فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ناگزیر ہوچکا ہے

فاٹا کا خیبر پختونخوا میں انضمام ناگزیر ہوچکا ہے

اپنی کتاب 'دا پٹھانز' میں اولف کاروئے لکھتے ہیں ''وقتاً فوقتاًپٹھانوں کے اندر ایک ایسی بغاوت جنم لیتی ہے جوجنگل میں لگی آگ کی طرح سرحدی پہاڑوں سے بھی آگے نکل جاتی ہے اور اپنے سامنے آنے والی ہر چیز کو نگل لیتی ہے۔گزشتہ واقعے میں اس بغاوت کے خلاف ردِ عمل سامنے آیا تھا لیکن اس آگ پر مکمل طور پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ یہ آگ اس وقت تک سلگتی رہے گی جب تک کوئی نئی ہوا چلنا شروع نہیں ہوتی ''۔کاروئے کی جانب سے پٹھانوں کے لئے لکھے جانے والے یہ الفاظ پٹھانوں کی بہادری، شجاعت اور باغی طبیعت کا منہ بولتا ثبوت ہیں ۔ اس سے بڑھ کر یہ الفاظ ایک ایسے شخص کی جانب سے لکھے گئے ہیں جو پٹھانوں کے دشمنوں کا سردار تھا اور جسے ان کے ملک پر قبضہ کرنے کے لئے بھیجا گیا تھا۔ ہماری ریاست بھی کاروئے اور کپلنگز جیسے مصنفین کو پڑھتی رہتی ہے تاکہ گورے کی بجائے برائون صاحب پٹھانوں کے علاقوں پر حکومت کرنے کے لئے اپنے گورے آقائوں سے سبق حاصل کرتے رہیں۔اب ہم اپنے ملک کا جائزہ لیتے ہیں جو خود کو گزشتہ 61سال سے ری پبلک کہتا چلا آرہا ہے اور جسے آزاد ہوئے 70 سال گزر چکے ہیں لیکن پھریہ ملک 27,000 مربع کلو میٹر پر پھیلے ہوئے وسیع و عریض علاقے کو آج تک ''فیڈرلی ایڈمنسٹریٹڈ ٹرائبل ایریا ''کہتا ہے۔اس کے علاوہ ہم اس علاقے میں رائج فرنٹیئرکرائمز ریگولیشن کو ایک قانون کہتے چلے آ رہے ہیں جو کہ ایک صریح غلطی ہے کیونکہ یہ کسی بھی حوالے سے قانون کی تعریف پر پورا نہیں اترتا۔ فرنٹیئرکرائمز ریگولیشن 1901ء سے فاٹا میں رائج ہے جسے انگریز بہادر نے اپنے استعماری مفادات کے حصول کے لئے رائج کیا تھا ۔ اس ریگولیشن میں 'کولیکٹیو رسپاسیبلٹی ' کی شق بھی موجودہے جس کے تحت انگریز سرکاراپنے سامنے آنے والے کسی بھی آفریدی کو گرفتار کر لیتی تھے، اس کے مویشی بیچ دیتے تھے اور اسے تجارت سے روک دیتے تھے۔ آج کے جدید دور میں اور ایک آزاد ملک میں ہم نے اس کالے قانون کی کالی شق کا مظاہرہ 10 ستمبر کو اس وقت دیکھنے میں آیا جب لنڈی کوتل میں ایک بم دھماکے کے بعد ایک دس سالہ لڑکے اقتدار کو اس شق کے تحت سلاخوں کے پیچھے ڈال دیا گیا۔ مذکورہ لڑکے کو چند دن پہلے ہی جیل سے رہا کیا گیا ہے۔ ہم نو آبادی دور میں فاٹا میں رائج کئے جانے والے قوانین اور پالیسیوں پر ابھی تک عمل پیرا کیوں ہیں ؟ اس کا ایک ہی جواب ہوسکتا ہے کیونکہ ہم بھی فاٹا کو اسی طرح دیکھتے ہیں جس طرح انگریز اس علاقے کو دیکھتے تھے۔ برطانیہ اس علاقے کو روس کے خلاف بفر زون کے طور پر دیکھتا تھا اور ہم نے بھی اتنے بڑے علاقے کو سوویت یونین کے خلاف ٹیسٹنگ سائٹ کے طور پر استعمال کیا۔ یہ بھی کوئی اتفاق نہیں ہے کہ فاٹا کو گریٹ گیمز کے ایک جنگی میدان کے طور پر دیکھاجاتا ہے جس میں گیم کھیلنے والا امریکی ریاست ورجینیا میں بیٹھ کر ایک جوائے سٹک کے ذریعے لوگوں سے ان کی زندگیاں چھین لیتا ہے۔ امریکی فوج کے ریٹائرڈ جنرل سٹینلے میک کرسٹل کے ایک مشیر نے نیویار کر کو بتایا کہ اگر میں خود کو فاٹا میں رہنے والا ایک باشندہ سمجھوں تو میرے خیال میں یہ بالکل بھی انصاف نہیں ہے کہ ایک جیتے جاگتے شخص کی زندگی پائلٹ کے بغیراڑنے والی مشین کے ذریعے چھین لی جاتی ہے۔ فاٹا میں ڈرونز کے ذریعے انسانی جانوں سے کھلواڑ کسی کی نظر میں بھی قانونی یا مبنی بر انسانیت نہیں ہے۔ لیکن فاٹا کے عوام کے تحفظات کون سنے گا ؟ ہمارے ملک میں کوئی بھی صاحبِ اقتدار شخص فاٹا کے مظلوم لوگوں کی آواز سننے کے لئے تیار نہیں ہے اور جب سے فاٹا کو پراکسی وار کا میدان بنایا گیا ہے اس وقت سے لے کر آج تک اس علاقے کے حالات کے بارے کوئی فکرمند نہیں ہوتا۔ہماری فوج نے اس ملک کی بقاء کے لئے جو آخری جنگ لڑی ہے وہ بھی فاٹا کے علاقے وزیرستان میں لڑی گئی تھی جس کا مطلب یہ ہے کہ اس علاقے کی حالتِ زار کو بہتر کئے بغیر اور یہاں سے دہشت گردوں کا خاتمہ کئے بغیر ملک سے دہشت گردی ختم نہیں کی جاسکتی۔ اب ہم فاٹا میں اصلاحات کی بات کرتے ہیں ۔ فاٹا میں اصلاحات کے نام پر ریاست نے ایسے اقدامات کئے جن سے کوئی خاص فرق نہیں پڑا۔ہم نے سمجھا کہ طورخم بارڈر کا کنٹرول لیویز کو دینے سے علاقے میں پولیس کے مکمل کنٹرول کی راہ ہموار ہوگی لیکن ایسانہیں ہوا۔ ہم نے سوچا کہ فاٹا میں تعینات پولٹیکل ایجنٹ کو 'کونسلر' کا نام دینے سے مقامی حکومتیں مضبوط ہوں گی لیکن ایسا نہیں ہوپایا۔ ہم نے یہ سوچا تھا کہ ایف سی آر کا نام تبدیل کرکے جرگہ، قاضی یا رواج ایکٹ رکھنے سے فاٹا میں قانون کی حکمرانی قائم ہوجائے گی لیکن آج بھی علاقے میں قانون کی حکمرانی نام کی کوئی چیز موجود نہیں ہے۔ یہاں پریہ بتانا بھی ضروری ہے کہ ملک کے دائیں بازو کی وہ سیاسی جماعتیں جن میں سے کچھ پاکستان کے قیام کے بھی خلاف تھیں اس وقت فاٹا میں اصلاحات اور فاٹا کے انضمام کی مخالفت کرتی نظر آتی ہیں۔ اس حوالے سے مولانا فضل الرحمان کی جمعیت علماء اسلام پیش پیش ہے۔ دائیں بازو کی جماعتوں کی جانب سے فاٹا میں اصلاحات اور خیبرپختونخوا کے ساتھ انضمام کی مخالفت مرے پہ سودرے کے مترادف ہے۔ پاکستان کی آزادی سے لے کر آج تک ہونے والے سب سے بڑے آئینی اصلاحات کے پیکج کے ذریعے فاٹا میں ایسی اصلاحات لائی جائیں جن سے فاٹا کے لاکھوں باشندوں کو پاکستانی شہریت مل جائے اور انہیں پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ملنے والے تمام حقوق بھی حاصل ہو جائیں۔ایسا صرف فاٹا کے خیبر پختونخواکے ساتھ مکمل اور انضمام کے ذریعے ہی ہوسکتا ہے اور اس انضمام سے کم کسی بھی اصلاحاتی پیکج یا وعدوں پر اکتفا نہیں کیا جانا چاہیے۔ 

(بشکریہ: ڈان ،ترجمہ: اکرام الاحد)

اداریہ