Daily Mashriq


مشرقیات

مشرقیات

سید التابعین حضرت بصریؒ کا زمانہ ہے۔ ایک خاتون آپؒ کی شاگردہ تھی، جو با قاعدہ آپؒ کا درس سننے آتی تھی۔ نہایت عبادت گزار تھیں۔ اس بے چاری کا خاوند جوانی میں چل بسا۔ اس نے دل میں سوچا! ایک بیٹا ہے اگر میں دوسرا نکاح کرلوں گی تو مجھے دوسرا شوہر مل جائے گا، لیکن میرے بچے کی زندگی برباد ہو جائے گی۔ وہ ماں گھر میں بچے کا پورا خیال رکھتی، لیکن جب وہ بچہ گھر سے باہر نکل جاتا تو ماں سے نگرانی نہ ہو پاتی۔ اب اس بچے کے پاس مال کی کمی نہ تھی چنانچہ وہ بچہ بری صحبت میں گرفتار ہوگیا۔ شباب اور شراب کے کاموں میں مصروف ہو گیا، ماں برابر سمجھاتی لیکن بچے پر کچھ اثر نہ ہوتا، وہ اس کو حضرت بصریؒ کے پاس لے کر آئی، حضرت بصریؒ بھی اس کو کئی کئی گھنٹے سمجھاتے لیکن اس بچے کا نیکی کی طرف رجحان ہی نہیں تھا۔ کئی سال برے کاموں میں لگ کر اس نے اپنی دولت کیساتھ اپنی صحت بھی تباہ کر لی اور اس کے جسم میں لاعلاج بیماریاں پیدا ہو گئیں۔ اب اس کو آخرت کا سفر سامنے نظر آنے لگا، ماں نے پھر سمجھایا بیٹا! تو نے اپنی زندگی تو خراب کر لی، اب آخرت بنا لے اور توبہ کرلے، اللہ بڑا غفور الرحیم ہے، وہ تمہارے تمام گناہوں کو معاف کر دے گا۔ جب ماں نے سمجھایا، اس کے دل پر کچھ اثر ہوا۔ بیٹے نے کہا ماں اگر میں فوت ہو جاؤں تو میرا جنازہ حسن بصریؒ پڑھائیں۔ ماں حضرت بصریؒ کے پاس گئی۔ حضرت نے کہا: میں اس کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھاؤں گا۔ اس نے تو کبھی نماز ہی نہیں پڑھی۔ یہ بات بیٹے نے سنی تو اس کے دل پر چوٹ لگی اور کہا: ماں میری ایک وصیت سن لیجئے جب میری جان نکل جائے تو سب سے پہلے اپنا دوپٹا میرے گلے میں ڈالنا، میری لاش کو کتے کی طرح صحن میں گھسیٹنا، جس طرح مرے ہوئے کتے کی لاش گھسیٹی جاتی ہے۔ ماں نے پوچھا بیٹا وہ کیوں؟ کہا امی اس لئے کہ دنیا والوں کو پتہ چل جائے کہ جو اپنے رب کا نافرمان اور ماں باپ کا نافرمان ہوتا ہے اس کا انجام یہ ہوا کرتا ہے۔ مجھے قبرستان میں دفن نہ کرنا، ماں نے کہا: وہ کیوں؟ کہا ماں مجھے اسی صحن میں دفن کر دینا، ایسا نہ ہو کہ میرے گناہوں کی وجہ سے قبرستان کے مردوں کو تکلیف پہنچے، جس وقت نوجوان نے ٹوٹے دل سے عاجزی سے یہ بات کہی تو اس کی روح قبض ہوگئی۔ ابھی روح نکلی ہی تھی اور ماں آنکھیں بند کر رہی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی پوچھا کون؟ جواب آیا: حس بصری ہوں۔ کہا: حضرت آپ کیسے؟ فرمایا: جب میں نے تمہیں جواب دے دیا اور سو گیا۔ خواب میں آواز آئی: حسن بصری تو میرا کیسا ولی ہے؟ میرے ایک ولی کا جنازہ پڑھنے سے انکار کرتا ہے۔ میں سمجھ گیا کہ اللہ نے تیرے بیٹے کی توبہ قبول کرلی۔ تیرے بچے کی نماز جنازہ پڑھنے کیلئے حسن بصری کھڑا ہے۔ اے اللہ! تو کتنا کریم ہے کہ مرنے سے چند لمحہ پہلے اگر کوئی بندہ شرمندہ ہوتا ہے تو اس کی زندگی کے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے۔

(تاریخی واقعات)

متعلقہ خبریں