Daily Mashriq


کہانی آگ کی ہے، استعارے برف جیسے ہیں

کہانی آگ کی ہے، استعارے برف جیسے ہیں

موسم نے بالآخر انگڑائی لے ہی لی، اگرچہ موبائل فون پر صبح ہی سے ہلکی بارش ہونے کی موسمی پیش گوئی جاری تھی مگر یہ اندازہ نہیں تھا کہ جب بارش کا سلسلہ آغاز ہوگا تو وقفے وقفے سے بارش تیز اور پھر موسلادھار ہو جائے گی، بلکہ رات گئے تک جل تھل کا سماں ہوگا اور وہ جو گزشتہ دو تین مہینے کی گرمی سے لوگ پریشان تھے ان کے چہرے کھل اُٹھیں گے، حالانکہ گرمی کے دنوں خصوصاً ساون کے مہینے میں بھی توقعات سے کم کم ہی آسمان مہربان ہوا تھا، چونکہ ہمارے ہاں پشاور اور مضافات میں ساون نام کی کوئی چیز نہیں ہوتی اور اسی مہینے کو جو باقی ملک خصوصاً اٹک کے دوسری جانب ہی جولانی طبع کا اظہار کر دیتا ہے اسلئے اس صورتحال پر میں نے ایک بار کہا تھا کہ

برہن اپنے ساجن کو کیسے بلوائے دیس

اب کے برس تو ساون کے چھاگل بھی خالی خالی

یہ اس کیفیت کی غمازی کرتا شعر ہے جسے ایک فلمی شاعر نے یوں واضح کیا تھا کہ اب کے برس تو سجن گھر آجا، اور ایک مشہور گیت تو وہ بھی ہے نا جس سے ان علاقوں کے رسم ورواج پر روشنی پڑتی ہے جہاں ساون اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے، یہ علاقے پنجاب سے وسطی ہندوستان تک کے علاقے ہیں جہاں پردیس جانے والے ساجنوں کی جدائی کا دکھ اس گیت میں بیان کیا گیا ہے کہ

ساون میں پڑے جھولے

تم بھول گئے ہم کو

ہم تم کو نہیں بھولے

بات موسم کی انگڑائی سے شروع ہوئی تھی اور ساون کے کٹیلے پن میں جا کر اٹک گئی تھی، اس لئے واپس موضوع پر آتے ہیں، گزشتہ روز کی رم جھم نے سردیوں کی آمد کا اعلان کر دیا ہے اور اگر ایک آدھ بارش اور ہوگئی تو سمجھو سردیوں نے پنجے گاڑ لئے ہیں، یہ الگ بات ہے کہ بالائی علاقوں میں موسم پہلے ہی خنک ہو چکا ہے بلکہ گزشتہ روز تو ہمارے ایک دیرینہ کرمفرما پروفیسر ناصر علی شاہ کے فرزند دلبند سید ذی شان نے کوہاٹ جاتے ہوئے اپنے موبائل فون سے جو مختصر سی وڈیو فیس بک پر شیئر کی ہے اس میں گاڑی کے ونڈ سکرین سے سڑک پر برف کو بہ آسانی دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شاید درہ آدم خیل یا پھر آگے کہیں بارش کے قطروں نے ہلکی ہلکی برف کی صورت اختیار کرلی تھی۔ اس سے اندازہ لگانے میں کوئی دشواری نہیں ہونی چاہئے کہ آگے ٹل، پارہ چنار وغیرہ کی پہاڑیوں نے باقاعدہ سفید چادر اوڑھ لی ہوگی اور ایسی ہی کیفیت کاغان، ناران، ٹھنڈیانی، ایوبیہ، نتھیاگلی جبکہ دوسری جانب سوات کے بالائی علاقوں کی بھی ہوگی اور عین ممکن ہے کہ لواری ٹاپ پر بھی ہلکی ہلکی برفباری ہوئی ہو، تریچ میر کا فلک بوس پہاڑ تو خیر کبھی برف سے خالی نہیں ہوا اور گرمیوں کے موسم میں اس پر موجود برف آہستہ آہستہ پگھل کر مختلف سمتوں سے دریائے چترال کی موجوں میں اضافہ کرتی رہتی ہے مگر سردی کا آغاز ہوتے ہی اس پر مزید برف پڑنا شروع ہو جاتی ہے، یوں قدرت کی جانب سے تریچ میر کی اس فیاضی کا جواب دیدیا جاتا ہے جو اس نے گرمی کے دنوں میں اپنے برف آلود پانیوں کی صورت میں انسان کو پانی کی صورت میں دان کی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی شان ایسے ہی علاقوں میں جاکر دیکھی جا سکتی ہے، گرم چشمہ جاتے ہوئے ایک جگہ دو دریاؤں کے ملاپ کا نظارہ قدرت کی عظمت کا منہ بولتا ثبوت بن کر سامنے آتا ہے جہاں ایک جانب سے آنے والا پانی سبزی مائل تو دوسری جانب اس سے آکر ملنے والے پانی کا رنگ ریتیلاہوتا ہے اور ان دو پانیوں کے حسین ملاپ کو دیکھ کر انسان دنگ رہ جاتا ہے۔ پھر گرم چشمہ میں پہاڑوں سے اُبل کر آنے والا پانی اس قدر گرم ہوتا ہے کہ اسے ہاتھ لگانا ممکن ہی نہیں ہے، مقامی طور پر اس پانی کو ایسے تالابوں میں سے گزارا جاتا ہے جہاں جسمانی طور پر بیمار اور معذور افراد کو ان تالابوں میں بٹھا کر شفا کے عمل کا حصہ بنایا جاتا ہے۔

اب تو لواری ٹنل کی تعمیر سے صورتحال بہت حد تک بدل گئی ہے اور سردیوں میں بھی چترال جانے میں حائل دشواریاں بہت کم ہو چکی ہیں مگر جب تک لواری ٹنل مکمل طور پر فعال نہیں ہوگا، کچھ نہ کچھ مشکلات درپیش رہیں گی، لیکن جس دور میں یعنی نوے (90)کی دہائی کے اواخر میں سردیوں کے موسم میں وادی چترال کیساتھ رابطے کا واحد ذریعہ پی آئی آے کے ازکار رفتہ فوکر جہاز ہوا کرتے تھے جن کو اتنی بار مرمت کیا گیا تھا کہ ذرا تیز ہوا میں بھی ان کی اُڑان خطرے سے خالی نہ ہوتی تھی، ایک بار تو خود میرے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا کہ ہمارا جہاز چترال ایئرپورٹ پر دو تین چکر لگانے کے بعد پشاور واپس آگیا تھا کیونکہ نیچے وادی میں تیز ہوا تھی اور جہاز لینڈ نہیں کر سکتا تھا، تب گرمی کے دنوں میں لواری پر موجود برف یار لوگ سوزوکیوں اور ڈاٹسنوں میں بھربھر کر شہر لاتے اور فروخت کرتے، یعنی پانی ان سے ٹھنڈا کیا جاتا۔ اب کیا صورتحال ہے معلوم نہیں لیکن جب تک وہاں برف کا کارخانہ قائم نہ کیا جائے شاید زندگی یوں ہی گزرتی رہے گی کیونکہ بجلی کا نظام بھی قابل اعتماد نہیں اور ایسی صورت میں فریج یا فریزر کہاں درست طور پر کام کرسکتے ہیں۔

بہرحال اہل پشاور کو گزشتہ روز کی بارش مبارک ہو کہ سردیوں کا آغاز ہو گیا ہے البتہ بی آر ٹی کا کیا حا ل ہے؟ شاید نئے تالاب بن کر عوام کے عذاب میں اضافے کا باعث بن چکے ہوں اس لئے احتیاط!!

قلم فالج زدہ ہے لفظ سارے برف جیسے ہیں

کہانی آگ کی ہے، استعار ے برف جیسے ہیں

متعلقہ خبریں