Daily Mashriq

واقعہ کربلا کی یاد میں یومِ عاشور انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

واقعہ کربلا کی یاد میں یومِ عاشور انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے

سخت ترین مصائب کا سامنا کر نے کے باوجود حق اور سچ کا پرچم تھامے ہوئے اپنی اور اپنے رفقا کی جان کا نذرانہ پیش کر نے والے نواسہ رسول کی یاد میں یومِ عاشور (10 محرم الحرام) انتہائی عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں ملک کے مختلف علاقوں میں سخت سیکیورٹی میں ماتمی جلوس نکالنے کا سلسلہ جاری ہے جس میں عزادار ماتم کرتے ہوئے شہدائے کربلا پر ڈھائے گئے مظالم کو یاد کررہے ہیں اور جلوس کے اختتام پر مجالس برپا کی جائیں گی۔

ملک بھر میں یوم عاشور کے جلوسوں کی حفاظت کے لیے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے جبکہ متعدد شہروں میں جلوس کے راستوں میں موبائل فون سروس بند کردی گئی جبکہ موٹر سائیکل کی ڈبل سواری پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

ملک بھر میں عاشورہ کے سلسلے میں سیکیورٹی خصوصی طور پر ہائی الرٹ رکھی گئی ہے جبکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو رونما ہونے سے روکنے کے لیے سول آرمڈ فورسز اور پاک فوج کے جوانوں نے سیکیورٹی کے انتظامات سنبھال رکھے ہیں۔

صدر اور وزیراعظم کے پیغامات

یوم عاشور 10محرم الحرام 1441ہجری کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں صدر مملکت نے کہا کہ نواسہ رسولﷺ امامِ عالی مقام حضرت امام حسینؓ نے اپنے اہلِ بیت اطہار اور رفقائے کار کے ساتھ میدان کربلا میں یومِ عاشور کو شہادت پاکر تاریخ اسلام میں اس دن کو تاقیامت انمٹ بنا دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ عظیم قربانی ہرسال مسلمانوں کو اس بات کی یاد دلاتی ہے کہ فسق و فجور کی طاقتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے جان کا نذرانہ پیش کرنے سے بھی دریغ نہیں کرنا چاہیے۔

صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ آئیے آج کے دن تجدید عہد کریں کہ ہم اُسوہ حسینؓ کی روشنی میں ہر وہ کام کریں گے جو اعلائے کلمة اللہ ، فروغ حق، اسلامی روایات کی پاسداری اور ملک کی ترقی و خوشحالی کے لیے مفید ہواور دہشت گردی ، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے سدباب کے لیے کسی بھی قسم کا اقدام کرنے سے دریغ نہیں کریں گے۔

دوسری جانب اپنے خصوصی پیغام میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ آج کا دن ہمارے لئے مختلف اعتبار سے بڑی اہمیت کا حامل ہے، تاریخ اسلام میں اس دن کو ایک الگ رفعت و بلندی اور خاص اہمیت و انفرادیت امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ کی شہادت اورواقعہ کربلا کی بدولت حاصل ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ کربلا کا یہ عظیم معرکہ حق و باطل، یہ بات باور کراتا ہے کہ اسلام کی اعلیٰ اقدار کے فروغ و احیاءکے لیے اپنی یا اپنے پیاروں، شیر خوار بچوں، کڑیل جوان بیٹوں ، بھائیوں اور ساتھیوں کی قربانی سے گریز نہیں کرنا چاہیے اور اپنی جانوںکے علاوہ اپنا سب کچھ راہ خدا میں دین اسلام کی سر بلندی کے لئے نچھاور کردینا ہی عظمت اور کامیابی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ جذبہ شبیری ؓ مسلمانوں کے ایمان و یقین، سچائی اور اصول پرستی کی روایت کو جلا بخشتا ہے اور یہ اسلام کے ابدی پیغام اور جذبہ قربانی کی لازوال اور روح پرور روایت کی آبیاری کا سرچشمہ ہے جس کی نظیر تاریخ انسانی میں مشکل سے ہی ملتی ہے

متعلقہ خبریں