چینی وزیر خارجہ کا دورۂ پاکستان

10 ستمبر 2018

خطے کی بدلتی ہوئی صورت حال میں امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کے پانچ گھنٹے کے دورۂ اسلام آباد کے بعد چینی وزیر خارجہ مسٹر وانگ ژی کا تین دن کا دورہ خصوصی اہمیت کا حامل قرار دیا جانا چاہیے۔ اس دورے کے پہلے ہی دن جن موضوعات پر نتیجہ خیز بات چیت ہوئی وہ اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکہ وزیر خارجہ کے دورہ کے بعد کہا گیا کہ پاک امریکہ تعلقات کو نئے سرے سے استوار کرنے پر غور کیا جائے گا اس سے یہ عیاں نہیں ہوتا کہ وہ کون سے موضوعات ہوں گے جن پر نئے سرے سے غور کیا جائے گا‘ اس کے ساتھ ہی امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو آئندہ ماہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے دوران گفتگو کی دعوت بھی دی ۔ اس سے یہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ دونوں ممالک تحفظات اور توقعات کے بارے میں مزید گفتگو کریں گے تاہم امریکی وزیر خارجہ نے صدر ٹرمپ کے پاکستان کی کولیشن سپورٹ فنڈ کی ادائیگی روکنے کے اعلان پر کوئی تبصرہ کیا نہ ہی اپنے اس بیان کی وضاحت کی جس میں چند ہفتے پہلے انہوںنے کہا تھا کہ پاکستان اگر آئی ایم ایف کے پاس امداد کے لیے جائے تو آئی ایم ایف کوئی ایسی امداد نہ دے جس میں امریکی ڈالر پاکستان کے چین کے قرضے اُتارنے کے کام آ سکیں۔ امریکہ کے ان اقدامات سے کم ازکم یہ ضرور آشکار ہو جاتا ہے کہ اس وقت جب پاکستان میں برسراقتدار آنے والی نئی حکومت اقتصادی مشکلات کا شکار ہے۔ امریکہ ایک طرف کولیشن سپورٹ فنڈ کے حوالے سے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کر رہا دوسری طرف آئی ایم ایف کو بھی پاکستان کی کسی مجوزہ امداد کے حوالے سے تنبیہہ کر رہا ہے۔ امریکہ کے اس حوالے بیان سے کہ آئی ایم ایف کی امداد کی صورت میں امریکی ڈالر پاکستان کاچین کا قرضہ ادا کرنے کے کام آئیں گے‘ یہ تاثر دینا مقصود ہے کہ پاکستان چین کے قرضے تلے دبا ہوا ہے۔ پاکستان کی طرف سے اس بات کی وضاحت کی جا چکی ہے کہ چین کو پاکستان کی طرف سے کسی فوری ادائیگی کا سامنا نہیں ہے۔ اس کے باوجود یہ سوال پاکستان اور چینی وزرائے خارجہ کی پریس کانفرنس میںبھی اٹھایا گیا کہ سی پیک منصوبوں کے باعث پاکستان کے قرضوں کے بوجھ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اس پرچین کے وزیر خارجہ مسٹر وانگ ژی نے اس تاثر کو یکسر مسترد کر دیا ۔ انہوں نے تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ 22منصوبے منظورکیے گئے تھے جن میں سے 9منصوبے مکمل ہو چکے ہیں اور تیرہ منصوبہ پر کام ہو رہا ہے۔ ان منصوبوں کے باعث پاکستان کی اقتصادی ترقی کی شرح میں 2ء1فیصد اضافہ ہوا ہے اور ستر ہزار لوگوں کو ملازمتیں ملی ہیں۔ چین کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان اور چین دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی اور ملک منصوبے کے ثمرات سے فائدہ اٹھانا چاہے تو اس کی شمولیت کا خیر مقدم کیا جائے گا۔ اور یہ یقین کیا جا سکتا ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل کے بعد بہت جلد علاقے کے دیگر ممالک بھی اس میں شامل ہونے کو ترجیح دیں گے اور یہ منصوبہ علاقے میں امن و سلامتی اور استحکام کے فروغ کا باعث ہو گا۔ پاکستان کو بوجوہ اس وقت جن اقتصادی مسائل کا سامنا ہے وہ مسائل بہت گمبھیر ہیں لیکن دائمی نہیں ہیں۔ پاکستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے درمیان اس بات پر اتفاق ہوا ہے کہ چین دہشت گردی اور غربت کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مدد کرے گا۔ پاکستان کی برآمدات بڑھانے‘ تعلیم کے فروغ اور روزگار کی فراہمی کے لیے مشترکہ میکنزم بنایا جائے گا۔ اس کے علاوہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے دونوں ممالک کے سٹریٹجک تعلقات بھی بڑھائے جائیں گے۔ چین کی پاکستان کے مسائل سے آگاہی اور ان مسائل کے دور کرنے کے بارے میں دردمندی پاک چین دوستی کی مثالی حیثیت کی گواہی دیتی ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات کی ہے اور وزیر اعظم عمران خان کو چین کے دورے کی دعوت بھی دی ہے۔ مسٹر وانگ ژی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کی نئی حکومت سے رابطے بڑھاتے آئے ہیں۔ اس پر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بجا طور پر کہا ہے کہ پاک چین دوستی اور سی پیک کامنصوبہ ہر قیمت پر جاری رہے گا ‘ یہ منصوبہ ہماری ترقی اور استحکام کا باعث ہے۔ آرمی چیف سے ملاقات کے دوران چینی وزیر خارجہ نے نہ صرف خطے میں امن کے لیے پاکستان کی فوج کو سراہا بلکہ سی پیک منصوبے کی حفاظت کے لیے پاک فوج نے جو قابلِ قدر کام کیا ہے اس کی بھی تعریف کی ۔ پاکستانی قیادت کے ساتھ ابتدائی ملاقاتوں میں اس یقین دہانی کے بعد کہ سی پیک منصوبہ پاکستان کی اولین ترجیح ہے اور اسے تیزی سے مکمل کیا جائے اور چینی وزیر خارجہ کے ان اعلان سے کہ چین پاکستان کے مسائل کے حل میں مدد دے گا ۔ دونوں ملکوں کے درمیان اشتراک عمل اور اتحاد اعلان ایک باعث اطمینان پیش رفت ہے جس کے مستقبل میں خطے کی صورت حال ہے مثبت نتائج مرتب ہونے کی امید ہے۔

مزیدخبریں