Daily Mashriq


دولت کی غیر مساویانہ تقسیم

دولت کی غیر مساویانہ تقسیم

موجودہ دور میں عالمی اور خصوصاً پاکستان کے مسائل تو بُہت سارے ہیں مگر ان میں سب سے اہم مسئلہ بھوک اور افلاس ہے۔اگر عالمی شما ریات پر طا ئرانہ نظر ڈالی جائے تو اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ دنیا کی 6 ارب کی آبادی میں ایک ارب لوگ خوراک نہ ہونے کی وجہ سے متا ثر ہو رہے ہیں۔جن میں 98 فی صد لوگ ایشیاء میں رہ رہے ہیں۔باالفا ظ دیگر کرہ ارض پر 6ارب انسانوں میں سے ایک ارب بھوک اور افلاس کا شکار ہیں۔اگر ہم افریقی ممالک کے مسائل پر نظر ڈالیں تو افریقی ممالک میں یہ شرح اور بھی زیادہ ہے یعنی وہاں پر 4 میں سے ایک انسان انتہائی افلاس کا شکار ہے۔بد قسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں 100 ملین بچے کم وزن پیدا ہوتے ہیں۔اور 66 ملین سکول کے ایسے بچے بھی ہیں جن کو مناسب خوراک کی عدم دستیابی کا سامنا ہے۔اگر ہم نے ان 66 ملین یعنی 6.6 کروڑ بچوں کو مناسب خوراک مہیاکر نی ہے تو اس کام کے لئے 3.2 ارب ڈالر درکار ہوں گے۔اگر ہم غُربت کو ایک ڈالر کی شرح سے تصور کر تے ہیں تو جنوبی ایشیاء جو ڈھائی ارب لوگوں کا مسکن ہے جس میں بھارت، پاکستان ، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ شامل ہیں تو اس وقت صرف بھارت میں 44 فی صد لوگ غُربت کی خطرناک سطح سے نیچے رہنے پر مجبو ر ہیں، نیپال میں 38 فی صد ، پاکستان میں 31 فی صد، اور بنگلہ دیش میں 29 فی صد لوگ باا لفاظ دیگر 6 ارب انسانوں کی آبادی میں 1.4 ارب انسان انتہائی غُربت کا شکار ہیں۔ اگر ہم غُربت کی شرح کو دو ڈالر کے تناسب سے مقرر کرتے ہیں تو پھر چین میں غُربت کی لکیر سے نیچے رہنے والے لوگوں کی تعداد 30 فی صد، بنگلہ دیش میں 77 فی صد، بھارت میں 69 فی صد، سری لنکا میں 29 فی صد ، نیپال میں 57 فی صد فلپائن میں 41 فی صد اور پاکستان میں 70 فی صد لوگ غُر بت کا شکار ہیں۔دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ خو راک کی اشیاء کا ضیاع ہے۔ امریکہ میں خوراک ضائع ہو نے کی شرح 760فی کس کلوگرام ، آسڑیلیا میں 690 کلوگرام فی کس، ڈنمارک میں 660 کلوگرام فی کس، سوئٹزر لینڈ میں 650 کلوگرام فی کس اور ہالینڈ میں 610کلوگرام سالانہ خوراک فی کس ضائع کی جا رہی ہے۔اگر اتنی مقدار میں خوراک کو ضا ئع ہونے سے بچایا جائے تو اس سے اُن غریبوں کی خوراک کی ضرو ریات پو ری کی جا سکتی ہیں جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں۔اقوام متحدہ کے مطابق پو ری دنیا میں ایک تہائی خوراک ضائع کی جا رہی ہے۔اگر ہم غذا کو ذخیرہ کرنے کے نظام کو دیکھیں تو پاکستان اپنی ضروریات کے مطابق خوراک ذخیرہ کرنے والے 105 ممالک میں 77ویں نمبر پر ہے جبکہ اسکے بر عکس سری لنکا خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں 105 ممالک میں 60 ویں نمبر پر ، بھارت 67 ویں نمبر پر ہے جبکہ اسکے بر عکس ترقی یافتہ ممالک میں امریکہ خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ،کینیڈا 7 ویں نمبر پر، اور بر طانیہ 15 ویں نمبر پر ہے۔ تیسرا بڑا مسئلہ جس سے پوری دنیا پریشان ہیں وہ غریب اور امیر کے درمیان فر ق ہے ۔ آج کل دنیا میں 10 فی صد مالداروں کے پاس 90 فی صد دولت ہے جبکہ 90 فی صد لوگوں کے پاس 10 فی صد ہے ۔ دنیا میں موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ غریب اور امیر کے درمیان حد سے بڑھا ہوا فرق ہے اور بد قسمتی سے یہ فرق پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی غریب اور امیر کے درمیان حد سے بڑھ گیا۔ یا تو لوگ حد سے زیادہ امیر ہیں اور یا حد سے زیادہ غریب ۔ موجودہ دور میں درمیانی اور سفید پو ش طبقہ آخری سانسیں لے رہاہے۔اگر ہم پاکستان میں غُربت، بھوک اور افلاس کو دیکھیں تو ان مسائل میں پاکستان کی ناقص پالیسیاں ، کرپشن اور بد عنوانی، زمینوں کی نامناسب تقسیم،ا ملاک جمع کر نے کی سعی، علم اور تعلیم کی کمی، بڑے پیمانے پر امپورٹ ، لیڈر شپ کی کمی اور نج کا ری جیسے مسائل شامل ہیں۔ دنیا میں غُربت افلاس اور بھوک کا سب سے بڑا مسئلہ دولت کی غیر مساویانہ تقسیم ، غیر پیداواری اخراجات اور کسی حد تک دفا عی اخراجات بھی ہیں ۔ سی آئی اے اور دوسرے مقتدر اداروں کے مطابق دنیا میں ٹوٹل دفا عی اخراجات تقریباً 1747 بلین ڈالر ہے جس میں سب سے زیادہ دفا عی اخراجات امریکہ کے ہیں جو اپنے دفا ع پر تقریباً 700 بلین ڈالر خر چ کر رہا ہے ۔ جبکہ بر طانیہ کے دفا عی اخراجات 60 ارب ڈالر، جاپان کے 56ارب ڈالر، چین کے 166 ارب ڈالر اور روس کے دفا عی اخراجات 90 ارب ڈالر ہیں۔ اگر ہم مندر جہ بالا دفاعی اخرا جات پر نظر ڈالیں تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کے سارے ممالک اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ دفا ع پر خرچ کر رہے ہیں جو ایک پاگل پن کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔ لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہمیں مندرجہ بالا لغو معاملات سے اپنے آپکو بچا نا چاہئے اور پو ری توجہ لوگوں کے مسائل بالخصوص بھوک افلاس کو ختم کرنے پر مرکوزکرنا چاہئے۔ اسکے علاوہ جب تک غریب اور امیر کے درمیان فرق کو کم نہیں کیا جائے گا اُ س وقت تک غُربت ، بھوک اور افلاس پر قابو نہیں پایا جاسکتا۔ دنیا کے ہر مذہب کے عالموں، سکالروں، شاعروں ، ادیبوں، دانا لوگوں ، اہل علم و دانش کو چاہیئے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں پریشر گروپ بنائیں اور حکومتوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اپنے علاقائی مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کریں اور دفاع اور ترقی پذیر ممالک دوسری غیر پیداواری چیزوں پر جو رقم خرچ کر رہے ہیںاس کو اپنے لوگوں کی فلا ح و بہبود پر خرچ کریں۔ تاکہ دنیا میں امن آشتی کو فروغ ملے۔

متعلقہ خبریں