Daily Mashriq


دیامر بھاشا ڈیم کیلئے فنڈ ریزنگ

دیامر بھاشا ڈیم کیلئے فنڈ ریزنگ

اپنی مدد آپ کے تحت دیامر بھاشا ڈیم کی تعمیر کے لیے قائم کیے جانے والے فنڈ میں عطیات کی بھر مار شروع ہوتی نظر آتی ہے۔ اب تک اس میں بعض اندازوں کے مطابق دو ارب روپے کے قریب جمع ہو چکے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان کی اپیل پر بیرون ملک مقیم پاکستانی بھی اس میں پرجوش انداز میں حصہ لے رہے ہیں ۔ خبروں کے مطابق ایک پاکستانی نژاد امریکی نے ایک ارب ڈالر کے عطیہ کااعلان کیا ہے جو بڑی خطیر رقم ہے۔ اس پاکستانی کے جذبہ کو سلام پیش کیا جانا فطری ردِعمل ہو گا لیکن ہر پاکستانی جو اس کارخیر میں حصہ لے گا خواہ وہ دس روپے کی ٹیلی فون کال کرنے والا سکول کا طالب علم ہو اتنا ہی قابلِ احترام ہے جتنا کوئی اور عطیہ دینے والا کیونکہ اصلی قدر و قیمت اس جذبہ کی ہے ‘ رقم کا کم یا زیادہ ہونا توفیق پر منحصر ہے۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان نے رہنماؤں کو عطیات دینے کے حق میں اتفاقِ رائے حاصل کرنے کے لیے بیرون ملک بھیجنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ معلوم نہیں اس خبر میں کتنی حقیقت ہے تاہم جتنا خرچ ان رہنماؤں کا بیرون ملک دوروں پر ہو گا بہتر ہو گا کہ وہ رقم فنڈ ہی میں جمع کرادی جائے۔ جہاں تک بیرون ملک پاکستانیوںکو دیامر بھاشا ڈیم کے حق میں قائل کرنے کی بات ہے اس بارے میں پہلے ہی بہت معلومات لوگوں کے پاس ہیں ۔ باقی کام بیرون ملک رہنے والے پاکستانی خود ہی کر سکتے ہیں ۔سفارت خانوں کی موجودگی میں کسی اور کو اس فنڈ کی خاطررائے ہموار کرنے کے لیے بھیجنا اخراجات بڑھانے کے مترادف ہو گا خواہ وہ اخراجات کوئی اپنی جیب سے ادا کرے۔ دیامر بھاشا ڈیم پر کام بہت سے ہونے ہیں جن میں سے کچھ ابھی سے شروع کیے جا سکتے ہیں۔ پہلا کام اس رقم کے آڈٹ کا ہے جس کے بارے میں سابقہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایک سو ارب روپے زمین کی خریداری کے لیے مختص کیے جن میں سے 55ارب روپے خرچ ہو چکے ہیں۔ یہ زمین کس کس سے کس بھاؤ خریدی گئی یہ معلوم ہونا چاہیے۔ اور بجائے زمینوں کی قیمت ادا کرنے کے یہاںکے رہنے والوںکو قریبی علاقوں میں متبادل زمینیں دی جانی چاہئیں تاکہ وہ ان علاقوں میں بودو باش شروع کر سکیں جن میں وہ صدیوں سے رہتے آئے ہیں۔ جس وسیع علاقے میں یہ ڈیم تعمیر ہو گا اس میں سیاحت کا بندوبست کیا جا سکتا ہے۔ علاقے میں کچھ آثار قدیمہ بھی ہیں لوگ انہیں دیکھنا چاہیں گے ۔ ان آثار قدیمہ کو محفوظ کرنے کے لیے کسی قریبی شہر میں میں میوزیم بنا دیا جانا چاہیے۔ جس میں آج اس علاقے کی آبادیوں ‘ یہاں کی ثقافتی سرگرمیوں اور طرز زندگی کی تصاویر بھی رکھی جانی چاہئیں۔ اس میوزیم کی آمدنی کو بھی فنڈ کا حصہ بنایاجا سکتا ہے۔ آثار قدیمہ کی منتقلی کے لیے یونیسکو سے مدد لی جانی چاہیے تاکہ ان پر آئندہ لوگ تحقیق کر سکیں ‘ ان کی قدیم ثقافت اور اس وقت کے انسانوںکے بارے میںمعلومات حاصل کر سکیں۔ فنڈ ریزنگ کیلئے بیرون ملک لوگوں کو بھیجنے کی بجائے بیرون ملک سے آنے والے سیاحوںکو اس طرح راغب کیا جانا چاہیے۔

میاں شہباز شریف کا چیلنج

قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر میاں شہباز شریف کیا تو تقریباً تین ہفتے خاموش رہے جس سے یہ خیال ابھرتا ہوا محسوس ہوتا تھا کہ وہ عمران خان کی حکومت کو وقت دینا چاہتے ہیں ، کہ یکایک انہوں نے چیلنج کر دیا ہے کہ وہ قومی اسمبلی کی کارروائی نہیں چلنے دیں گے‘ اگر حکومت نے انتخابات میں مبینہ دھاندلی کی تحقیقات کے لیے پارلیمانی کمیشن نہ بنایا۔ یہی نہیں انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گیس ‘ بجلی اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ ایسی خبریں تو تھیں کہ گیس‘ بجلی اور کھاد کی قیمتوں پر نظر ثانی کیلئے غور کیا جا رہا ہے لیکن فیصلہ نہیں ہوا تھا۔ میاں شہباز شریف نے قیمتوں میں اضافے کا الزام اس وقت لگایا جب وزیر خزانہ اسد عمر یہ اعلان کر چکے تھے کہ گیس ‘ بجلی اور کھاد کی قیمت نہیں بڑھائی جا رہیں۔ اپوزیشن لیڈر تک شاید یہ اخبارات میں شائع ہونے والی خبرنہیں پہنچی۔ میاں صاحب نے کہا ہے کہ بیس روز ہو گئے لیکن وزیر اعظم عمران خان نے انتخابات میں دھاندلی کی تحقیقات کے لیے کمیشن نہیں بنایا۔ اس کا جواب وفاقی وزیر اطلاعات فواد احمد چودھری نے دے دیا ہے کہ تحقیقاتی کمیشن کا مطالبہ کرنے والے پہلے ایسی شکایات پیش کریں جن میں بادی النظر میں انتخابات میں دھاندلی نظر آئے تو کمیشن بھی بنا دیا جائے گا ۔ اب میاں صاحب پر لازم ہو گیا ہے کہ وہ کمیشن کے قیام کے مطالبے کے لیے ہوم ورک کریں اور کمیشن کے لیے ٹرمز آف ریفرنس تیار کریں تاکہ کمیشن ان الزامات کی تحقیق کرے جو میاں صاحب عائد کریں۔ اگر اس مشق کے بغیر وہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں رکاوٹ ڈالتے ہیں تو اس سے ن لیگ کا رویہ ہی سامنے آئے گا ۔

متعلقہ خبریں