Daily Mashriq

معاشی بحران، آپشن

معاشی بحران، آپشن

آئی ایم ایف کے پاس مدد کیلئے جانے کے بارے میں پچھلے ڈیڑھ ماہ سے جو گومگو کی کیفیت تھی آخرکار وہ ختم ہوگئی لیکن لگتا ہے کہ اچانک اس کی فوری وجہ یہ تھی کہ سٹاک ایکس چینج میں یکایک مندی برپا ہوگئی۔ پیر کے روز سارا دن فروخت کا بازار گرم رہا۔ مندی بھی ایسی جو گزشتہ دس سال میں دیکھنے میں نہیں آئی تھی۔ اس کے بعد وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ وزیراعظم عمران خان نے ماہرین معیشت کیساتھ مشاورت کے بعد آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی منظوری دیدی ہے۔ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی باتیں پی ٹی آئی حکومت کے حلف اٹھانے سے پہلے ہو رہی تھیں۔ پاکستان کی معیشت کی حالت کا ادراک سبھی اعلیٰ دماغوں کو تھا اور ان کے بیانات کے حوالے سے اور قرضوں کے اعدادو شمار کے بارے میں عام معلومات کے حوالے سے عوام کو بھی کچھ شدھ بد تھی تو پھر پی ٹی آئی کی قیادت کو پہلے سے تیار ہونا چاہیے تھا کہ روز اول سے اسے آئی ایم ایف سے رجوع کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ کرنا ہوگا۔ اس میں دیر کر دی گئی۔ میڈیا میں یہ خبریں چلیں کہ چین امداد ے رہا ہے۔ سعودی عرب سے سرمایہ کاری آرہی ہے یعنی آئی ایم ایف کے بجائے متبادل ذرائع سے امیدیں لگائی جارہی تھیں لیکن دنیا کے سیاسی اور معاشی حالات اس کیلئے سازگار نہیں ہیں۔ پی ٹی آئی کی حکومت لوگوں سے کچھ وعدے کرکے برسر اقتدار آئی ہے۔ مثال کے طور پر 50 لاکھ مکانوں کی تعمیر اور ایک کروڑ ملازمتوں کی فراہمی ‘ صحت اور تعلیم کی سہولتوں میں پھیلائو۔ لیکن اس سب کچھ کیلئے سرمایہ درکار ہے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کو پتہ تھا کہ سرمایہ قومی خزانے میں نہیں ہے اور پبلک جلسوں میں پی ٹی آئی والے خود کہتے تھے کہ ملک سے اتنا سرمایہ روزانہ باہر جاتا ہے‘ بین الاقوامی قرضوں کی ادائیگی کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر بہت کم ہیں‘ کہ قرضے سو ارب روپے تک پہنچ چکے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ پی ٹی آئی کے ہوشمندوں کو معلوم تھا کہ ملک کی مالی حالت بہت کمزور ہے۔ انہیں یہ خیال تھا کہ عوام کے معاشی مسائل ہیں اور وہ ان کا حل چاہتے ہیں اس لئے پی ٹی آئی کی قیادت نے عوام کے مسائل کے حل اور اصلاحات کے بلند بانگ دعوے کیے۔ گمان غالب ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت کو خیال ہوگا کہ اگر ان کی حکومت بن گئی تو سابقہ حکومتوں کی ناقص معاشی کارکردگی کے مقابلے میں بین الاقوامی کمیونٹی کا اعتماد پی ٹی آئی کی نئی حکومت پر قائم ہو جائے گا اور بین الاقوامی کمیونٹی کی امداد و حمایت حاصل ہو جائے گی۔ لیکن سرمائے کی دنیا اعلی انسانی اوصاف اور اقدار کے حوالے سے حرکت نہیںکرتی اس کی حرکیات کی بنیاد مفاد اور سرمایہ ہوتا ہے اس لئے بہت اچھا کیا کہ آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرکے گومگو کی کیفیت ختم کر دی۔ اب ایک اور انتظار شروع ہوگیا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر بالی جارہے ہیں جہاں وہ آئی ایم ایف کے اجلاس میں باقاعدہ مددکی درخواست کریں گے۔ کہا جارہا ہے کہ اس درخواست کے حوالے سے فیصلے پر پہنچنے میں تقریبا ایک ماہ لگ سکتا ہے۔ اس عرصے میں ان شرائط پر بات ہوگی جو آئی ایم ایف عائد کرنا چاہیے گا۔ آئی ایم ایف کا وفد دس بارہ دن پاکستان میں گزار چکا ہے۔ اس دوران یہ خبریں آئی تھیں کہ فنڈ کی تجویز ہے کہ روپیہ کی قدر میں کمی آنے دی جائے اور ایک ڈالر کے عوض155 روپے تک جانے دی جائے۔ بجلی اور گیس کی قیمتیں بڑھائی جائیں اور راعت پر سبسڈی ختم کر دی جائے اور ٹیکس نیٹ کو وسیع کیا جائے۔ کہا گیا تھا کہ اگر آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی بات ہوئی تو انہی مذاکرات کی بنا پر آگے بڑھے گی۔ اخباروں کی سرخیوں میں یہ بات عام طور پر کی جارہی ہے کہ مہنگائی کا طوفان آنے والا ہے‘ ایک یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم عمران خان کو بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط ایسی ہوسکتی ہیں کہ ان کے پچاس لاکھ مکانات تعمیر کرنے اور ایک کروڑ ملازمتیں فراہم کرنے کے وعدے پورے نہ ہوسکیں گے اور یہ بھی کہ آئندہ انتخابات میں انہیں شدید مشکلا ت کا سامنا ہوسکتا۔

بالی روانہ ہونے سے پہلے وزیر خزانہ نے کہا ہے کہ متبادل ذرائع سے امداد حاصل کرنے کے امکانات بھی زیر غور ہیں تاہم یہ واضح ہے کہ آئی ایم ایف س رجوع کریں یا متبادل ذرائع پر انحصار کریں یا دونوں سے آس لگائیں مہنگائی دونوں صورتوں میں ہونی ہے۔ یہ بات طے ہوچکی ہے کہ موجودہ معاشی بحران سابقہ حکومتوں کی معاشی پالیسیوں اور کارکردگی کا نتیجہ ہے اسے بار باہر دہرانے سے عوام کے غم و غصہ اور موجودہ حکومت سے اصلاح احوال کی توقعات میں اضافہ ہی ہوسکتا ہے جسے ہوا دینے سے بے چینی بھی پھیل سکتی ہے اوپر سے قدرت نہ صرف پاکستان پر بلکہ سارے کرہ ارض پر نامہربان نظر آتی ہے۔ پانی کا بحران نظر آرہا ہے۔2023 ء تک جب اس حکومت کی مدت پوری ہوگی یہ بحران شدید تر صوت میں واضح ہو جائے گا۔ موسمیاتی تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں دنیا کا درجہ حرارت بڑھ رہا ہے گرمی کا موسم طویل ہو رہا ہے۔ موسمیاتی تبدیلیوں کا اثر انسانی مزاجوں پر بھی ہوگا۔ حکومت کے پاس جو آپشن تھے ان میں سے بعض ختم ہوچکے ہیں۔ بین الاقوامی کمیونٹی سے امداد نہیں ملی۔ سعودی اعلی سطحی وفد کوئی معاہدے کیے بغیر رخصت ہوگیا۔ چین سے امداد ملی مگر ضرورت کی نسبت بہت کم‘ کرپشن کا لوٹا پیسہ اگر واپس آئے بھی تو کئی سال لگ جائیں گے۔ اب آئی ایم ایف کن شرائط پر امداد کرے گا یہ ابھی واضح نہیں ہے آئی ایم ایف کے علاوہ متبادل ذرائع کونسے ہیں یہ واضح نہیں ہے۔ حکومت کے پاس اور پاکستان کے عوام کے پاس ایک ہی آپشن ہے کہ مشکل ترین حالات برداشت کرنے کیلئے حوصلے اور اعتماد کے ساتھ کھڑے ہو جائیں۔ آئی ایم ایف یا پھر آئی ایم ایف کے بغیرجو مشکل وقت آنے والا ہے اسے عوام ہی نے برداشت کرنا ہے اس لئے حکومت کو چاہیے کہ وہ پاکستان کے عوام کو مکمل طور پر اعتماد میں لے۔ عوام کیلئے تارے توڑکر لانے کی بجائے عوام کے ساتھ مل کر اس بحران سے نکلنے کی سعی کرنی ہوگی۔

متعلقہ خبریں