مقبوضہ کشمیر میں ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ اور تشدد

مقبوضہ کشمیر میں ضمنی انتخابات کا بائیکاٹ اور تشدد

مقبوضہ کشمیر میں ضمنی انتخابات کے د وران بھارتی فوج کی فائرنگ سے آٹھ کشمیریوں کی شہادت' درجنوں افراد کے زخمی ہونے اور درجنوں کی گرفتاری کے واقعات اور مقبوضہ وادی میں کشمیری عوام کا ضمنی انتخاب کے مکمل بائیکاٹ سے ایک مرتبہ پھر اس امر پر مہر تصدیق ثبت ہوگئی ہے کہ مقبوضہ کشمیر کے حریت پسند عوام بھارتی تسلط سے آزادی سے کم کسی چیز پر راضی نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں جب بھی اس طرح کی صورتحال کا بھارت کو سامنا کرنا پڑتا ہے تو خفت مٹانے کے لئے اس کے بندوقوں کا رخ سرحد کے اس طرف بھی ہوتا ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول پر واقع آزاد کشمیر کے عوام پر بھی غصہ نکالتا ہے۔ گزشتہ روز بھی بھارتی فوج نے سماہنی سیکٹر کے سرحدی علاقوں بڑوھ' کھمباہ' تندڑ' بندلی اور دیگر علاقوں میں سویلین آبادی کو وحشیانہ بمباری کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں پاک فوج کا ایک سپاہی شہید جبکہ خاتون سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔ پاک فوج کے بھرپور جواب کے بعد ہی بھارتی بندوقوں میں کیڑے پڑ گئے۔ مقبوضہ کشمیر میں ضمنی انتخابات ہوں یا کسی یونیورسٹی کاکوئی میچ بھارت کا یوم جمہوریہ ہو یا کوئی اور موقع ان کو کشمیری عوام کی جانب سے نفرت اور پاکستان زندہ باد کے نعروں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ گزشتہ روز ہی یونیورسٹی کے طلباء نے اس امر کامظاہرہ کیا۔ بھارت بجائے اس کے کہ اس شدید نفرت کے اسباب جاننے اور کشمیری عوام سے معاملت پر توجہ دے' طاقت کے زور پر خطے کے عوام کو غلام بنائے رکھنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ مگر حریت کے متوالوں کو سوائے شمع آزادی روشن کرنے کے کسی اور چیز میں دلچسپی نہیں۔ قابض بھارتی فوج پیلٹ گن کے استعمال سے تقریباً بارہ سو سے زائد افراد کو نشانہ بنا چکی ہے اس پر بس نہیں بلکہ بھارتی فوج حریت پسندوں کے خلاف ایسے گولوں کا بھی استعمال کر رہی ہے جن میں سرخ مرچوں جیسا نامیاتی آمیزہ پایا جاتا ہے۔سی آر پی ایف کے سبکدوش ہونے والے ایک عہدیدار تشدد اور بربریت کے ان مظاہر کو بھی موثر قرار نہیں دیتے۔ایسا لگتا ہے کہ بھارت کو اگر اس سے بھی زیادہ تشدد و بربریت سے کام لینا پڑے تو دریغ نہ کرے مگر دوسری جانب حریت پسند عوام کا جوش وجذبہ اور لا زوال قربانیاں اس امر کو سمجھنے کے لئے کافی ہے کہ بھارت کا ہر ہتھکنڈہ ناکام و غیر موثر ہی جائے گا۔وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ بھارتی فوج کی جانب سے کشمیری عوام پر تشدد اور بہیمیت کے طریقوں میں بھی تبدیلیاں آرہی ہیں حالانکہ مہلک یا غیر مہلک ہتھیاروں کی ایجادات اور تشدد کے نئے طریقے اس وقت کشمیر کی ضرورت نہیں اور نہ ہی بھارت ایسا کرکے کشمیری عوام کے حریت کے جذبات کو دبا سکتا ہے بلکہ اس سے الٹا عالمی دنیا میں خود بھارت ایک جابر ریاست کے طور پر سامنے آتا ہے جس کی دنیا بھر میں مذمت کی جاتی ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت کو حقیقت حال کو سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ نئی اور مفید سیاسی حکمت عملیاں تشکیل دی جائیں اور کشمیری عوام سے رابطہ کرکے ان کوہر قیمت پر بھارتی قابض فوج کا مقابلہ کرنے کی بجائے مذاکرات کی پیشکش کی جائے۔ بجائے اس کے کہ بھارتی حکومت حقیقت حال کو سمجھنے کی سعی کرے الٹا تشدد کے ذریعے کشمیری عوام کو زیر کرنے کا سوچا جا رہا ہے۔ بھارتی وزیر داخلہ کی طرف سے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ مرکز کے خیال کے مطابق کشمیر میں صورتحال قابو کرنے کے لئے ضروری ہے کہ مساجد کو حکومت کے تحت کیاجائے' مدرسوں اور میڈیا پر پابندیاں عائد کی جائیں اور اپنے ہم خیال سیاستدانوں سے رابطہ کیاجائے۔ یہ تجویز اپنی جگہ اس امر کا صاف اظہار ہے کہ بھارتی قیادت اور صلاح کاروں کو تشدد اور بہیمیت سے آگے کچھ سوجھنا ہی نہیں اور وہ ہوش کے ناخن لینے کو تیار نہیں۔جب تک بھارت اس سوچ پر عمل پیرا ہے اس وقت تک مقبوضہ کشمیر میں حالات کے بہتر ہونے کی کوئی امید نہیں کی جاسکتی۔ ہمارے تئیں اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت وادی میں جاری حریت پسندوں کی اس نئے دور کی جدوجہد کا جائزہ لے اور یہ سوچ بچار کرے کہ وادی میں بے چینی ہی بے چینی کی وجوہات کیاہیں۔ اس وقت کشمیریوں کی کثیر تعداد کو دہشت گرد سمجھا جا رہا ہے اور یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انہیں پاکستان کی طرف سے مالی مدد ملتی ہے یہ صورتحال کسی بھی طرح بھارت کے مفاد میں نہیں' خواہ ان کی طرف سے سیکورٹی فورسز پر سنگباری کی جائے۔ اس امر پر بھی غور کی ضرورت ہے کہ کشمیریوں پر پیلٹ گنز کا استعمال نہ کیا جائے یا پھر کشمیری مظاہرین کو منتشر کرنے کے لئے اس قسم کے ہتھکنڈے استعمال کئے جائیں۔بہر حال جو لوگ ابھی تک مندرجہ بالا سوال کا جواب تلاش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں انہیں مندرجہ بالا صورتحال مد نظر رکھنی چاہئے۔دکھ کی بات تو یہ ہے کہ اقوام عالم اور خاص طور پر مغربی قوتیں کشمیر کو ایک مسئلہ تو تسلیم کرتی ہیں لیکن وہ اسے دو ملکوں کے درمیان سرحدی تنازعہ سمجھتی ہیں نہ کہ ایک عالمی مسئلہ جہاں پر انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں جاری ہیں۔ یوں اسے ابھی تک دو طرفہ مسئلے کی حیثیت ہی حاصل ہے تبدیلی صرف اتنی آئی ہے کہ اس مسئلے کے بارے میں یہ کہا جانے لگا کہ مسئلے کا ایسا حل تلاش کیا جائے جو کشمیریوں کے لئے قابل قبول ہو۔

اداریہ