Daily Mashriq

سری لنکا میں پاکستانی سفیر کی تعیناتی تنازع کا شکار

سری لنکا میں پاکستانی سفیر کی تعیناتی تنازع کا شکار

اسلام آباد: سری لنکا میں نئے سفیر کی تعیناتی تنازع کا شکار ہونے کی وجہ سے نہ صرف پاکستان کو سفارتی شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا ہے بلکہ ملک میں سفیر کے عہدوں پر ریٹائرڈ فوجی افسران کی تقرری کا ناقص طریقہ کار بھی سامنے آگیا ہے۔

30 ستمبر کو جاری کیے گئے بیان میں دفتر خارجہ نے کہا تھا کہ وزیراعظم عمران خان نے مختلف ممالک میں سفیروں کی بڑے پیمانے پر تقرریاں اور تبادلوں کی منظوری دے دی، جن میں ریٹائرڈ میجر جنرل سعید خٹک کی سری لنکا میں بطور ہائی کمیشن تعیناتی بھی شامل تھی۔

میجر (ر) جنرل سعید خٹک ان سے قبل ریٹائرڈ میجر جنرل حمشت کولمبو میں ہائی کمشنر کی خدمات سرانجام دے رہے تھے اور ان کی 2 سالہ مدت پوری ہوگئی تھی۔

تاہم تقرری کے اعلان کے ایک روز بعد وزیر دفاع پرویز خٹک کی جانب سے کابینہ اجلاس میں جنرل (ر) سعید خٹک کی تعیناتی پر اعتراض اٹھایا گیا تھا جس کے بعد حکومت نے ان کی تقرری منسوخ کرنے کا فیصلہ کیا۔

دفتر خارجہ میں موجود ذرائع نے بتایا کہ جب حکومت نے جنرل (ر) سعید خٹک کی تعیناتی سے متعلق فیصلہ تبدیل کیا اس وقت تک سری لنکا کی حکومت سے ان کی بطور ہائی کمشنر تقرری سے متعلق رضامندی کی درخواست کی جاچکی تھی، جسے سفارتی زبان میں ایک ’ معاہدہ ‘ کہا جاتا ہے۔

خیال رہے کہ سفارتی عمل میں جس ریاست میں سفیروں کی تقرری کی جارہی ہو اس کی رضامندی لازمی ہوتی ہے۔

لہذا جنرل (ر) سعید خٹک کی تقرری سے متعلق معاہدے کی درخواست سے دستبردار ہونا پڑا، نامزدگیاں واپس لینا غیر معمولی نہیں، مختلف ممالک نامزدگیاں واپس لیتے ہیں اسی طرح وہ ممالک جہاں تقرری کی جارہی ہو وہ نامزدگیاں مسترد کردی جاتی ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ وصول کنندہ ریاست کی جانب سے معاہدہ موصول ہوجانے تک سفیر بھیجنے والے ملک کی جانب سے تقرری کا اعلان نہیں کیا جاتا ہے اور ماضی میں پاکستان میں بھی اسی طریقہ کار پر عمل کیا جاتا تھا۔

تاہم پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی ) کی حکومت کے دوران یہ طریقہ کار تبدیل ہوگیا اور معاہدے کی رسید موصول ہونے سے قبل سفرا کی نامزدگیوں کا اعلان کردیا جاتا ہے۔

دفتر خارجہ کے عہدیدار نے کہا کہ جس ملک میں سفیر بھیجا جارہا ہو مذکورہ طریقہ کار اس کی توہین ہے۔

یہ سفارتی غلطی ایک طرف لیکن جنرل (ر) سعید خٹک کی تقرری کے معاملے سے فارن سروس سے تعلق نہ رکھنے والے سفیروں کے 20 فیصد کوٹے پر ریٹائرڈ فوجی افسران کی تعیناتی کا طریقہ کار بھی سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ فارن سروس سے تعلق نہ رکھنے والے سفیروں کی 16 پوسٹس میں سے 8 پر عام طور پر فوجی افسران ہی بھرتی ہوتے ہیں جن میں سری لنکا، یوکرین، برونائی، بوسنیا، نائیجریا، موریشس، مالدیپ اور اردن میں موجود سفرا شامل ہیں۔

نظریاتی طور پر ریٹائرڈ فوجی افسران کی نامزگیاں ان کے متعلقہ مسلح افواج کے ہیدکوارٹر کے ذریعے وزیر دفاع اور پھر دفتر خارجہ تک کی جانی چاہئیں۔

تاہم ذرائع کا دعویٰ ہے کہ وزارت دفاع کو نظر انداز کیا گیا تھا اسی لیے وزیر دفاع نے نامزدگی کے عمل کے دوران کے بجائے کابینہ اجلاس میں یہ اعتراضات اٹھائے۔

خیال رہے کہ سفارتی تقرریوں کا اختیار وزیراعظم کے پاس موجود ہے جس کے لیے کابینہ کی اجازت کی ضرورت نہیں۔

تاہم یہ بھی کہا جارہا ہے کہ وزرات دفاع بااثر ہوتی تو حکومت خود کو شرمندگی سے بچاسکتی تھی۔

اس سلسلے میں وزیر دفاع پرویز خٹک سے رابطہ کیا گیا تھا لیکن ان کی جانب سے جواب موصول نہیں ہوا۔

یہ الزام بھی عائد کیا جارہا ہے کہ وزیر دفاع اور جنرل (ر) سعید خٹک کے اختلافات سیاسی نوعیت کے ہیں کیونکہ دونوں کا تعلق نوشہرہ ہے۔

اس سے قبل وزیر دفاع نے ان کی ایواکیو ٹرسٹ پراپرٹی بورڈ (ای ٹی پی بی) کے چیئرمین تعیناتی بھی رکوادی تھی۔

ایک سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ ’ کابینہ اجلاس میں کیا بات چیت ہوئی اس حوالے سے میں کچھ نہیں کہہ سکتا لیکن جہاں تک سفارتی سطح پر تقرریوں کی بات ہےتمام تقرریاں ایک طریقہ کار کے مطابق کی گئی تھیں۔

متعلقہ خبریں