Daily Mashriq


روڑے اٹکانا بند کیجئے

روڑے اٹکانا بند کیجئے

قدرت کا اپنا قانون ہے جو تبدیل نہیں ہوتا، ازل سے ایک تسلسل کے تحت چلتا آرہا ہے۔ پانی کی قلت کے حوالے سے آج کل عوام کو جن مصائب ومشکلات کے بارے میں بتا کر خوف میں مبتلا کیا جارہا ہے ان میں کہاں تک حقیقت ہے، اس سلسلے میں بھی نظریات مختلف ہیں، ایک نظریہ تو یہی ہے جس کا تذکرہ ہمیں دن رات سمجھا سمجھا کر یہ باور کرانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ خدانخواستہ 2025ء میں ہمیں قحط کی سی صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ ہمارے پاس پانی کے ذخائر ختم ہو جائیں گے۔ اس میں قطعاً شک نہیں ہے کہ پانی کے ذخائر قائم کرنا لازمی ہے اور اسے ایک روزمرہ کے مثال سے یوں واضح کیا جا سکتا ہے کہ آج کل ہم اپنے گھروں میں ضرورت کے مطابق پانی جمع کرنے کیلئے چھتوں پر پانی کی ٹینکیاں یا تو تعمیر کروا لیتے ہیں یا تیار ٹینکیاں لاکر ان میں پانی پمپ کے ذریعے پہنچا دیتے ہیں تاکہ جب ٹیوب ویل سے پانی کی فراہمی بند ہو جائے تو ہمیں کسی مشکل کا سامنا نہ ہو تاہم جب بقول ماہرین زیر زمین پانی ختم ہو جائے گا یا سرکاری اداروں کی جانب سے ان کی فراہمی نہ رہے گی تو پھر کیا کیا جائے گا؟ یہی وہ سوال ہے جس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے نئے ڈیمز کی تعمیر پر زور دیا جاتا ہے اور پانی کے نئے ذخائر کی تعمیر پر اصولی طور پر اعتراض کی قطعاً کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ اس سے نہ صرف ملکی ضرورت کے مطابق پانی جمع کرکے مناسب وقت کیلئے رکھا جا سکتا ہے بلکہ سستی ترین بجلی بنا کر ملکی نظام چلانے میں مدد لی جا سکتی ہے۔ تاہم جیسا کہ کالم کے آغاز میں قدرت کے اپنے قانون کی جانب سے اشارہ کیا گیا ہے اس حوالے سے چند روز پہلے ایک اہم آرٹیکل انگریزی زبان کے کسی اخبار میں چھپا تھا جو بعد میں ٹویٹر پر اپ لوڈ کر کے ان لوگوں کے استفادے کیلئے بھی کسی نے ڈال دیا تھا، خود ہم نے اس مضمون کو ٹویٹر پر ہی دیکھا تھا، مضمون میں قانون قدرت کے زریں اصولوں کا تذکرہ کرتے ہوئے بتایا گیا تھا کہ جو لوگ ملک میں پانی کی ممکنہ قلت بلکہ شدید قلت کا تذکرہ کرکے عوام میں خوف وہراس پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں ان کے نظریات سے اختلاف کرتے ہوئے بتایا تھا کہ پاکستان میں پانی کے منابع وہ نظام ہے جو سمندر سے قدرتی طور پر اٹھنے والے بادل ہیں جو اوپر اٹھ کر ایک خاص سمت میں سفر کرتے ہوئے پہاڑوں پر برستے ہیں اور نہ صرف پہاڑی سلسلوں پر پہنچ کر بھاری ہو جاتے ہیں جن کی وجہ سے برف باری اور بارشیں جنم لیتی ہیں اور ملک کے مختلف حصوں میں بارشوں کا یہ سلسلہ بارانی زمینوں کو آباد، زیر زمین پانی میں اضافے، دریاؤں میں پانی کی روانی کو تسلسل دینے جبکہ پہاڑوں کی چوٹیوں پر پڑنے والی برف جو گلیشیرز میں تبدیل ہو جاتی ہے، گرمی میں پگھل کر دریاؤں اور چشموں، پہاڑی ندی نالوں کی صورت میں ایک بار پھر اپنا سرکل پورا کرتے ہوئے واپس سمندر میں جا گرتا ہے، یہ قدرتی نظام کا وہ سرکل ہے جو ازل سے جاری وساری ہے اور ابد تک رہے گا، قدرت کا اپنا نظام تو یقیناً ہے تاہم اس نظام میں جب حضرت انسان رخنہ اندازی کرتا ہے تو کچھ نہ کچھ گڑبڑ تو ضرور ہوتی ہے، جنگلات بھی ہمارے لئے زندگی کی نوید لاتے ہیں، ان سے موسم کی نیرنگیاں جنم لیتی ہیں جو انسان کیلئے قدرت کا انمول تحفہ ہیں مگر ذاتی منفعت کی پٹیاں آنکھوں پر باندھ کر ہم نے جس بیدردی سے ان جنگلات کو نیست ونابود کر کے رکھ دیا ہے اس کی وجہ سے موسموں پر منفی اثرات پڑنا لازمی ہیں، اس لئے بارشوں میں بے قاعدگیوں کی وجہ سے پانی کی روانی یعنی گلیشیر پگھلنے، دریاؤں میں پانی آنے اور زیر زمین پانی کی کمی سے صورتحال میں تھوڑی بہت تبدیلی یقیناً مشکلات میں اضافے کا باعث بن جاتی ہے اور آبادی میں اضافہ بھی پانی کی کمی پر منتج ہو رہی ہے جبکہ زندگی کی قدریں تبدیل ہونے اور صنعتی ترقی کیساتھ ساتھ کھیتی باڑی کے جدید طریقوں کی ایجاد کے بعد پانی سے حاصل کردہ بشمول دیگر ذرائع سے بجلی کے حصول نے بھی پانی کے ذخیرہ کرنے کی ضرورت کا احساس دو چند کر دیا ہے، اب وہ زمانہ تو رہا نہیں کہ لوگ گھروں میں روشنی کیلئے دیئے، چراغ اور لالٹین جلایا کرتے تھے، یا دیسی طریقے سے بیلوں کے ذریعے کھیتوں کی پرداخت کرتے تھے، اس لئے بجلی کے بغیر ایک قدم اٹھانا بھی ممکن نہیں رہا یعنی ڈیم نہیں بنائے جائیں گے تو دیگر ذرائع سے انتہائی مہنگی بجلی ہی مل سکے گی اور ہماری صنعت ترقی نہیں کر سکے گی، کیونکہ عالمی مارکیٹ میں ہماری مصنوعات دوسرے ملکوں کی نسبت مہنگی ہونے کی وجہ سے کوئی بھی اٹھانے کو تیار نہیں ہوگا۔ تاہم اگر ہم ڈیم بنا کر پن بجلی بھی پیدا کریں گے تو یہ بجلی انتہائی سستی ہوگی جس سے صنعتوں کے اخراجات کم ہوںگے اور ہم عالمی مارکیٹ میں مقابلے کی پوزیشن میں آجائیں گے۔ ساتھ ہی ہمارا وہ اضافی پانی جو اس وقت ذخیرہ نہ ہو سکنے کی وجہ سے سمندر میں جا گرتا ہے اسے بھی بہتر انداز میں استعمال کر سکیں گے، زراعت کا نظام بھی ریگولیٹ ہوگا اور یہ جو صوبے اپنے اپنے حصے کے پانی پر دوسرے صوبوں کی جانب سے چوری یا ناجائز استعمال کے الزامات لگاتے رہتے ہیں یہ بھی ختم ہو جائے گا۔ ہر صوبے کو اس کے حصے کا جائز حصہ بروقت ملے گا۔ کسی کو شکایت کا موقع بھی نہیں ملے گا اور پانی کی مبینہ کمی کے خدشات بھی نہیں رہیں گے۔ رہ گئی بات دیامیر بھاشا ڈیم اور مہمند ڈیم کی تو آج جو لوگ اس کی تعمیر کیلئے 9سال کی مدت بتا رہے ہیں وہ اس وقت کہاں تھے اور تب بھاشا ڈیم کی تعمیر کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کا ساتھ کیوں دیا حالانکہ تب اس کی تعمیر کا عرصہ 6سال اور اخراجات آج کے مقابلے میں بہت کم بتائی جا رہی تھیں، جب جنرل(ر) مشرف نے اس کی تعمیر کا حکم دیا تھا۔ اب بھی وقت نہیں گیا اور 9سال کا کہہ کر اس کی تعمیر کی راہ کھوٹی کرنے سے احتراز کیا جائے تاکہ ملک میں پانی اور بجلی کے مسائل حل ہوسکیں۔

متعلقہ خبریں