مشرقیات

10 ستمبر 2018

مرتبہ بچپن میں حضرت ابن الزبیرؓ دوسرے بچوں کیساتھ کھیل رہے تھے تو وہاں سے امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروقؓ کا گزر ہوا تو سب بچے بھاگ گئے اور یہ کھڑے رہے توحضرت عمرؓ نے ان سے کہا کیا بات ہے، اپنے دوستوں کیساتھ تو نہیں بھاگا؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ اے امیرالمؤمنین میں نے کوئی جرم نہیں کیا تھا کہ بھاگتا اور راستے میں کوئی تنگی نہیں تھی کہ آپ کیلئے مجھے گنجائش نکالنے کی ضرورت ہوتی (یعنی راستہ کشادہ تھا، آپؓ آسانی سے میرے پاس سے گزر سکتے تھے) آپؓ کے اس دلیرانہ جواب سے امیرالمؤمنین بہت خوش ہوئے اورآپؓ کو دعا دی اور تشریف لے گئے۔

سنان بن مسلمہ جو بحرین کے امیر تھے، فرماتے ہیں کہ جب مدینہ میں ہم چھوٹے چھوٹے بچے تھے تو کھجور کی جڑ کے پاس سے چھوٹی چھوٹی کچی کھجوروں کو جن کو خلال کہا جاتا ہے، جمع کر رہے تھے تو اس طرف حضرت عمرؓ آنکلے، تو سب بچے ادھر ادھر بھاگ گئے اور میں اپنی جگہ جما رہا۔ جب وہ مجھ پر آکر جھک گئے تو میں نے کہا: اے امیرالمؤمنین! یہ تو وہ ہیں جو ہوا سے جھڑ جاتے ہیں تو انہوں نے کہا مجھے دکھاؤ، میں دیکھوں گا کہ واقعی ہوا سے جھڑی ہوئی ہیں۔ مجھ سے چھپا تو نہیں رہا تو انہوں نے میری گود پر نظر ڈالی اور فرمایا تو نے سچ کہا ہے شاباش، سچ میں آنچ نہیں سچ بولنے سے حق تعالیٰ بہت خوش ہوتا ہے۔

پھر میں نے کہا: اے امیرالمؤمینین! آپ دیکھتے ہیں ان لڑکوں کو۔ بخدا جب آپؓ تشریف لے جائیں گے تو یہ مجھ سے آکر لپٹ جائیں گے اور جو کچھ میرے پاس ہے وہ سب چھین لیں گے۔ تو آپؓ میرے ساتھ چلے اور مجھے ٹھکانے تک پہنچا دیا۔ اس بچے کے سچ بولنے اور اس کی دلیری کی وجہ سے حضرت عمرؓ نے اس کا ساتھ دیا اور بہت خوش ہوئے اور بہت دعائیں دیں۔حضرت اصمعیؒ فرماتے ہیں کہ میں نے ایک نوعمر لڑکے سے جو اولاد عرب میں سے تھا، کہا: کیا تم اس بات سے خوش ہو سکتے ہو کہ تمہارے پاس ایک لاکھ درہم ہوں اور ان کیساتھ حماقت بے وقوفی بھی ہو؟اس نے کہا: خدا کی قسم نہیں! میں نے کہا کیوں؟ اس نے کہا مجھے یہ ڈر ہے کہ میری بے وقوفی سے مجھ سے ایسی کوئی حرکت ہو جائے کہ لاکھ روپیہ تو جاتا رہے اور میرے پاس صرف حماقت وبے وقوفی رہ جائے۔ مطلب یہ ہے کہ دین کی دولت یعنی علم کی روشنی یا دنیا کا مال ودولت کو محفوظ اور خرچ کرنے کیلئے عقل ودانش مندی کا ہونا ضروری ہے جیسا کہ مثل مشہور ہے کہ علم جسم ہے اور عقل اس کے پر ہیں۔

(کتاب الاذکیاء ص292)

یاد رہے کہ عقل ودانش علم کی روشنی سے نصیب ہوتی ہے اور باعمل علمائے کرام اور نیک بزرگوں کی باتوں پر عمل کرنے سے عقل ترقی کرتی ہے اور علم پر عمل کرنا بھی نصیب ہوتا ہے۔ اکبر الہ آبادی کہتے ہیں۔

نہ کتابوں سے نہ وعظوں سے نہ زر سے پیدا

دین ہوتا ہے بزرگوں کی نظر سے پیدا

مزیدخبریں