Daily Mashriq

میراث مسلمانی…سرمایۂ شبیری

میراث مسلمانی…سرمایۂ شبیری

رسول اللہ ۖ کی وفات کے بعد جب خلافت کا ادارہ وجود میں آیا تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے عمل سے طرز حکمرانی کے چند بنیادی اصول طے پا گئے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ خلافت پہلے سے موجود کسی ادارے کاا حیاء نہ تھا ' یہ بالکل ایک نیا طرز حکومت تھا جس سے دنیا متعارف ہونے جا رہی تھی۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپ نے اپنے خطبے میں وضاحت کی کہ وہ خلیفة الرسولۖ ہیں اور یہ کہ ان کا منصب جوابدہی والا ہے'لوگوں پرفرض نہیں کہ وہ تب بھی ان کی پیروی کریں جب کہ وہ سیدھی راہ پرنہ ہوں اور یہ کہ وہ سب سے بہتر نہیں حالانکہ وہ صحابہ میں سے سب سے ممتاز اور افضل تھے۔ مقصدخلافت کے منصب کی پوزیشن سمجھانا تھا جو کہ ان کے خطبات اور عمل سے بتدریج واضح ہوتی رہی۔ ''ہگ کینیڈی '' نے ان کے بارے میں لکھا تو کہا کہ ابوبکر بادشاہ نہ تھے اور نہ وہ ایسی حیثیت کادعویٰ کر سکتے تھے جو کہ انہیں حاصل نہ تھی۔ عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو آپ کے عمل کے ذریعے دنیا پر مزید واضح ہوا کہ خلافت کہتے کس کو ہیں۔ خلافت کے اوصاف نے دنیا کوایک نئے طرز حکمرانی سے متعارف کرایا چنانچہ ابوبکر صدیق اور حضرت عمر فاروقکے ادوار میں حکمرانی کے جو اصول وضع ہوئے وہ دنیا کے لیے ایک مثال بن گئے۔ ہر پہلو اور ہر زاویے سے حکمرانی کی ایک لازوال اور بے مثال تاریخ ۔ 1937ء میں کانگرسی حکومتیں ہندوستان میں قائم ہوئیں تو مہاتما گاندھی نے کانگرسی وزراء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں آپ کو رام چند اور کرشن کی مثالیں نہیں دے سکتا میں مجبور ہوں کہ سادگی کی مثال کے لیے ابوبکر صدیقاور حضرت عمرکا نام لوں کیوں کہ وہ بہت بڑی سلطنت کے مالک تھے مگر انہوں نے فقیروں جیسی زندگی گذاری۔ شبلی نعمانی نے ''الفاروق'' میں لکھا ہے کہ قیصر و کسریٰ کے سفیر آتے تھے اور وہ مسجد نبویۖ میں خلیفہ کو ڈھونڈتے تھے جو عام مسلمانوں جیسا لباس پہنے وہیں کہیں بیٹھے ہوتے تھے۔ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ' عمر فاروق رضی اللہ عنہ ' عثمان غنی رضی اللہ عنہ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت راشدہ کے تیس سال بقول شاہ ولی اللہ محدث دہلوی ایسے ہی تھے جیسے نبوت محمدیۖ کا بقیہ حصہ ہو۔ سادگی' قانون کی بالادستی ' حاکم وقت کی جوابدہی ' انصاف' مساوات ' رحمدلی ' انسانیت ' جمہوریت ' اظہار رائے ' جان و مال کا تحفظ ' آزادی الغرض ہر اعتبار سے یہ دور ایسا تھا جو رہتی دنیا تک ایک مثال رہے گا۔ مسلمانوں کے اس بے مثال ادارے خلافت کو ملوکیت کی نظر نہ لگتی تو آج دنیا کی تاریخ ہی اور ہوتی لیکن موروثی حکمرانی کی وجہ سے وہ تمام خرابیاں نظام حکمرانی میں در آئیں جو بادشاہتوں کا خاصہ ہوا کرتی ہیں۔ خلافت کے ادارے کو ملوکیت میں تبدیل ہونے سے روکنے کے لیے امام حسین رضی اللہ عنہ نے جو قربانی دیں اُس نے اسلام کو نئی زندگی عطا کی۔ یزدیت ظلم کا عنوان بن کر ہار گئی اور حسینیت اصولوں کی پہچان بن کر امر ہو گئی۔

''قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد''

جانشینی کے باب میں خلافت راشدہ کا اصول موروثیت کی نفی تھا جسے یزید کو خلیفہ بنا کر پامال کیا گیا۔ بعد ازاں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی بیعت حاصل کرنے کے لیے یزید نے جو طرز عمل اختیار کیا وہ بھی خلافت راشدہ میں طے شدہ اصولوں کے صریحاً خلاف اقدام تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے وصال کے بعد انصارِ مدینہ سقیفہ بنی ساعدہ میں جمع ہوئے اور انہوں نے جانشینِ رسولۖ کے طور پر حضرت سعد بن عبادہ کے انتخاب کا فیصلہ کیا۔ بیعت کی تیاری ہو رہی تھی کہ حضرت ابوبکر اور حضرت عمر وہاں پہنچ گئے اور انہوں نے صورتحال کو تدبر کے ساتھ سنبھال لیا۔ چنانچہ بحث و تمحیص کے بعد بالآخر حضرت ابوبکر کو خلیفہ منتخب کرنے پر اتفاق رائے ہو گیا اور تمام حاضرین نے ان کے ہاتھ پر بیعت کی۔اگر حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ بروقت ثقیفہ بن ساعدہ نہ پہنچ پاتے تو حضرت سعد بن عبادہ انصار کی جانب سے خلیفہ نامزدہو چکے تھے۔ ان سے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا درگزر کرنا اور بیعت پر مجبور نہ کرنا ہمیں سمجھانے کے لیے کافی ہے کہ مخالفت کے باب میں خلافت کے اصول کیا تھے۔ یزید نے لیکن خاندان نبی ۖ پر جس طرح عرصۂ حیات تنگ کیا اور بیعت پر انہیں مجبور کرنے کے لیے جو حربے اور ہتھکنڈے استعمال کیے ان سے سمجھ آتی ہے کہ خلافت کے مقابلے میں بادشاہت کیسی خرابیوں اور مظالم کو جنم دینے کا باعث بنتی ہے۔ حضرت امام حسین نے یہ مظالم سہے مگر جھکنے سے انکار کر دیا۔ وہی کیا اور وہی کہا جس کا درس اُن کے نانا نے دنیا کو دیا تھا۔ پوچھا گیا یارسول اللہ ۖ افضل ترین جہاد کون سا ہے ؟ فرمایا: ''ظالم حکمران کے سامنے کلمہ حق کہنا افضل ترین جہاد ہے۔'' امام حسین رضی اللہ عنہ نے وقت کے ظالم ترین حکمران کے سامنے کلمہ حق کہا اور اس کے نتائج یوں بھگتے کہ اپنی اور اپنے خاندان کی جانوں کا نذرانہ دینا پڑا۔ظلم کے خلاف جدوجہد کا راستہ حضرت حسین کا راستہ ہے خواہ اس راہ میں کیسی ہی قربانی کیوں نہ دینی پڑے۔ یزیدی لشکر نے خاندان نبیۖ پر جو مظالم ڈھائے وہ بحیثیت مسلمان اور امتی ہمارے لیے سخت تکلیف کا باعث ہیں ۔ چنانچہ ہم ہر سال حسینیت کا علم بلند کرتے ہیں اور یزدیت سے اپنی نفرت کا اظہار کرتے ہیں لیکن حضرت امام حسین کی ظالم حکمران کی بیعت نہ کرنے اور اصولوں اور نظریات پر کٹ مرنے کی جو تاریخ رقم ہوئی اس میں دنیائے تمام کے لیے بڑا پیغام ہے۔ جوش ملیح آبادی نے کہا تھا

انسان کو بیدارتو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین

مسلمانوں کی تو خیر میراث ہی سرمایۂ شبیری ہے ۔ اقبال کی سوچ عقیدت سے سرشار ہوئی تو فرمایا:

''میراث مسلمانی … سرمایۂ شبیری''

متعلقہ خبریں