہے وہ کہہ رہے تھے کہ امریکہ میں ریٹائرمنٹ کی عمر نہیں ہے ہم تو ساٹھ برس پورے کرکے ریٹائر ہوجاتے ہیں ہمارے یہاں ریٹائر ہونے والے حضرات کی بھی بہت سی قسمیں ہیں ایک تو وہ ہیں جو ریٹائر ہوتے ہی کسی مسجد کا کونا پکڑ لیتے ہیں پانچ وقت باجماعت نماز کا اہتمام کرتے ہیں اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہیں معافی کا معاملہ بھی بڑا عجیب ہے اس حوالے سے حقوق العباد کا معاملہ بہت سخت ہے اگر آپ نے کسی کا حق مارا ہوا ہے مثلاً اپنے کسی بہن بھائی کا جائیداد میں حصہ دبایا ہوا ہے اب آپ اس کا حق تو اسے نہیں لوٹاتے اور اللہ پاک سے خوب معافیاں مانگ رہے ہیں جبکہ صحیح اور درست سمت تو یہ ہے کہ پہلے اپنے بہن بھائی کو اس کا حق لوٹائیں اور اسے اس دوران جس ذہنی اذیت کا سامنا کرنا پڑا ہے اس کی معافی مانگیں اور اللہ پاک سے بھی توبہ استغفار کریں تو پھر امید کی جاسکتی ہے کہ اللہ ہمیں معاف کردے وہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ کچھ لوگ ریٹائرمنٹ کے بعد گھر بیٹھ کر موت کے فرشتے کا انتظار کرنے کی بجائے اپنے آپ کو کسی نہ کسی کام میں مصروف رکھتے ہیںیہ اس مصروفیت کی وجہ سے چاک و چوبند اور بیماریوں سے بھی محفوظ رہتے ہیں لیکن پروفیسر عصمت شاہ کی ریٹائرمنٹ ذرا وکھری ٹائپ کی ہے آپ کیمسٹری کے پروفیسر ہیں آج سے پورے نو برس پہلے گورنمنٹ کالج پشاور سے ریٹائر ہونے کے بعد گھر نہیں بیٹھے اور گورنمنٹ کالج پشاو ر میں ریٹائرمنٹ کے بعدپھر سے کلاسیںلینی شروع کردیں ان کلاسوں کا وہ کوئی معاوضہ نہیں لیتے ان کا کہنا ہے کہ ساری زندگی پیسے لے کر پڑھاتا رہا ہوں لیکن جب سے ریٹائرمنٹ کے بعد بغیر معاوضے کے پڑھانا شروع کیا ہے تو اس کا لطف ہی کچھ اور ہے سکون ہی سکون ہے اللہ نے صحت بھی عطا کر رکھی ہے اور پرسکون زندگی بھی !بات چلی تھی ذمہ داری کے احساس سے ڈاکٹر نیر بشیر کہہ رہے تھے کہ اپنے کام سے لگن اور اپنے فرائض کی بجا آوری کا احساس بڑی بات ہے وہ ایک امریکی انجینئر کے بارے میں بتا رہے تھے کہ اس نے چونسٹھ برس کی عمر میں میڈیکل کالج میں داخلہ لیا ڈاکٹر ی کا کورس مکمل کیا اور ستر برس کی عمر میں مسیحائی کا فریضہ سرانجام دینے لگا اس وقت اس کی عمر 77برس ہے اور وہ آٹھ آٹھ گھنٹے کے طویل آپریشن بحسن و خوبی سرانجام دیتا ہے بس کام کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے ہم سب کے سانس اس دنیا میں مستعار ہوتے ہیں ہر بندہ چاہے وہ حکمران ہو ،امیر ہو یا غریب اس کی حیثیت کچھ بھی ہو اس نے اپنے حصے کا کام سرانجام دینا ہوتا ہے خوش نصیب ہوتے ہیں وہ لوگ جو خدمت اور عبادت دونوں کے قائل ہوتے ہیں ان کی زندگی کے شب و روز بے کار نہیں گزرتے وہ اپنے اردگرد موجود انسانوں کو فیض پہنچانا اپنی زندگی کا ایک اہم فریضہ سمجھتے ہیں جس کے پاس اختیار زیادہ ہوتا ہے وہ بنی نوع انسان کی زیادہ سے زیادہ خدمت کرنے کا اہل ہوتا ہے اور پھر اختیار کا کیا ہے ؟ یہ تو سردیوں کی دھوپ جیسا ہوتا ہے اس کا دورانیہ ناقابل اعتبار ہوتا ہے نجانے یہ کس وقت چھن جائے !اس لیے جو لمحات میسر ہیں انہیں غنیمت سمجھنا چاہیے اور اپنے حصے کے فرائض پورے کرتے رہنا چاہیے۔

اداریہ