Daily Mashriq

گیس کنکشن، برہنہ پا طلبہ اور تنخواہوں سے محروم ورکرز

گیس کنکشن، برہنہ پا طلبہ اور تنخواہوں سے محروم ورکرز

قارئین کرام کی طرف سے مختلف نوعیت کے شکایات پر مبنی برقی پیغامات کی بھرمار کے باعث بعض شکایتی مراسلہ جات شامل اشاعت ہونے سے رہ جاتے ہیں اور مزید نئے پیغامات آنے پر بعض پیغامات سرے سے رہ جاتے ہیں۔ کوشش رہتی ہے کہ اجتماعی نوعیت کے پیغامات بہرصورت کالم میں شامل کئے جائیں۔

ضلع بنوں سے حامد خان نے ایس این جی پی ایل کے سٹاف کی جانب سے گیس کنکشن لگانے کیلئے بیس ہزار روپے وصول کرنے کی شکایت کی ہے۔ میری معلومات کے مطابق گیس کنکشن معمول کے مطابق حصول کیلئے تقریباً کوئی چھ ہزار روپے ادائیگی کرنی پڑتی ہے لیکن فوری کنکشن کے حصول کیلئے زائد رقم کی ادائیگی ہوتی ہے۔ بہرحال شکایت کو اس تناظر میںلیا جاتا ہے کہ ایس این جی پی ایل ضلع بنوں کا عملہ صارفین سے میٹر لگا نے کیلئے اضافی رقم طلب کرتا ہے جس کا قانون کے مطابق جائزہ لیکر ایکشن لیا جانا چاہئے۔ مجھے بڑی خوشی ہوتی ہے جب ایسے علاقوں سے جو ماضی میں دہشتگردی کا شکار رہے ہیں سے کوئی برقی پیغام آتا ہے۔ شمالی وزیرستان سے واجد خان اس امر پر زور دیتے ہیں کہ قبائلی اضلاع میں ترقیاتی کاموں سمیت سکولوں، کالجوں، ٹرانسپورٹ اور ہسپتالوں کی حالت زار پر حکومت خصوصی توجہ دے۔ ان کا وزیراعظم عمران خان کے نام پیغام ہے کہ وہ قبائلی علاقوں کے عوامی مسائل کے حل پر خصوصی توجہ دیں۔ اتفاق سے یہ دوسرا برقی پیغام بھی بنوں ہی سے ہے۔ احمد جمیل بنوں سے سوال کرتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں پانچ سال گزرنے کے باوجود تبدیلی نہیں آئی۔ عوام کو اس حکومت سے جو توقعات تھیں وہ پوری نہیں ہورہی ہیں۔ واقعی دوسرے صوبوں میں تو تبدیلی اتنی جلدی نہیں آسکتی لیکن خیبرپختونخوا کی حد تک عوامی توقعات پر پورا نہ اُترنے کا الزام سنجیدہ ہے۔ حکمرانوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ کیوں کر عوام کی توقعات پر پورا اُترنے میں ناکام رہے۔ ایک بات جو سمجھ میں آتی ہے وہ یہ کہ یا تو حکمرانوں نے عوام کو ضرورت سے زائد سبزباغ دکھائے تھے یا پھر عوام کی توقعات ہی کچھ زیادہ تھیں، بہرحال مسائل اور مشکلات سے انکار ممکن نہیں اور عوام کی حکومت سے توقعات بھی بے جا نہیں۔ چارسدہ سے دانیال خان ایک ریٹائرڈ سرکاری ملازم ہیں جن کو پنشن کے حصول میں سخت مشکلات کا سامناہے۔ محکمے کا نام اور مسائل کی نوعیت نہیں لکھی البتہ سرکاری عملے سے سخت نالاں ہیں۔ سرکاری ملازمین جس طرح فرائض سے غفلت اور ڈنگ ٹپائو کرتے رہتے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، سرکاری کرسی پر جب سرکاری ملازمین دوسروں کا استحصال کر رہے ہوتے ہیں اس وقت وہ قطعی طور پر یہ نہیں سوچتے کہ ایک دن اس عہدے سے سبکدوشی کے بعد وہ بھی عام آدمی میں شمار ہوں گے۔ جس محکمے سے ملازم سبکدوش ہو کر اسی محکمے اور نظام کو کوسے تو ایسے میں عوام ان سے کیا توقع رکھیں گے۔چارسدہ سے مسعود خان گورنمنٹ ہائی سکول ڈھکی چارسدہ کے پرنسپل کے رویئے پر سخت نالاں ہیں کہ سکول کے پرنسپل نے طالب علموں کو چپل پہن کر سکول آنے پر ان کے چپل چھین کر ننگے پاؤں گھروں کو واپس بھجوا دیا کہ بوٹ پہن کر آئیں۔ اصولی طور پر تو پرنسپل کے اس اقدام کو نظم وضبط کے تناظر میں دیکھا جانا چاہئے لیکن جب والدین کی مالی حالت کا اندازہ لگایا جائے تو پھر صرف نظر مجبوری بن جاتی ہے۔کیونکہ جن کے پاس وسائل نہ ہوں وہ بچوں کو جیسے بھی ہو سکول بھجواتے ہیں، یہ اہم بھی ہے خواہ ننگے پیر ہی سہی۔ سکول پرنسپل سے گزارش ہے کہ وہ والدین کی مجبوریوں کا خیال کرتے ہوئے اس طرح کاسلوک نہ کریں۔ مجبوری بڑی بری چیز ہوتی ہے، بقول اعتبار ساجد

رہا پابرہنہ وہ خود سدا، نیا بوٹ مجھ کو دلا دیا

میرے باپ کے اسی روپ نے مجھے باپ جیسا بنا دیا

ورکرز ویلفیئر بورڈ خیبر پختونخوا کے یونس مروت ہمارے دیرینہ قاری ہیں، گزشتہ حکومت سے ان کی تسلسل سے یہ شکایت ہے کہ ورکرز ویلفیئر بورڈ کے ملازمین کو تین تین ماہ گزر جانے کے باوجود تنخواہوں کی ادائیگی نہیں ہوتی۔ ان کا اب وزیراعظم عمران خان سے براہ راست گلہ ہے کہ اب تو ان کو تنخواہوں کی ادائیگی ہونی چاہئے، اب تو مشکل کا شکار نہ بنایا جائے۔ میری پوری ہمدردی ہے، خود ایک تنخواہ دار ہونے کی بناء پر مجھے اس کا بخوبی احساس ہے کہ مہینے کے آخری اور ابتدائی دنوں میں کس طرح تنخواہ کے ختم ہونے اور تنخواہ ملنے کے بعد اس سے مہینہ گزارہ کرنے میں کیا مشکلات پیش آتی ہیں۔ اگر مہینوں تنخواہ نہ ملے تو سخت مجبوری کے عالم کا صرف انہی کو اندازہ ہوگا جو اس سے گزر رہے ہیں۔ ورکرز ویلفیئر بورڈ کو فنڈز کی فراہمی اور ملازمین کو تنخواہیں باقاعدگی سے ادا کرنے کی ذمہ داری ایسی نہیں جس کی کوئی توجیہہ پیش کی جاسکے۔ جملہ حکام سے اس ضمن میں خصوصی طور پر ہمدردانہ اقدام کی گزارش ہے۔ اس مسئلے کا کوئی مستقل حل تلاش کیا جانا چاہیے تاکہ ملازمین باربار احتجاج اور مطالبات پر مجبور نہ ہوںجبکہ دوسری جانب حقائق بہت تلخ ہیں، حکومت کے پاس وسائل نہیں، قرضوں کا بوجھ ہے۔ ایک طرف اگر یہ مسئلہ ہے تو دوسری جانب ملک میں ہونیوالی بد عنوانی ہی مسئلہ نہیں بلکہ مناسب منصوبہ بندی پر غور کیا جائے تو یہ سب سے زیادہ سنگین مسئلہ بن کر سامنے آتا ہے۔ حکومت کے بعض منصوبوں کے نافع ہونے میں تو کلام نہیں لیکن جہاں معاملات جسم وجان کا رشتہ برقرار رکھنے کا ہو وہاں پر فاقہ مستی کرنا عوام کوسہولیات کی فراہمی نہیں کہلائی جا سکتی بلکہ یہ عوام کو بھوکوں مارنے کے زمرے میں شمار ہوتا ہے۔ ملکی مسائل چٹکی بجاتے حل نہیں ہوسکتے ان کیلئے بہتر منصوبہ بندی اور پھر اُس پر ایمانداری سے عمل پیرا ہونا ہی وہ نسخہ ہے جو تبدیلی کی بنیاد بن سکتا ہے۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں