چندوں کی ضرورت اور اہمیت

10 ستمبر 2018

اس کائنات میں صرف اللہ تعالیٰ کی ذات بے نیاز ہے۔ باقی ساری مخلوقات ایک دوسرے پر منحصر ہیں۔ انسان بے چارہ تو اتنا ضعیف اور حاجت مند ہے کہ دیگر مخلوقات کے برعکس اپنی پیدائش کے کئی سال بعد تک اپنے والدین کے رحم وکرم کا شدید محتاج ہوتا ہے۔ انسان کے بارے میں قرآن کریم میں فرمایا گیا کہ ’’انسان ضعیف(کمزور) پیدا کیا گیا۔ انسان کی اسی حقیقت کے پیش نظر اسے معاشرتی حیوان (Social Animal)کہا گیا اور ایک زمانہ تھا کہ انسان کو اپنی اس حیثیت اور حقیقت کا احساس تھا تو ایک دوسرے کیساتھ قریب رہتے ہوئے ایک دوسرے کے کام بھی آتے تھے لیکن پھر ایک زمانہ آیا کہ انسان طبقات میں تقسیم ہوتا چلا گیا۔ امیر وغریب کی تقسیم گہری ہوتی گئی اور بالادست طبقے نے کمزور ومجبور طبقات کے ہر قسم کے حقوق کو جس کی لاٹھی اُس کی بھینس کے ظالمانہ اصول کے تحت ہڑپ کر لیا۔ اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے ان مجبور ومظلوم طبقات کے حقوق کی بازیابی کیلئے انبیاء کرامؑ کا سلسلہ چلایا۔ جس کے آخری نبیؐ نے مدینہ طیبہ میں وہ ریاست قائم کی جس کی نظیر پر پاکستان کا قیام ممکن ہوا اور آج ستر برسوں بعد اسی پاک ریاست کی بازگشت وطن پاک میں سنائی دے رہی ہے۔لیکن اس عزم کیخلاف کہ پاکستان کو اسلامی فلاحی ریاست بنائیں گے، پروپیگنڈہ بہت تیز ہے۔ ایک طرف دو اپوزیشن جماعتیں ہیں اور دوسری طرف پروپیگنڈہ کرنے والے۔ کل سوشل میڈیا پر کسی نے پوسٹ شیئر کی تھی جس میں عمران خان کی والدہ محترمہ کے نانا والد، مشاہد جاوید برکی، تحریک انصاف کے فنانس کا انچارج، واجد علی برکی، وغیرہ سب کو قادیانیت میں شامل دکھایا ہے حالانکہ اللہ تعالیٰ کسی سے اس بارے میں نہیں پوچھے گا کہ تم نے فلاں کو کافر یا غیر مسلم کیوں نہیں کہا یا قرار دیا بلکہ بہت سخت گرفت اس بات پر ہوگی کہ کوئی اُٹھ کر اچھے بھلے مسلمان آدمی کو کافر، مرتد اور زندیق قرار دے لیکن چونکہ امت مسلمہ میں یہ سلسلہ خلفائے راشدین کے مبارک دور کے بعد سے چلا آرہا ہے اور وطن عزیز میں تو باقاعدہ ایک کاروبار، سیاست اور فیشن بن چکا ہے اس لئے عمران خان کو ان چیزوں میں بہت احتیاط برتنا ہوگی اور کبھی کبھی موقع ملے تو مرزا غالب، علامہ محمد اقبال، فیض احمد فیض اور حبیب جالب کو پڑھا کریں۔ حبیب جالب نے اپنے ہی وطن عزیز کے بارے میں فرمایا تھا۔

یہاں گناہ وثواب بکتے ہیں

مان لیجئے جناب بکتے ہیں

پہلے پہلے غریب بکتے تھے

اب عزت مآب بکتے ہیں

عمران خان، اس ملک وقوم کو وہ کچھ دینا چاہتے ہیں جس پر اس ملک کی بقا کا انحصار ہے۔ اس ملک وقوم کی بقا خودی کی بیداری پر ہے اور عمران خان اپنے وسائل سے ڈیم بنوانا چاہتا ہے تاکہ اس میںہر قسم کی ہریالی ہو۔ یہ ملک شاد وآباد ہو۔ اس اہم کام کو بہت پہلے ہو جانا چاہئے تھا لیکن نہ ہو سکا، اب وہ لوگ جن کو کرنا چاہئے تھا اور نہ کرسکے یہ سوچ سوچ کر ہلکان ہو رہے ہیں کہ اگر یہ دو بڑے ڈیم بن گئے اور وطن عزیز میں خوشحالی آئی جو ضرور آئے گی (ان شاء اللہ ) تو پھر ان کی سیاست کو مزید مواقع نہیں ملیںگے اس لئے دن رات اس پروپیگنڈہ پر لگے ہوئے ہیں کہ یہ ڈیم چندوں سے نہیں بنائے جاتے، سرمایہ داروں کو شامل کرنا ہوگا۔ سرمایہ کاروں کو دعوت دینا ہوگی۔ ملکی وغیر ملکی سرمایہ کاروں کی سنڈیکٹ کے ذریعے ہی اتنے بڑے کام پایۂ تکمیل کو پہنچتے ہیں اور اگر کوئی پوچھے کہ حضور! تم لوگوں نے تیس برس تک حکومت کی تو یہ فارمولا کیوں استعمال نہیں کیا۔ تم لوگ اربوں کا سرمایہ باہر ملکوں میں لگا کر کما رہے ہو، کوئی بیرون ملک کا سرمایہ کار پاگل ہے کہ ایسی حکومتوں میں آکر سرمایہ کاری کرے۔ عمران خان کا ببانگ دہل اعلان کہ میرا جو کچھ ہے پاکستان کے اندر ہے اور پاکستان کے باہر اہل وطن کے صاحبان ثروت سے اپیل کی کہ ملک کی تعمیر کیلئے چندے کی ضرورت ہے۔ یار لوگ اس چندے کی اپیل کا مذاق اُڑا رہے ہیں حالانکہ مذاق کی بات تو تب ہوتی جب آئی ایم ایف سے سودی قرضوں پر مشتمل بھیک مانگتے۔

غریبوں کی مدد اور دست گیری کیلئے اللہ تعالیٰ نے بھی مخیر حضرات سے قرض مانگی ہے اور اس قرض کو قرض حسنہ فرمایا ہے۔ خاتم النبیینؐ نے غزوات کے موقع پر حضرت عثمان غنیؓ اور دیگر صحابہؓ کے چندوں کو قبول فرماتے ہوئے خراج تحسین پیش فرمائی ہے۔ شیخینؓ نے تو اپنے اپنے گھر لُٹائے ہیں۔ ایوب خان نے قوم سے مدد کی اپیل کی تھی۔ خود نوازشریف نے ’’قرض اُتارو، ملک سنوارو‘‘ کی مہم چلائی تھی۔ ملک وقوم کیلئے ابنائے قوم سے چندہ مانگنا کوئی عار کی بات نہیں بلکہ مستحسن اقدام ہے۔ مادر وطن بھی ماں کی طرح ہوتی ہے۔ ابنائے وطن پر حق رکھتی ہے۔ جانبازان وطن اس کے مقدس وحرمت پر آنچ نہ آنے پر جانوں کی بازیاں لگاتے ہیں۔ پاکستان کے وسائل سے ارب پتی اور کروڑ پتی اور پاکستان کے پاسپورٹ پر کمانے والے اگر ضرورت پڑنے پر اپنے آنے والی نسلوں کیلئے ایک ہزار ڈالر یا حسب استطاعت کوئی مدد کرلے تو یہ ملک وقوم پر نہیں اپنے آپ پر احسان ہوگا کیونکہ دینے سے ہی انسان عظمت کے مقام کی طرف گامزن ہوتا ہے۔

پانی زندگی ہے۔ پاکستان کے دشمن ہمارے دریاؤں پر ڈیم پر ڈیم بناتے ہوئے ہمیں بوند بوند کیلئے ترسانے کے منصوبے بنا چکے ہیں۔ حتیٰ کہ ہمارے برادر اسلامی ملک افغانستان میں بھی دریائے کابل پر یہی سازشیں ہو رہی ہیں۔ عالمی اسٹیبلشمنٹ کھل کر پاکستان کیخلاف اپنے مذموم عزائم کا اظہار کر رہی ہیں۔ وقت کی پکار یہی ہے کہ صاحبان ثروت ان دو ڈیموں کیلئے توقعات سے بڑھ کر کردار ادا کریں۔

مزیدخبریں