Daily Mashriq

پشاورکے روایتی قہوہ خانوںکے سماوارتاریخ بن گئے

پشاورکے روایتی قہوہ خانوںکے سماوارتاریخ بن گئے

پشاور ( صابر شاہ ہوتی) گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ قصہ خوانی میں صدیوں سے قائم قہوہ خانوں سے تانبا ( مس) کے سنہری رنگ کے خوبصورت قدیم سماوار بھی تاریخ کا حصہ بن گئی ہیں۔ اب د کاندار تانبے کی بجائے سٹیل کے بنے سماوارچائے اور روایتی پشاوری قہوہ بنانے کیلئے استعمال کرتے ہیں ۔ پشاور کے قدیم ترین ریتی بازار میں سٹیل کے سماواربنانے والے ایک کاریگر تیمور علی نے کہاکہ وہ پہلے مس ( تانبے )کے بنے سماوار بناتا تھا لیکن اب ایک عرصہ ہوگیا ہے کہ مس کے سماوار کی مانگ میں کمی آگئی ہے اور ہوٹلوں والے اب مس کے بجائے ارزاںقیمت والے سٹیل کے سماوار خریدتے ہیں، تیمور کا کہنا تھا کہ مس کے سماوارکی فروخت میں کمی کی بڑی وجہ اسکی قیمت کا زیادہ ہونا ہے ، انہوں نے کہاکہ مس کے سماوار کا ایک جوڑا 8000ہزار روپے کا ہوگیا ہے جبکہ سٹیل کے سماوار کا جوڑا 2000روپے میں فروخت ہوتا ہے، ا سکا کہنا تھا کہ مس سے بنے سماوار کا ایک جوڑا ایک ہفتہ میں تیار کیا جاتا ہے جس پر محنت بھی زیادہ کی جاتی ہے جبکہ سٹیل کے سماوار کا ایک جوڑا ایک دن میںآسانی سے تیار ہوجاتا ہے،سٹیل کے سماوار میں پانی جلدی گرم ہوجاتا ہے اور اس پر گیس بھی کم خرچ ہوتی ہے ، اور یہی وجہ ہے کہ لوگ مس کے بنے سماوار کی جگہ سٹیل کے بنے سماوار خریدتے ہیں ، دوسری جانب اندرون شہر سالوں سے آباد قہوہ خانوں کے مالکان کا کہناہے کہ اصل قہوے کا ذائقہ مس کے بنے قدیم سماواروں میں ہی آتا ہے کیونکہ اس میں پانی دیر سے گرم ہوتا ہے لیکن پورا دن گرم بھی رہتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اس سے قہوے کا اصل ذائقہ اور رنگ آتا ہے۔سٹیل کے بنے ہوئے سماوار سستے تو ہیں لیکن ان میں قہوے کا وہ ذائقہ نہیں آتا ہے ، دوکانداروں کا کہنا تھا کہ مس کے سماواروں کے ختم ہو نے سے جو ابھی بننا بھی بہت کم ہوگئے ہیں اس سے قہوہ جو پشاور کی پہچان ہے وہ اصل ذائقہ بھی ختم ہو جائے گا۔

متعلقہ خبریں