Daily Mashriq

شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا

شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا

قدیم زمانے کی تحریریں پڑھنا انسانی جبلت میں موجود جذبہ تجسس کی تسکین کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ اسے انسانی تاریخ کے پوشیدہ گوشوں کے حوالے سے معلومات بہم پہنچانے کا بھی ذریعے ہے ،وہ جاننا چاہتا ہے کہ انسان نے آج کے دور تک ارتقائی منازل طے کرتے ہوئے کہاں کہاں اور کن حالات میں پڑائو کیا قدیم مخطوطے دنیا کے مختلف حصوں سے ملتے رہے ہیں اور ماہرین آثار قدیمہ ان سے انسانی تاریخ مرتب کرنے کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ دنیا کی قدامت کے حوالے سے آج تک جو دعوے کئے جاتے رہے ہیں ان میں کس قدر حقیقت ہے،آیا پرانے اندازے درست ہیں یا پھر کوئی نئی بات سامنے آنے کے بعد محولہ دعوئوں میں ردوبدل کی جانی چاہیئے،انسانی ارتقاء کے حوالے سے حتمی رائے آج تک قائم نہیں کی جاسکی،اس لیئے جب بھی کوئی نیا مخطوطہ یا ابتدائی زمانے میں پتھروں پر تحریریں کندہ کی جاتی تھیں،دریافت ہوتا ہے تو اسے پڑھنے کیلئے ماہرین کی خدمات لی جاتی ہیں،اسی حوالے سے جوتازہ خبر سامنے آئی ہے اس کے مطابق فرانس کے ایک گائوں میں ایک بہت بڑاپتھر بھی آجکل لوگوں کی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے جس پر ایک پر اسرار تحریر کنندہ ہے لیکن اب تک لوگ اس کا مطلب نہیں جان سکے،اب گائوں والوں نے اعلان کیاہے کہ اگر کوئی سینکڑوں سال پرانی اس تحریر کا راز فاش کرے گا تو اسے 2250امریکی ڈالر یعنی تین لاکھ روپے انعام میں دیا جائے گا،یہ پتھر سمندر کنارے موجود ہے جس پر کم از کم20سطریں لکھی ہوئی ہیں اس پر ایک جگہ1786ء اور1787ء بھی لکھا ہے لیکن اب تک اس کا راز دریافت نہیں ہوسکا ہے،اس پر قدیم بحری جہاز، اس کا عرشہ اور ایک دل کی تصویر بھی کندہ ہے،مقامی سکالروں اور ماہرین نے اس پراسرار نوشتہ سنگ کو پڑھنے کی کوشش کی ہے لیکن وہ اب بھی مفروضات کی حد تک ہی ہے،بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نیم خواندہ افراد نے پتھر پر بے معنی الفاظ گاڑھے ہیں تاہم ایک گروہ کا اصرار ہے کہ یہ قدیم بریٹن یا باسک زبان ہے،230سال قدیم اس تحریر کا مطلب بتانے والے کیلئے2ہزار یورو کا اعلان کیا گیا ہے،خواجہ حیدر علی آتش نے کہا تھا

بندش الفاظ جڑنے سے نگوں کے کم نہیں

شاعری بھی کام ہے آتش مرصع ساز کا

اس پتھر پر بنی ہوئی دل کی تصویر سے تو یہی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ ہو نہ ہو یہ تحریرکسی عاشق نامراد کی کارستانی ہے جس کا محبوب سمندری سفر کے دوران طوفان آنے سے بحری جہاز کے غرق ہونے سے ڈوب چکا ہو،گویا قدیم دور کا کوئی ٹائی ٹینک تھا جس نے دو عاشقوں کو جدا کردیا،اور زندہ بچ جانے والا کسی نہ کسی طور کنارے پر پہنچ کر اپنی روداد غم بیان کرنے کیلئے پتھر پر کندہ کاری میں مصروف ہوگیا ہوگا،تاہم یہ1786اور1787کا معمہ سمجھ سے بالاتر ہے،کہیں یہ آوا گون کے مسئلے کی بات تو نہیں ہورہی تھی کہ دونوں عاشق ومعشوق نے جدا ہوتے ہوئے ایک دوسرے سے یہ عہد وپیمان کیا ہو کہ اب ہم ان برسوں میں دوبارہ زندہ ہوں گے اس خبر نے ویسے مجھے مشہور مزاح نگارکرنل(بعد میں میجرجنرل ریٹائرڈ ہوئے) شفیق الرحمٰن کی ایک تحریر یاد کرادی ہے اور ساتھ ہی ان کے کچھ مستقل کردار بھی جوان کی مزاحیہ تحریروں کی جان ہیں، کرنل شفیق الرحمٰن کی کتاب(غالباً)مزید حماقتیں میں ایک کہانی ہے ،ٹیکسلا سے پہلے اور ٹیکسلا کے بعد اس میںان کا مشہور کردار شیطان دوسرے کرداروں کے ساتھ مل کر ایک جگہ کھدائی کر کے قدیم دور کے کچھ مخطوطے،اور ساتھ میں زنگ آلود اشیاء برآمد کرتا ہے،آس پاس میں ان کی دھوم مچ جاتی ہے اور اخبارات کے نمائندے اور فوٹو گرفر ان نوادرات کی تصویریں اوررپورٹیں بنانے کیلئے آدھمکتے ہیں ،بعد میںمعلوم ہوتا ہے کہ جن نوادرات کو قدیم دور کا بتایا جارہا ہے ،ان میں ایک تالا بھی ہوتا ہے جو تھوڑا سا رگڑنے سے اس پر میڈ ان جاپان لکھا ہواصاف نظر آجاتا ہے،اب یہ تو نہیںکہا جا سکتا کہ مذکورہ پتھر بھی شفیق الرحمٰن کے افسانے کی طرز پر کسی نے ویسے ہی بے معنی الفاظ کندہ کر کے اور ساتھ ہی بحری جہاز کے عرشے اور دل کی تصویر بنا کر1786ء اور1787ء بھی لکھ کر لوگوں کو (شیطان) کی طرح بے وقوف بنانے کی کوشش کی ہو،تاہم کوئی بعید نہیں کہ یہ معاملہ ایسا ہی ہو،کیونکہ اتنی بات تو سمجھ میں آجانی چاہیئے کہ اگر یہ ہند سے یونہی لکھے ہیں تو ان کا معاملہ بھی ٹیکسلا سے پہلے ،ٹیکسلا کے بعد والے تالے جیسا ہی ہوسکتا ہے کیونکہ قدیم زمانے میںکلینڈر اور ہندسوں کا تعین تو ہوا نہیں تھااور یہ سب کچھ تو سن عیسوی کے بعد ہی وجود میں آیا ہے یعنی قبل از مسیح اور بعد از مسیح ،اس لیئے اس پتھر کے پیچھے چھپے ہوئے''شیطان''کو تلاش کرنا پڑے گا،جس نے اس بے معنی بلکہ لا یعنی تحریر کو کندہ کرنے کا کام 1786ء میں شروع کیا اور کندہ کاری1787ء میں تکمیل پذیر ہوئی،تاہم اس کے جذبہ عشق کی داد دینی پڑے گی کہ اپنے دورکے ٹائی ٹینک کے حادثے میں بچ جانے کے بعد اپنی معشوق یا اپنے عاشق کو اس طرح سے یاد کیا کہ آج دنیا اس کے بارے میں جاننے کیلئے دوہزار یورو خرچ کرنے پر بھی تیار ہے،اس عاشق/ معشوق نامراد نے دوران کندہ کاری ممکن ہے یہ گانا بھی تخلیق کیا ہو کہ

دل تو ہے دل،دل کا اعتبارکیا کیجئے

آگیا ہے کسی پہ پیار کیا کیجئے

متعلقہ خبریں