قوم کی بیٹی!

قوم کی بیٹی!

آج کل حساس مسلمانوں کی جان و روح کو دکھانے کے لئے اتنے سارے مسائل ہیں کہ کسی ایک شخص کے بارے میں سوچنے سمجھنے اور محسوس کرنے کے لئے کسی کے پاس وقت نہیں ہے۔ اگر کسی کے پاس وقت ہو بھی تو پھر دل نہیں اگر کسی کے پاس دل اور وقت میسر آبھی جائیں تو پھر اس کے اپنے غم زیادہ ہوتے ہیں ۔شاید یہ مسلمانوں کی بے حسی کا اوج کمال ہے کہ امت مسلمہ کی ایک بیٹی بے گناہ بے تفصیر اور کسی فرد جرم کے ثابت ہوئے بغیر گزشتہ پانچ سال سے لا پتہ ہوگئی اور اس کے خاندان والوں کے چپکے چپکے رونے دھونے کے سوا کسی اور کو دبے پائوں بھی خبرنہ ہوسکی کہ قوم کی ایک بیٹی اپنے تین معصوم اور گلاب جیسے چہروں والے بچوں کے ساتھ ''اہل کرم'' کے کن کن ''کرموں'' کی نذر ہوتی رہی۔جب سے میڈیا کے ذریعے یہ خبر عام ہوئی ہے ' میں دن رات میں کئی مرتبہ روز مرہ کے بکھیڑوں سے فرصت حاصل کرکے ''تصور جاناں'' میں ڈوب کر یہ سوچنے لگتا ہوں کہ ہماری اس بیٹی پر جو گزری اور گزرے گی وہ تو اب وہ برداشت کر رہی ہوگی لیکن اس کے معصوم بچوں کا کیا گناہ ہے کہ وہ عدم پتہ ہیں۔ کیا دنیا میں کسی بھی ملک میں ایسا کوئی قانون ہے جس کے تحت ''ملزم'' یا ''مجرم'' کی بے گناہ اولاد بھی سزا بھگتنے کی مستحق ٹھہرتی ہے۔پھر ہماری اس بیٹی کے والدین' بہن بھائیوں اور عزیز رشتہ داروں کے بارے میں سوچنے لگتا ہوں کہ کسی عزیز رشتہ دار کتنی ہی اذیت ناک اور وحشت ناک موت کیوں نہ مرجائیں لیکن اپنے ہاتھوں ان کے زمین کے پیٹ کے حوالے کرنے کے ساتھ ہی چند دن بعد ان کے پیچھے نیک اعمال' صدقہ و خیرات وغیرہ سے دل کو قرار و سکون آہی جاتا ہے۔ لیکن ایک ایسا عزیز جو تصور میں دل و نین کے بہت قریب ہو لیکن حقیقت میں کوسوں دور ہو اور ایک ایسی اذیت میں مبتلا ہو کہ نہ جی سکے اور نہ مر سکے تو ایسے رشتہ داروں بالخصوص والدین پر کیا گزر رہی ہوگی۔ غزالہ تم تو واقف ہو کہو مجنوں کے مرنے کی لیلیٰ نے صحرا کے ہرنوں سے مجنوں کے مرنے کی روداد پوچھ سن کر اطمینان قلب کا سامان کرلیا۔ ہم کس سے پوچھ لیں کہ آخر کچھ تو بتائو کہ اب تک ہماری بیٹی پر کیا گزری ہے؟ لیکن پھر اسی لمحے دل ناشاد و ناداں کو سہلانے اور بہلانے لگتا ہوں کہ پگلے! تمہیں اگر معلوم ہوگیا کہ قوم کی اس مظلوم' مقہور و مجبور بیٹی پر کیا گزری ہے کسی دیدہ و شنیدہ سے یہ داستان المناک و حسرت ناک سن بھی لی تو دل معذور و بے بس کے زخمی ہونے کے سوا کر بھی کیا سکوگے؟ لیکن پھر دوسرے لمحے نہ ماننے والا یہ پاگل دل کچوکے لگا لگا کر اپنی بیٹی کی یاد پکار پکار کر کہنے لگتا ہے

تمہاری یاد کے جب زخم بھرنے لگتے ہیں
سی بہانے تمہیں یاد کرنے لگتے ہیں
وہ جب بھی کرتے ہیں اس نطق و لب کی بخیہ گیری
فضا میں اور بھی نغمے بکھرنے لگتے ہیں
درقفس پہ اندھیروں کی لہر لگتی ہے فیض
تو میرے دل میں ستارے اترنے لگتے ہیں
سنا ہے پاکستان کی آبادی میں نوجوانوں کی تعداد زیادہ ہے اس کے ساتھ مجھے یہ بات ستانے لگتی ہے کہ جس بہن کے گھبرو بھائی ہوں کیا اس کو کوئی اس طرح دبوچ کر پانچ سال تک عالم نا پرساں میں پھینک سکتا ہے۔ لیکن جب یہ یاد آجاتا ہے کہ جس بہن کو اپنے ہی برادران یوسف کی مانند بھائیوں نے زندان باگرام میں پھینکوا یا ہو تو پھر گلہ کریں تو کس سے کریں؟ لیکن شکر ہے کہ مسلمان کی شان یہ ہے کہ جب ہر طرف مایوسی اور نا امیدی کے اندھیرے چھانے لگ جائیں تب بھی ایک اور صرف ایک آسرا ہمیشہ ایسا باقی رہتا ہے کہ مجبور ترین حالات میں اس ذات پاک کی طرف نگاہ اخلاص کے ساتھ اٹھنے لگتی ہے اور اس دربار اعلیٰ سے کبھی آہ و فریاد قبولیت کا سند حاصل کئے بغیر واپس نہیں آتی بلکہ عرش معلی کو ہلا کر آتی ہے۔ میں بھی ان لمحات میں اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے حضور خلوص دل کے ساتھ اپنی بیٹی عافیہ صدیقی کو یاد کرتے ہوئے کہتا ہوں
تو مجھ سے دور سہی وہ تو مگر دور نہیں
میں ہوں مجبور پر اللہ تو مجبور نہیں
تیری صحت ہمیں مطلوب ہے لیکن اس کو
نہیں منظور تو پھر ہم کو بھی منظور نہیں
اللہ تعالیٰ کی پاک ذات کے بعد سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حضور علامہ اقبال کی وہ نعت گنگنانے لگتا ہوں جو انہوں نے برطانیہ کے سپر پاور ہونے کے زمانے میں اس وقت کہی تھی جب امت مسلمہ کی ایک ایسی ہی بیٹی فاطمہ بنت عبداللہ طرابلس کے میدان میں ہمارے برطانوی ''کرم فرمائوں'' کے ہاتھ شہید ہوئی تھی۔
حضورۖ دہر میں آسودگی نہیں ملتی
تلاش جس کی ہے وہ زندگی نہیں ملتی
ہزاروں لالہ و گل ہیں ریاض ہستی میں
بو وفا کی ہو جس میں وہ کلی نہیں ملتی
مگر میں نذر کرنے کو ایک آبگینہ لایا ہوں
جو چیز اس میں ہے وہ جنت میں بھی نہیں ملتی
جھلکتی ہے تیری امت کی آبرو اس میں
طرابلس کے شہیدوں کا ہے لہو اس میں

اداریہ