Daily Mashriq

معاشی عدم استحکام

معاشی عدم استحکام

غیر واضح معاشی پالیسی کی بدولت سوموار کے روز اسٹاک مارکیٹ میں انوسٹروں کے 238ارب روپے ڈوپ گئے۔ دوسری طرف وزیرخزانہ اسد عمر وزیراعظم کی منظوری کے بعد آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے روانہ ہو گئے۔ مشکل ترین حالات سے نکلنے کیلئے آئی ایم ایف سے 10ارب ڈالر کے قرضے کی درخواست کی جائے گی۔ اس مرحلہ پر یہ طعنے دینے کی ضرورت نہیں کہ تحریک انصاف کے قائد جو اب وزیراعظم بھی ہیں بطور اپوزیشن رہنما یہ کہا کرتے تھے کہ انہیں کبھی اقتدار ملا تو قرض نہیں لیں گے یا عالمی مالیاتی اداروں کا قرضہ کینسر کا ڈسپرین سے علاج ہے۔ سمجھنے والی بات یہ ہے کہ تمام تر بلند وبانگ دعوؤں کے باوجود پی ٹی آئی اقتدار میں آنے سے قبل معاشی ماہرین کے تعاون سے متبادل پالیسی وضع کرنے میں ناکام رہی یا یوں کہہ لیجئے کہ اس نے اس حوالے سے سنجیدہ کوشش ہی نہیں کی۔ اُلٹا یہ تاثر دیا جاتا رہا کہ اعداد وشمار کے گورکھ دھندے سے جی بہلایا جا رہا ہے۔ یہ قدرے درست بات بھی تھی لیکن لازم یہ تھا کہ تحریک انصاف کے معاشی جادوگر 2008ء والے اسحٰق ڈار کا کردار ادا کرنے کی بجائے حکمت عملی وضع کرے۔یہ کہنا کہ موجودہ حکومت کو مسائل اور معاشی بحران ورثے میں ملا ہے اس طور درست نہیں کہ ان مسائل اور مستقبل کے حوالے سے پی ٹی آئی کے رہمنا ماضی میں نشاندہی کرتے چلے آئے ہیں۔ ضرورت اس امر کی تھی کہ وہ قبل ازوقت یہ بات سامنے رکھتے کہ اگر اقتدار انہیں منتقل ہوتا ہے تو وہ چیلنجز کا مقابلہ کیسے کریں گے۔ اب انہیں ٹھنڈے سے دل یہ بھی مان لینا چاہئے کہ فی الوقت جو معاشی مسائل درپیش ہیں ان میں سے زیادہ تر غیر واضح پالیسیوں، بچگانہ تقاریر اور شور شرابے سے پیدا ہوئے۔ دوسری طرف ٹیکسوں کا طوفان ہے۔ بجلی، گیس اور پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ سے منہ زور مہنگائی آسمان کو چھونے لگی۔ یہاں یہ بات بھی مدنظر رکھنا ہوگی کہ اگر آئی ایم ایف نے ہماری درخواست پر غور اور اس کی منظوری دی تو اس کی شرائط کیا ہوں گی اور کیا موجودہ حکومت ان شرائط کو پورا کرنے کیلئے اقدامات کرے گی؟ اطلاعات یہ ہیں کہ آئی ایم ایف ٹیکس نیٹ ورک میں اضافہ، پینشوں کے خاتمے، سرکاری ملازمین کے حجم کو کم کرنے اور غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی لانے کا مطالبہ کرے گا۔ آمدن واخراجات میں عدم توازن، غربت کی شرح، بیروزگاروں کے لشکر کیا ان کے ہوتے ہوئے آئی ایم ایف کی شرائط پر عمل ممکن ہوگا؟ اس سوال کا آسان جواب یہی ہے کہ بہت مشکل ہے۔جس اہم معاملے کو نئی قیادت نے نظرانداز کیا وہ یہ ہے کہ غیر ترقیاتی اخراجات بہت زیادہ ہیں۔ مالیاتی فنڈز کی بعض مدیں تو ایسی ہیں کہ ان پر بات کرنا سنگین جرم سمجھا جاتا ہے حالانکہ چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے کی ضرورت ہمیشہ رہی اور بدقسمتی سے ہمارے ہاں اس ضرورت کو ہمیشہ نظرانداز کیا گیا۔بالفرض آئی ایم ایف میں حکومتی درخواست کو پذیرائی ملتی ہے اور رقم بھی دی جاتی ہے پھر کیا ہوگا کہ بجٹ خسارے سمیت دیگر مسائل پر قابو پانے کا کوئی نسخہ کیمیا موجود ہے؟۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اقتصادی ماہرین سے مشوروں کے بعد آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اقتدار میں آئے تو بجٹ خسارہ 646فیصد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ دو ارب ڈالر ماہانہ تھا لیکن حکومتی رہنما بھول رہے ہیں کہ وہ ان مسائل کے حوالے سے جولائی کے عام انتخابات سے قبل لمبی چوڑی بحثیں کرتے تھے پھر انہوں نے متبادل تجاویز پر توجہ کیوں نہ دی۔ یہ نکتہ بھی اہم ہے کہ 2008ء میں پیپلز پارٹی اور 2013ء میں جب نون لیگ برسر اقتدار آئی تو انہیں بھی ایسے ہی مسائل کا سامنا تھا پھر کیا وجہ ہے کہ ان دونوں حکومتوں نے مسائل کا بوجھ عوام پر لانے سے گریز کیا؟ گو ان کی پالیسیاں بھی نامناسب رہیں، انہوں نے بھی متبادل پروگرام دینے کی بجائے قرضوں سے فاقہ مستی اور مالیاتی بحران کا علاج تلاش کرنے میں عافیت جانی، نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔اب تحریک انصاف کی حکومت بھی پیش رو حکومتوں کے نقش قدم پر چلنے کی طرف مائل ہے سوال یہ ہے کہ 8سے 10 ارب ڈالر کے مزید قرضوں سے وقتی سکون تو میسر آجائے گا لیکن مسائل کا کتا تو کنویں میں ہی رہے گا۔ یہاں ایک بات کالم کے موضوع سے ہٹ کر بھی عرض کرنا ضروری ہے وہ یہ کہ شہباز شریف جس آشیانہ سکینڈل میں گرفتار ہوئے ہیں اس سکینڈل کے حوالے سے سب سے پہلے جس ذات شریف جہاں زیب خان کا نام نامی سامنے آیا تھا انہیں موجودہ حکومت نے ایف بی آر کا سربراہ لگا دیا ہے، انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ انہیں اس منصب سے الگ کر کے اپنی پوزیشن کلیئر کروانے کو کہا جائے، کیونکہ عام تاثر یہ ہے کہ چونکہ وہ ایک سابق جرنیل کے صاحبزادے ہیں اسلئے موجود حکومت نے معاملات کو جانتے ہوئے نہ صرف اقدام سے پہلو تہی کی بلکہ انہیں اہم ترین منصب پر بھی فائزکر دیا۔ ہم اپنے اصل موضوع کی طرف پلٹتے ہوئے پھر سے یہ عرض کریں گے کہ زیادہ مناسب یہ ہوتا کہ کچھ دوست ممالک سے بھی معاشی بحران سے نکلنے میں مدد کی درخواست کی جاتی۔ بہرطور اب حکومتی وفد آئی ایم ایف سے مذاکرات کیلئے روانہ ہو بھی چکا ہے تو یہ عرض کرنا لازم ہے کہ آئی ایم ایف کی شرائط پر آنکھیں بند کر کے عمل کرنے کی بجائے متوازن اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ عدم استحکام بڑھنے نہ پائے۔

متعلقہ خبریں