Daily Mashriq

قیام امن کی راہ، صرف مذاکرات

قیام امن کی راہ، صرف مذاکرات

امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ مائیک پومپیو نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے طالبان سے امن مذاکرات معطل کرنے اور کیمپ ڈیوڈ میں طے خفیہ مذاکرات منسوخ کرنے کے باوجود طالبان سے امن مذاکرات کی بحالی کی توقع کا اظہار کیا ہے جبکہ طالبان کے ترجمان نے بھی امن مذاکرات کی بحالی سے اتفاق کیا ہے۔ سارے معاملات پروگرام کے مطابق طے ہوتے تو نہ صرف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طالبان رہنماؤں سے خفیہ ملاقات ہو جاتی بلکہ افغان صدر اشرف غنی بھی امریکہ کے دورے پر ہوتے۔ امریکی ٹی وی اے بی سی کو ایک انٹرویو میں پومپیو نے کہا کہ ''مجھے اُمید ہے کہ طالبان اپنا رویہ تبدیل کریں گے اور جس حوالے سے ہم مذاکرات کر رہے ہیں اس پر دوبارہ وعدہ کریں گے'' آخر میں یہ معاملہ مذاکرات کی سیریز کے ذریعے ہی حل ہوگا۔ امر واقع یہ ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان امن مذاکرات میں امریکیوں، طالبان اور افغان حکومت تینوں میں امن معاہدے کے حوالے سے ابہام تھا اور اسی وجہ سے کسی بھی فریق کو اس معاہدے پر یقین نہیں تھا۔ امریکہ میں پینٹاگون، وائٹ ہاؤس، سی آئی اے اور کانگریس کے بعض ارکان کو بھی تشویش تھی۔ افغان حکومت اور افغانستان کے عوام کو بھی خدشات تھے کہ پردے کے پیچھے کیا چل رہا ہے۔ طالبان کے بڑھتے ہوئے حملوں کو دیکھ کر تو ایسا لگ رہا تھا کہ ان کی سیاسی قیادت اور جنگجوؤں کے درمیان امن معاہدے پر اتفاق نہیں تھا۔ افغانستان میں امن کیلئے طالبان اور امریکہ مذاکرات کے آخری مراحل میں افغانستان میں بڑے پیمانے پر حملے مذاکرات کے حامی طالبان کے حامیوں نے کئے یا پھر امریکہ سے مذاکرات کے مخالف طاقتور عناصر طالبان کی صفوں میں موجود ہیں یا پھر کوئی تیسری قوت کو امن مذاکرات منظور اور قابل قبول نہ تھا اور وہ ان حملوں میں ملوث ہیں لیکن ایسا اس لئے ممکن نہیں کہ طالبان حملوں کی ذمہ داری قبول کرتے آئے ہیں اور کابل میں امریکی اور ایک اور غیرملکی فوجی سمیت دیگر ہلاکتوں کے بعد امن مذاکرات معطل ہوئے۔ طالبان نے ایک جانب مذاکرات اور دوسری جانب دباؤ بڑھانے اور طاقت کے مظاہرے کی جو حکمت عملی اختیار کی تھی اس کا کوئی جواز نہیں تھا۔ دنیا میں جہاں بھی اس قسم کے مذاکرات ہوتے ہیں اس کا ماحول برقرار رکھنے اور اعتمادسازی کیلئے ماحول کو سازگار رکھنے کی پوری سعی ہوتی رہی ہے۔ افغان طالبان اور امریکہ مذاکرات کی معطلی کی ایک اور بڑی وجہ افغان حکومت کو اس عمل میں شریک نہ کرنا تھا جس کے بغیر مذاکرات کی کامیابی اور اطلاق ممکن نہ تھا۔ اب جبکہ امن مذاکرات معطل ہوہی چکے ہیں اس دوران جہاں فریقین کو خاص طور پر طالبان کو اپنی حکمت عملی پر غور کرنے اور غلطیوں کی اصلاح کا موقع ملے گا وہاں کابل حکومت کو مذاکرات میں شامل کرنے اور ان سے معاملت کی صورت نکالنے کی راہ ہموار ہوگی۔ طالبان کو اس امر پر بالآخر قائل ہونا پڑے گا کہ جنگ اور امن مذاکرات ساتھ ساتھ نہیں ہوسکتے۔ امن مذاکرات کے فریقوں اور افغان حکومت کو بالآخر اس حقیقت کو عملی طور پر تسلیم کرنا پڑے گا، جنگ جنگ پر ختم نہیں ہوگی اگر افغانستان میں امن اور جنگ کا خاتمہ مطلوب ہے تو پھر مذاکرات کے ذریعے ہی اس کا حصول ممکن ہوگا اور مذاکرات کے ذریعے ہی امن آئے گا۔

اتائیوں کا بند ہونے والا دھندہ

صوبائی دارالحکومت ومضافات میں بالخصوص جبکہ صوبہ بھر میں بالعموم اتائیوں کیخلاف ایک منظم مہم کی ضرورت ہے۔ اتائی نہ صرف مریضوں کا علاج غلط نہیں کرتے، ان سے رقم ہی نہیں بٹورتے بلکہ جب مریض اور ان کے لواحقین کو اتائی کے اتائی پن کا علم ہوتا ہے اس وقت تک مریض کا مرض اتنا پیچیدہ ہوچکا ہوتا ہے کہ تدریسی ہسپتال کے ماہر ڈاکٹروںکو بھی علاج میں مایوسی ہونے لگتی ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ ان عناصر کیخلاف وقتاً فوقتاً کارروائی بھی ہوتی رہتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ صوبہ بھر میں اس طرح کے دھندے میں ملوث عناصر کیخلاف کبھی کبھار کی کارروائی کافی ہوگی۔ امر واقع یہ ہے کہ صوبہ بھر میں غیرمستند افراد کی جانب سے علاج معالجے اور اس کی سہولتوں کو کاروبار بنانے کا دھندا پورے طور پر موجود بھی ہے اور جاری بھی، مگر انتظامیہ کی جانب سے ان سے تعرض کرنے کی نوبت کبھی کبھار ہی آتی ہے۔ اس ضمن میں متعلقہ محکمے اور ادارے موجود ہیں جہاں سرکاری عملہ تعینات ہے۔ سرکاری خزانے سے تنخواہیں اور مراعات بھی وصول کرتا ہے مگر بجائے اس کے کہ وہ اپنے فرائض منصبی ادا کرنے پر توجہ دے اُلٹا ملی بھگت اور چشم پوشی کے ذریعے جعلی خدمات اور جعلی سہولتوں کی روک تھام کی بجائے ان کو تحفظ دینے اور ان کی حوصلہ افزائی کا کردار نبھا رہا ہے۔ ایسا ممکن ہی نہیں کہ متعلقہ سرکاری محکمے فعال ہوں اور جعلی قسم کے عناصر پر نظر رکھنے کی ذمہ داری نبھا رہے ہوں اور دوسری جانب جعلساز اور اتائیوں کا دھندہ بھی جاری ہو۔ بہتر ہوگا کہ ان عناصر کیخلاف منظم مہم تسلسل کیساتھ جاری رکھا جائے اور اتنی سختی برتی جائے کہ یہ لوگ دکان کھول کر دھندہ کر ہی نہ سکیں جب اس حد تک سختی اور فعالیت کا مظاہرہ نہیں ہوتا اتائیوں کا دھندہ بند نہیں ہوگا۔ متعلقہ حکام کو اپنے عملے پر بھی کڑی نظر رکھنی چاہئے اور اس امر کو یقینی بنایا جائے کہ جہاں کہیں بھی اتائی یا غیرمستند افراد طبی سہولتوں کی فراہمی کے مرتکب پائے جائیں تو نہ صرف ان کیخلاف بلکہ متعلقہ محکمے کے ذمہ دار افراد کو بھی برابر کا ذمہ دار قرار دیکر ان کیخلاف بھی کارروائی کی جائے۔

ضلع مہمند میں منشیات فروشی پر احتجاج کی نوبت کیوں؟

ضلع مہمند کی تحصیل یکہ غنڈہ، انبار، خویزئی، بائیزئی اور مختلف علاقوں میں سرعام منشیات کی فروخت کیخلاف ایک سیاسی جماعت مقامی نوجوانوں کی تنظیم اور عمائدین کا مظاہرہ اس امر پر دال ہے کہ وہ پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی کارکردگی سے مطمئن نہیں۔ منشیات فروشوں کیخلاف مظاہرہ آسان کام نہیں ان عناصر کا اثر ورسوخ اور خوف کوئی پوشیدہ امر نہیں اس کے باوجود مہمند کے عوام کا ورسک روڈ پر مظاہرہ تنگ آمد بجنگ آمد کے مصداق ٹھہرتا ہے، صورتحال جو بھی ہو اس سے یہ بات واضح ہے کہ علاقے میں منشیات کا دھندہ عروج پر ہے اور پولیس ان کیخلاف کارروائی نہیں کر رہی ہے جس کا آئی جی خیبر پختونخوا کو فوری طور پر نوٹس لینا چاہئے۔ توقع کی جانی چاہئے کہ مہمند کے محولہ علاقوں کو جلد ہی منشیات فروشوں سے پاک کر دیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں