ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

10 ستمبر 2018

خودکشی حرام ہے لیکن اس وقت کسی کو بھی حرام اور حلال کی فکر نہیں رہتی جب کسی کے سر پر آ بنتی ہے اور جینے کا کوئی جواز نہیں رہتا، کوئی چارہ نہیں بنتا سوائے موت کو گلے لگانے کے، اور بعض اوقات تو خودکشی کرنے والوں کو ایسا کرنا اتنا جائز لگتا ہے کہ وہ اپنی جان جان آفرین کے حوالے کرتے وقت بقائمی ہوش وحواس چچا غالب بن کر پکار اُٹھتے ہیں کہ

جان دی، دی ہوئی اسی کی تھی

حق تو یہ ہے کہ حق ادا نہ ہوا

آج 10ستمبر کو پاکستان سمیت خودکشی سے روکنے یا اس کے تدارک اور روک تھام کا عالمی دن منایا جارہا ہے اور ہم اس ادھیڑ بن میں پڑے ہیں کہ لوگ خودکشی کیوں کرتے ہیں۔ جواب ملتا ہے کہ خودکشی وہی لوگ کرتے ہیں جو مر مر کر جیتے ہیں یا جی جی کر مرتے رہتے ہیں۔ ان کی زندگی، زندگی نہیں رہتی اک طوفان میں گھر جاتی ہے ان کی زندگی اور وہ بے اختیار ہوکر پکار اٹھتے ہیں۔

زندگی ہے یا کوئی طوفان ہے

ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے

بے شک زندگی ایک طوفان کا نام ہے۔ اک آزمائش ہے اک امتحان ہے۔ مگر اس امتحان یا آزمائش سے کامیابی کیساتھ گزر جانے کیلئے جس عزم اور حوصلے کی ضرورت پڑتی ہے وہ ہر کس وناکس کے بس کی بات نہیں ہوتی جبھی تو بحر حیات کے اس پار پہنچنے سے پہلے ہی اپنی زندگی کی ڈگمگاتی نیا کو بیچ منجدھار ڈبو بیٹھتے ہیں وہ بے چارے قسمت کے مارے زندگی سے ہارے لوگ اور بعض لوگ تو ایسے بھی ہوتے ہیں جو ڈوبنے سے پہلے کہہ اٹھتے ہیں کہ

ہم تو ڈوبے ہیں صنم

تم کو بھی لے ڈوبیں گ

اپنے ساتھ اوروں کو ڈبا دینے والوں میں خودکش حملے کرنے والوں کی مثال عام نظر آتی ہے۔ کہتے ہیں کہ دنیا میں ہر سال کم وبیش 10 لاکھ افراد اپنی زندگی کا چراغ اپنے ہاتھوں سے خود ہی گل کر دیتے ہیں، یہ ان لوگوں کے علاوہ ہیں جو

واللہ کسی شوق کے مارے نہیں پیتا

پیتا ہوں اس لئے کہ جل جائے جوانی

کی قسم کھا کر اپنے آپ کو منشیات کا عادی بنا دیتے ہیں اور ایکد م سے مرنے کی بجائے بلا نوشی کرتے کرتے سسک سسک کر مرنا پسند کرتے ہیں، ہائے کہ اس عادت بد میں ہمارے معاشرے کے اس طبقے کو مبتلاء کیا جاتا ہے جن پر قومیں فخر کرتی ہیں اور جن کے بارے میں یہ الفاظ رطب اللسان رہتے ہیں کہ ’’نوجوان ہماری قوم کا قیمتی سرمایہ ہیں‘‘ ہمارا یہ قیمتی سرمایہ نشے کی لت میں مبتلا ہوکر دھیرے دھیرے خودکشی کی جانب بڑھتا رہتا ہے، کہتے ہیں منشیات کے عادی لوگ بوڑھے نہیں ہوتے، وجہ پوچھی تو جواب ملا کہ وہ بوڑھا ہونے سے پہلے ہی جواں مرگ مر جاتے ہیں، ایک حوالے کے مطابق دنیا بھر میں ہر روز 3ہزار افراد خودکشی کی کوشش کرتے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ خودکشی کرنے والوں کے اعداد وشمار جنگوں، دہشتگردی کا شکار ہونے والوں اور قاتلانہ حملوں کا شکار ہونے والوں کے مقابلے میں زیادہ ہے، ماہرین نفسیات کا کہنا ہے کہ زیادہ تر لوگ ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی کرتے ہیں، غربت، بیروزگاری، معاشی بدحالی، کسی مقصد کے حصول میں ناکامی، محرومی، مایوسی، عزت نفس اور اس قسم کے بہت سے عوامل خودکشی کرنے والوں کو جان پر کھیل جانے پر مجبور کرتی ہے، ماہرین نفسیات اسے انسانی دماغ کا خلل بھی کہتے ہیں، جبکہ غالب نے دماغ کے خلل کی توجیہہ کرتے ہوئے اس کا ذمہ دار عشق کو قرار دیا تھا

کہتے ہیں جس کو عشق خلل ہے دماغ کا

اگر ہم غالب کے اس فرمودے کا تجزیہ کریں تو ہمیں سوہنی کا کچے گھڑے پر تیر کر خودکشی کرنا یاد آتا ہے، فرہاد کے سر میں تیشہ مارنے کی مثال سامنے آتی ہے، ہیر کا زہر چاٹنا اور اس قسم کی بہت ساری عشقیہ لوک داستانیں اسداللہ خان غالب کے قول کی سچی گواہیاں بن کر ہمارے سامنے آجاتی ہیں، آج کل خودکشی کرنے والوں کے ہاں ضروری نہیں کہ دماغ کا یہ خلل کسی عشق معاشقے کا ہی مرہون منت ہو، ہماری آبادی کے بیشتر طبقات فکر کو نت نئی سر اٹھاتی الجھنوں کی وجہ سے جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں، اگر ہم نے ان کو بے موت مرنے سے بچانا ہے تو انہیں اس دلدل سے نکالنا ہوگا جس کے تمام راستے خودکشی کی خوفناک گھاٹیوں کی جانب جارہے ہیں، ہم آئے روز کے اخبارات میں اس قسم کی خون آلود سرخیاں پڑتے رہتے ہیں کہ کسی گھر کے سر براہ نے اپنے بیوی بچوں کو قتل کرکے خودکشی کرلی، گھریلو ناچاقی، گھر والی کی چال چلن پر شبہ، مہنگائی، تنگ دستی، اللہ۔۔ کتنے عفریت اپنے جبڑے کھولے اولاد آدم کو خودکشی کی دعوت دے رہے ہیں، آپ عالم گیر سطح پر خودکشی کی روک تھام کا دن منا رہے ہیں، ایک محتاط اندازے کے مطابق صرف پاکستان میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد تین ہزار افراد سالانہ ہے، خدارا ان سسکتے بلکتے بے سہارا بچوں کا سہارا بن جایئے، دیکھئے تو سہی وہ ننھے اور معصوم بچے جو کوڑے کے ڈھیر میں نان شبینہ ڈھونڈنے نکلے ہیں، اُٹھا لیجئے انہیں یہ ان کی لکھنے پڑھنے اورکھیلنے کودنے کی عمر ہے، اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو کبھی بھی ختم نہ کرسکو گے خودکشی کی بڑھتی ہوئی شرح کو اور اقبال کی روح تڑپ تڑپ کر کہتی رہ جائے گی کہ

تمہاری تہذیب اپنے خنجر سے آپ ہی خودکشی کرے گی

جو شاخ نازک پہ آشیا نہ بنے گا ناپائیدار ہوگا

مزیدخبریں