Daily Mashriq

علی بابا کے بانی کمپنی کو الوداع کہنے کے لیے تیار

علی بابا کے بانی کمپنی کو الوداع کہنے کے لیے تیار

چین کے امیر ترین شخص اپنے عروج کے زمانے میں ہی 460 ارب ڈالرز کی کمپنی کو چھوڑ کر ریٹائر ہونے کے لیے تیار ہیں اور ایک بار پھر تعلیم دینے کے سلسلے کو شروع کرنے والے ہیں۔

علی بابا کے چیئرمین جیک ما منگل کو اپنی کمپنی کو چھوڑ رہے ہیں جس کا اعلان انہوں نے گزشتہ سال ستمبر میں کیا تھا۔

10 ستمبر کو جیک ما 55 سال کے ہورہے ہیں اور ان کو الوداع کہنے کے لیے ہانگژو اولمپک اسپورٹس سینٹر اسٹیڈیم میں تقریب کا انعقاد علی بابا کی جانب سے کیا جارہا ہے جہاں رسمی طور پر ان کے جانشین ڈینیئل ژانگ کمپنی کی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

رواں سال مئی میں ایک ٹیک کانفرنس کے دوران علی بابا کے چیئرمین نے کہا تھا کہ وہ ستمبر میں ریٹائر ہونے کے بعد ایک بار پھر استاد بن جائیں گے۔

اس کانفرنس میں انہوں نے بتایا تھا کہ وہ کمپنی کی 20 ویں سالگرہ کے موقع پر 10 ستمبر کو اپنی پوزیشن چھوڑ دیں گے۔

جیک ما اس وقت 41.7 ارب ڈالرز (50کھرب پاکستانی روپے سے زائد) کے مالک ہیں اور دنیا کے 20 ویں امیر ترین شخص ہیں، مگر ایک وقت تھا جب ان کی ماہانہ آمدنی نہ ہونے کے برابر تھی۔

جیک ما نے 1988 میں گریجویشن کے بعد اپنے آبائی علاقے ہانگژو میں ایک یونیورسٹی میں انگلش ٹیچر کے طور پر کام کیا تھا جہاں ان کی ماہانہ تنخواہ 12 ڈالر تھی۔

مئی میں کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا انہوں نے ایک بار پھر پڑھانے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ انہیں تدریسی سرگرمیوں سے محبت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے علی بابا سے جو دولت کمائی، وہ اسے بینکوں یا سرمایہ کاروں کو دینے کی بجائے چین میں تعلیمی نظام میں بہتری اور تبدیلی کے خرچ کرنا چاہتے ہیں۔

جیک ما کے مطابق وہ خود کو اب بھی جوان سمجھتے ہیں اور اگلے 15 سال تعلیمی شعبے میں لگانا چاہتے ہیں۔

اس کانفرنس میں ان کا کہنا تھا کہ انہیں اس حقیقت پر فخر نہیں کہ انہوں نے علی بابا کی بنیاد رکھی بلکہ انہیں اس بات پر فخر ہے کہ گزشتہ 20 برسوں کے دوران یہ کمپنی کن غلطیوں اور چیلنجز پر قابو پاکر ابھری۔

انہوں نے کہا کہ جب آپ کاروبار کرتے ہیں تو حریفوں سے فکرمند ہوں، غلطیوں سے پریشان نہ ہوں، چیلنجز سے گھبرائیں مت، بسآگے بڑھیں، آپ ایک جگہ بیٹھ کر رو نہیں سکتے، اگر رونے سے مسائل حل ہوسکتے ہیں تو آنسوﺅں کا سمندر بہادیں۔

اس سے پہلے ماضی میں ایک انٹرویو کے دوران انہوں نے کہا تھا کہ وہ اس وقت زیادہ خوش تھے جب ان کی آمدنی نہ ہونے کے برابر تھی اور وہ اپنے جدوجہد کے دور کو زندگی کا بہترین حصہ قرار دیتے ہیں۔

ان کے بقول جب آپ کے پاس زیادہ دولت نہیں ہوتی تو آپ جانتے ہیں کہ اپنی آمدنی کو کیسے خرچ کرنا چاہئے مگر جب آپ ارب پتی بن جاتے ہیں تو ذمہ داریاں بڑھ جاتی ہیں۔

آسان الفاظ میں جیک ما ارب پتی ہونا ایک بوجھ قرار دیتے ہیں ' جب آپ ایک ارب ڈالرز کمالیتے ہیں تو وہ آپ کی دولت نہیں ہوتی، میرے پاس جو دولت آج ہے وہ ایک ذمہ داری ہے، یہ لوگوں کا مجھ پر اعتماد ہے'۔

اپنے مختلف انٹرویوز میں وہ کہہ چکے ہیں کہ جب آپ 10 لاکھ ڈالرز کماتے ہیں تو 'خوش قسمت' ہیں مگر جب یہ رقم ایک کروڑ ڈالرز تک پہنچ جاتی ہے 'تو آپ مشکل میں پڑجاتے ہیں'۔

متعلقہ خبریں