Daily Mashriq


بالآخر آئی ایم ایف سے ہی رجوع!

بالآخر آئی ایم ایف سے ہی رجوع!

وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا ہے کہ حکومت نے مالیاتی بحران سے بچنے کیلئے عالمی مالیاتی فنڈ یعنی آئی ایم ایف سے مذاکرات کا فیصلہ کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند ہفتوں سے اس پر کام ہو رہا تھا، ہم نے اندرونی فیصلے بھی کئے، دوست ممالک سے بھی مشاورت کی۔ وزیراعظم نے پاکستانی ماہرینِ معاشیات سے بھی مشاورت کی، جس کے بعد فیصلہ کیا گیا کہ ہمیں آئی ایم ایف کیساتھ مذاکرات کی ابتدا کرنی چاہئے جس سے ہم اس معاشی بحران پر قابو پا سکیں۔ اسد عمر نے بحران کیلئے گزشتہ حکومت کو ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے کہا کہ لوگوں کو ادراک ہے کہ پچھلی حکومت کیسے حالات چھوڑ کر گئی تھی۔ اسلئے جب یہ حکومت آئی تو اس وقت ہم نے کہا تھا کہ ہم نے ترجیحی بنیادوں پر اس بحران سے نکلنے کیلئے راستہ اختیار کرنا ہے اور اس کیلئے ایک سے زیادہ متبادل ذرائع کو تلاش کرنا ہے اور بیک وقت کرنا ہے کیونکہ ہمارے پاس وقت نہیں ہے۔ وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم کوشش کریں گے کہ کمزور طبقے پر مشکل فیصلوں کا اثر کم پڑے۔ یہ مشکل فیصلے اور چیلنج ہیں۔ خیال رہے کہ انتخابات سے قبل تحریکِ انصاف آئی ایم ایف سے مالی مدد لینے کی شدید مخالفت کرتی رہی تھی اور وزیراعظم عمران خان نے بارہا اپنی تقاریر میں یہ بات کہی تھی کہ اگر وہ برسراقتدار آئے تو کبھی عالمی مالیاتی ادارے سے قرض کیلئے رجوع نہیں کیا جائے گا۔ پی ٹی آئی حکومت پاکستان کو قرضوں سے نجات دلانے کے اپنے روڈ میپ کے مطابق بھینسوں اور گاڑیوں کی نیلامی سے اربوں ڈالر حاصل کرنے کے بعد اب آئی ایم ایف کے دروازے پر دستک دینے جارہی ہے۔ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر ستمبر کے آخر میں 9ارب ڈالر سے زیادہ تھے جس میں62 کروڑ ڈالر کمی آئی ہے اور اکتوبر میں زرمبادلہ کے ذخائر صرف8.4 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جو قرض کی قسطیں ادا کرنے کیلئے بمشکل کافی ہیں۔ وطن عزیز میں معاشی صورتحال کچھ حوصلہ افزاء نہیں اور اس میں خدانخواستہ مزید گراوٹ کا اندیشہ ہے۔ ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قیمت خطرناک حد تک گر گئی ہے جبکہ سٹاک ایکسچینج کریش کر گیا ہے۔ کے ایس ای100 انڈیکس38 ہزار پوائنٹس سے بھی نیچے آگیا۔ ملک میں جاری سیاسی بے یقینی اور معیشت کی ابتر صورتحال نے اسٹاک مارکیٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لیکر اسے شدید مندی سے دوچار کر دیا۔ کاروباری ہفتے پہلے روز ابتدا سے ہی اسٹاک مارکیٹ میں شدید مندی دیکھنے میں آئی اور کے ایس ای100 انڈیکس مسلسل گراوٹ کا شکار رہا۔ بینچ مارک میں 1300 سے زائد پوائنٹس کی کمی آئی جس کیساتھ ہی یہ38 ہزار پوائنٹس سے بھی نیچے آگیا اور ہفتے کے پہلے کاروباری دن کے دوران ہی سرمایہ کاروں کو اربوں روپے کا نقصان ہوگیا۔ مارکیٹ ماہرین اور سرمایہ کار مسلسل ان خدشات کا اظہار کر رہے ہیں کہ حالات مسلسل بحران کی جانب بڑھ رہے ہیں اور اگر ایسے میں سپورٹ نہیں آئی تو2008 جیسی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔ مارکیٹ کو سہارا دینے کیلئے حکومتی سطح پر کئی ارب روپے کے سپورٹ فنڈز کی ضرورت ہے تاکہ اسٹاک مارکیٹ کو زیادہ گرنے سے بچایا جاسکے۔ پاکستان سٹاک مارکیٹ میں زبردست مندی کے رجحان کی وجوہات میں ماہرین پاکستان کا آئی ایم ایف کی طرف قرضے کیلئے جانا اور حکومت کی پالیسی کا واضح نہ ہونا قرار دے رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اندازہ ہے کہ ڈالر135 یا 140 روپے تک چلا جائے گا۔ اس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار تو نکل رہے ہیں۔ دوسری وجہ حکومتی پالیسی کا واضح نہ ہونا، پھر حکومت نے شرح سود میں بھی اضافہ کیا ہے۔ ملک اس وقت جس قسم کے معاشی بحران کا شکار ہے اس پر حکومت سمیت ہر اہل وطن کا مشوش ہونا فطری امر ہے۔ زرمبادلہ کے ذخائر اتنے کم رہ گئے ہیں کہ یہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے ناکافی ہیں۔ مسلسل تجارتی اور مالیاتی خسارے نے معیشت کو بری طرح متاثر کر کے رکھ دیا ہے، ترقیاتی سکیموں کیلئے خزانہ میں کچھ نہیں۔ مہنگائی پہلے ہی کیا کم تھی کہ موجودہ حکومت کے ڈیڑھ پونے دو ماہ میں آٹے، گھی، چینی، کھاد، سیمنٹ اور دیگر اشیاء ومصنوعات سمیت روزمرہ استعمال کی عام اشیاء کی قیمتوں میں اچانک اور خاص اضافہ ہوگیا ہے۔ سٹاک مارکیٹ کی صورتحال کسی سے پوشیدہ نہیں۔ ان مشکلات سے نکلنے کیلئے حکومت نے تین دوست ممالک کیساتھ ساتھ آئی ایم ایف سے باامر مجبوری رجوع کرکے ملک کی معیشت کو سابق حکومتوں کے طرز پر قرضوں کا مصنوعی تنفس لگانے کا فیصلہ کر لیا ہے جس سے وزیراعظم نے بھی اتفاق کر لیا۔ قرضوں سے چلائی گئی معیشت سے کسی نمو کی توقع عبث ہے اور نہ ہی مصنوعی آکسیجن لگانے سے کوئی بہتری ممکن ہے۔ قرضوں کے حصول سے ملک پر قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہوگا اور حکومت وعوام کی مشکلات مزید بڑھ جائے گی۔ موجودہ حالات میں کوئی بھی حکومت ہوتی تو اس کے پاس آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے علاوہ شاید ہی کوئی راستہ ہوتا۔ اسلئے بادل نخواستہ ہی یہ کڑوی گولی نگلنا پڑے گی۔ آئی ایم ایف کے بڑھتے قرضوں کیساتھ اس کی شرائط سخت سے سخت ہونے کے اثرات سے عوام براہ راست متاثر ہوتے ہیں، خاص طور پر عوام کو بجلی، گیس اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں یکایک اور یکے بعد دیگرے بڑے اضافے سے جو جھٹکا لگتا ہے اسے سہارنا اب ممکن نظر نہیں آتا۔ آئی ایم ایف کی شرائط مانے بغیر قرضے کا حصول ناممکن ہے اور ان کی شرائط تسلیم کرنے سے مہنگائی کا طوفان آجاتا ہے۔ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے فیصلے سے قبل ہی حکومت نے اس کی شرائط تسلیم کرکے سپر ڈال دی ہے جس سے مثبت تبدیلی کے منتظر عوام کی مایوسی فطری امر ہے لیکن بہرحال حقیقت کا سامنا کرنا ہی پڑے گا۔ دیکھنا یہ ہے کہ حکومت آئی ایم ایف سے بیل آؤٹ پیکج لیکر فوری ریلیف ملنے کے بعد ایسے کیا اقدامات کرتی ہے کہ کم ازکم آئندہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی مجبوری پیش نہ آئے اور ملکی معیشت مستحکم ہونا شروع ہو جائے۔

متعلقہ خبریں