Daily Mashriq


کمراٹ وچترال کے بعد کالام سے بھی جنگل کٹائی کی شکایات

کمراٹ وچترال کے بعد کالام سے بھی جنگل کٹائی کی شکایات

کالام میں ٹمبرمافیا پھر سرگرم ہوگیا۔ دیار کے قیمتی اور پرانے درختوں کی کٹائی شروع کردی گئی، حکومت کی جانب سے پابندی کے باوجود تحصیل کالام کے مختلف علاقوں میں ٹمبرمافیا ایک بار پھر سرگرم ہوگیا ہے، مختلف علاقوں کے جنگلوں سے دیار کے قیمتی اور پرانے درختوں کو کاٹ کر سمگل کیا جا نے لگا۔ عوامی حلقوں اور جنگل بچاؤ کمیٹی نے محکمہ جنگلات کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ وادی کالام میں جنگلات کی کٹائی کیخلاف مؤثر اقدامات کریں۔ ابھی کمراٹ کے جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی بازگشت لہروں میں ہی تھی کہ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمود خان کے اپنے ضلع سوات کے خوبصورت علاقہ کالام میں جنگلات کے بے دریغ کٹائی کی روک تھام کے مطالبات ہونے لگے ہیں۔ دریں اثناء وزیر جنگلات چترال کے ایک وفد کو چترال میں ٹمبرمافیا کو لگام دینے کی یقین دہانی کرا چکے ہیں جبکہ وزیراعلیٰ نے کمراٹ میں جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی تحقیقات کا حکم دے دکھا ہے۔ محولہ تمام صورتحال سے یہ نتیجہ اخذ کرنا غلط نہ ہوگا کہ ٹمبرمافیا کو لگام دینا نہایت مشکل کام ہے۔ یہ مافیا اس قدر بااثر ہے کہ ہر حکومت کی صفوں میں اور ہر حکومتی جماعت میں اس کے نمائندے اور اس کے دفاع کیلئے افراد دست بستہ کھڑے موجود ہوتے ہیں۔ جنگلات کی کٹائی اس قدر منافع بخش دھندہ ہے کہ راتوں رات مالامال ہونا اور دوسروں کو مالامال کرنا کوئی مشکل نہیں، اسی وجہ سے ہر دور حکومت میں سختی اور کٹائی ساتھ ساتھ چلتی آئی ہے۔ اب بھی صورتحال مختلف نہیں، اولاً محکمہ جنگلات کے افسران اور اہلکار بہتی گنگا میں خود ہی ہاتھ دھونے میں ذرا نہیں ہچکچاتے لیکن اگر وہ ایسا نہ کرنا بھی چاہیں تب بھی ٹمبرمافیا کے سامنے ان کے کھڑے ہونے کا اس وقت تک امکان ہی نہیں جب تک حکومت وقت پوری سختی سے کام اور جنگلات کی بے دریغ کٹائی کی روک تھام کی ٹھان نہ لے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ وزیراعلیٰ کالام میں جنگلات کی کٹائی کا نہ صرف سختی سے نوٹس لیں گے بلکہ کمراٹ اور چترال میں جنگلات کی کٹائی کی شکایات کی تحقیقات کی رپورٹ اور ذمہ دار عناصر کو سزا دینے سے عوام کو آگاہ کریں گے اور اس امر کو یقینی بنائیں گے کہ ٹمبرمافیا کیخلاف سیاسی وجماعتی امتیاز سے بالاتر ہو کر سخت ایکشن لیا جائے گا۔

پڑھائی کے ڈاکٹر سڑکوں پر

بنی گالہ میں پی ایچ ڈی ڈاکٹرز نے بیروزگاری کیخلاف احتجاج کے دوران وزیراعظم عمران خان کا سکواڈ روک کر احتجاج سے ملک میں اعلیٰ دانشوروں کی بھی بیروزگاری سے زچ ہونے کی نشاندہی ہوتی ہے۔ مظاہرین نے حکومتی پالیسیوں اور چیئرمین ایچ ای سی کیخلاف نعرے لگائے اور ایچ ای سی کو بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا، مظاہرین کا کہنا ہے کہ بیروزگاری سے تنگ آکر احتجاج پر مجبور ہوئے، ایم فل، ایم ایس اور پی ایچ ڈی کرنا کوئی بچوں کا کھیل نہیں اور نہ ہی کافی قابلیت نہ رکھنے والے اس کا امتحان پاس کر سکتے ہیں، اس سطح کے داخلے بھی آسان نہیں۔ ان مراحل سے گزرنے والوں کی دو قسمیں ہیں، ایک سرکاری جامعات سے ایم فل اور ایم ایس کی جاتی ہے، جہاں سالوں سال کی تپسیا کے بعد ڈگری ملتی ہے۔ سرکاری جامعات میں سپروائزروں کے نخروں سے نالاں ایچ ای سی کو مجبوراً ایم فل اور ایم ایس چار سالوں میں کرانے کی پابندی لگانی پڑی جبکہ نجی جامعات سے نسبتاً بہتر انداز میں اور اوسط وقت میں سند حاصل ہوتی ہے مگر جن کے پاس لاکھوں نہ ہوں یا پھر پورا ہفتہ ملازمت کر کے ہفتہ وار کلاسیں لینے کی قیمت ادا نہ کی جائے تو یہ بھی ممکن نہیں، ایسا کرنا بھی ہر کسی کے بس کی بات نہیں۔ پی ایچ ڈی اس سے بھی مشکل اور جان جھوکوں کا کام ہے۔ اگر اتنا پاپڑ بیلنے پر ایچ ای سی سے وظائف نہ ملیں اور سرکاری ملازمت نہ ملے تو احتجاج نہ کیا جائے تو کوئی کیا کرے۔ حکومت کو معاشرے کے اس قابل تکریم طبقے کو یوں سڑکوں پرنکلنے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے ان کیلئے معقول خصوصی الاؤنس اس وقت تک دیا جائے جب تک ان کو مناسب سرکاری ملازمت نہ ملے۔ حکومت کوکروڑ نوکریوں میں سب سے پہلے ان اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں کو ترجیحی طور پر کھپانا چاہئے۔

متعلقہ خبریں