Daily Mashriq


پہلے تولنا پھر بولنا چاہئے

پہلے تولنا پھر بولنا چاہئے

ہمارا میڈیا روزانہ پرانے ویڈیو کلپس چلاچلا کر خان صاحب کو یاد دلاتا ہے کہ اپوزیشن میں رہتے ہوئے آپ کیا کچھ کہا کرتے تھے۔ کیسے کیسے انمول نظریہ، اصول اور ویژن کی باتیں کیا کرتے تھے۔ اقتدار ملتے ہی سب بھول گئے، حکومت بنانے کیلئے آزاد ارکان کی خریداری سے لیکر معاش اور معیشت اور عوام الناس کی تکالیف سے متعلق اب تک کئے گئے سارے فیصلے ماضی میں کہی گئی ان کی ساری باتوں پر ان کا منہ چڑا رہی ہے۔ اقتدار اعلیٰ کے پہلے ہی مہینے میں گندم، گیس اور بجلی مہنگی کرکے یہ کہا جا رہا ہے کہ ان سے غریب عوام پر کوئی اضافی بوجھ نہیں پڑے گا۔ معاش اور معیشت کی تھوڑی سی بھی سوجھ بوجھ رکھنے والے کو کم ازکم اتنا تو ضرور پتا ہوتا ہے کہ 2وقت کی روٹی کھانے والوں کیلئے یہی چیزیں بہت اہم ہوا کرتی ہیں۔ ہماری سمجھ میں نہیں آرہا کہ خان صاحب کے ماہرین معاشیات گزشتہ 10سالوں میںکیا کرتے رہے۔ وہ سارے منصوبے کہاں چلے گئے جن کو بیان کرکرکے وہ سابق حکمرانوں پر بڑی تنقیدیں کیا کرتے تھے۔ آج جب خود کا وقت آیا تو پھر وہی طرز عمل اپنانے لگے جس کی مخالفت میں تو وہ ساتوں آسمان سر پر اُٹھا لیتے تھے۔ خان صاحب ملکی قرضوں کیخلاف بہت بولتے رہے۔ شاید آج بھی بولتے ہیں کہ یہ قرضے گزشتہ 15,10سالوں میں 6ارب ڈالرز سے 28ارب ڈالرز ہو چکے ہیں۔ عوام انہیں منتخب کرنے سے پہلے یہ سمجھ رہے تھے کہ یہ اگر برسراقتدار آگئے تو نئے قرضے نہیں لیںگے۔ وزیراعظم عمران خان نے اپنے ہی زیر صدارت اجلاس میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کی منظوری دیکر کشکول بدست ہونے کا ثبوت دیا جسے قوم کشکول شکن کے کردار کیلئے منتخب کر چکی ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو اب اس امر کا ادراک ہو چکا ہوگا کہ کنٹینر پر کھڑے مجمع سے خطاب اور وزارت عظمیٰ کی کرسی پر بیٹھ کر فیصلے کرنے میں کتنا بڑا فرق ہے۔ جو الفاظ انہوں نے ادا کئے تھے وہ موقع بموقع ان کو یاد دلائے جاتے رہیں گے اور عوام میں قول وفعل کا تضاد چھپانا ان کیلئے سب سے بڑا مسئلہ ہوگا۔ اسی لئے تو سیانے کہتے آئے ہیں کہ پہلے تولو پھر بولو، تول کر بولنے کا رواج اگر ہماری سیاست میں آجائے سٹیج پر کھڑے ہوکر اگر سیاستدان دعوے کرتے ہوئے یہ سوچنے لگیں کہ ان الفاظ اور ان دعوؤں کا خدا کے بعد عوام کو بھی جواب دینا ہے تو اس طرح کی نوبت کبھی نہ آئے۔ بہرحال ایسا لگتا ہے کہ کام سارے وہی ہو رہے ہیں جو پہلے ادوار میں ہوتے رہے لیکن اب طریقہ کار بدل چکا ہے۔ پہلے ہم خود آئی ایم ایف کے پاس جایا کرتے تھے اب وہ بے چارے خود ہی چل کر آ گئے ہیں۔ پہلے ان کی سخت شرائط پر قرضے حاصل کرنے کے جواب میں ہمارے یہاں مہنگائی کی جاتی تھی مگر اب یہ کام ہم نے پہلے ہی کر دکھایا ہے۔ گیس، بجلی اور گندم کے نرخ بڑھا کر ان کی متوقع شرائط پر ہم نے پہلے ہی عملدرآمد کر لیا ہے۔ لہٰذا اب ہم اپنے عوام کو یہ خوشخبری سنا سکیں گے کہ آئی ایم ایف نے کسی شرط کے بغیر ہمیں بیل آؤٹ پیکیج دیدیا ہے۔ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی نامزدگی کرکے خان صاحب نے خود ہی اپنے سابقہ بیان سے مکمل انحراف کیا ہے کہ یہ کام وزیراعظموں کے کرنے کا نہیں ہوتا۔ وہ جوش وجذبا ت میں یہ کہہ چکے تھے کہ دنیا میں کوئی وزیراعظم ایسا نہیں جو کرکٹ بورڈ کے چیئرمین کی نامزدگی کرے لیکن اقتدار سنبھالتے ہی نجم سیٹھی کو ہٹاکر اور احسان مانی کو نیا چیئرمین نامزد کرکے خود ہی انہوں نے اپنے قول وفعل میں تضاد ثابت کیا۔ سابقہ حکومت کی نجکاری پالیسی پر وہ بہت بڑے مخالف اور نقاد رہے ہیں۔ پی آئی اے اور اسٹیل ملز کی نجکاری کا ایشو جب بھی سامنے آیا انہوں نے ببانگ دہل اس کی مخالفت کی۔ اب یہ دونوں ادارے ان کے کسی فوری فیصلے کے منتظر ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ان کی قابل فخر مایہ ناز ٹیم سو دنوں میں ان دونوں اداروں کے بارے میں کیا فیصلہ کرتی ہے۔ خسارے میں چلنے والے ادارے یونہی حکمرانوں کی عدم توجہ کا شکار رہیں گے یا پھر کوئی مثبت اور ٹھوس تجویز ان کی بہتری کا باعث بنے گی۔ منی بجٹ پیش کرکے قوم سے ساری مراعات واپس لے لی گئی ہیں۔ سارے ترقیاتی کاموں پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ صحت، تعلیم اور بہبود پر خرچ ہونے والی ساری مختص رقوم پر کٹوتی کر دی گئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں بیچ کر حکومتی اخراجات پورے کئے جا رہے ہیں۔ حکومت کے ایسے اقدامات سے معاشی بہتری توکجا اُلٹا ایک خطرناک بحرانی صورتحال ضرور پیدا ہوسکتی ہے۔ روپے کی قدر میں اچانک ایک بار پھر سے گراوٹ حکمرانوں کی ایسی ہی پالیسیوں کا نتیجہ ہے۔ حکومت کو اپنی کارکردگی اور حکمت عملی کا ایک بار پھر جائزہ لینا ہوگا اور ہنگامی بنیاد پر اس کی اصلاح کرنا ہوگی۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہوگا اور ضد اور انا کو چھوڑ کر ملک وقوم کی بہتری کیلئے فیصلے کرنا ہوںگے۔ ایسا نہ ہوکہ پھر دیر ہو جائے اور ہمارے پاس اپنی غلطیوں کے تدارک کا راستہ بھی معدوم ہوکر رہ جائے۔

متعلقہ خبریں