ہائے شام کی وہ ٹھنڈی ہوا

ہائے شام کی وہ ٹھنڈی ہوا

پتہ نہیں نبی کریم ۖ کے وجود مبارک کی برکت تھی یا سرزمین شام کے ساتھ اللہ کے نبیۖ کی خصوصی انسیت کہ رحیم و کریم آقا جب تک اس دنیا میں رہے شام سے ٹھنڈی ہوا مدینے کی طرفا چلتی رہی لیکن جب آپ ۖ اس دار فانی سے کوچ کر گئے تو شام آہوں، سسکیوں اور نوحوں کی سر زمین بن کر رہ گیا اور چشم فلک نے وہ بھیانک منظر بھی دیکھا کہ اہل بیت کی پاکباز بیبیاں اپنے خاندان کے سارے مرد سرزمین کربلا میں کٹوا کرحالات کا نوحہ کرتیں شام کے بازاروں سے یزیدی تلواروں کے سائے میں یوں گزر رہی ہیں کہ شام کے درودیوار اور شجر و حجر بھی ان کی بے بسی پر نوحہ کناں ہیں اور تاریخ کے اوراق پر لکھا جا رہا ہے ، اے دجلہ،اے کوفہ، اے کربلا اور اے شام تم سب نے مل کر رسولۖ کے خاندان کو لوٹ لیا۔

میں تاریخ کے طالبعلم کے طور پر اکثر سوچتا تھا کہ جس سرزمین میں خاندان رسولۖ کا لہو پانی کی طرح بہا، جس سر زمین پر اعزاء رسول ۖ پانی کو ترسے اور جس سرزمین کی مٹی سیدہ زینب و سکینہ کے آنسووں سے تر ہوئی اس سرزمین پر خدا کا عذاب کیوں نہ آیا تو تاریخ نے مجھ سے ہنستے ہوئے کہا اے جاہل شخص ذرا ہلاکو خان کے زمانے کے بغداد کو میرے صفحوں میں کنگھال اور دیکھ کہ بغداد کیسے عذاب سے گزرا؟ میں ان بوسیدہ صفحات میں ڈوبا تو مجھے سارے کا سارا بغداد خون میں ڈوبا ہوا نظر آیا۔دجلہ و فرات میں بھی پانی کی جگہ خون بہتا ہوا نظر آیا ۔میں نے ان صفحات کو بہت اندر تک کنگھال ڈالا مگر مجھے خون میں ڈوبے ہوئے بغداد میں کوئی بندہ بشر نظر نہ آیا،ہاں روتے سسکتے اور بین کرتے کتوں کے غول ضرور نظر آئے جوبین کرتے ہوئے آسمان کی طرف گردن اٹھاتے گویا آسمان والے سے پوچھتے ہوں کہ مالک وہ سب کہاں چلے گئے جو ہماری بھوک مٹاتے تھے؟کل تک ہنستا بستا یہ شہر یکا یک اتنا ویران کیسے ہوگیا؟بغداد ہو کہ شام ان پر ان برسوں میں جو قیامت ٹوٹی نہ جانے کیوں اندر سے ایک آواز اٹھتی ہے کہ یہ بددعا زدہ شہر لمبے عرصے تک آباد رہ ہی نہیں سکتے۔ذرا غور کریں کہ نائن الیون کے بعد افغانستان کا کون سا کونہ، گوشہ یا چپہ ہے جہاں امریکیوں اور ان کے اتحادیوں کا بارود نہیں برسا لیکن یہ اس طرح برباد نہ ہوا جیسے شام ہوا۔حافظ الاسد علوی تھا لیکن اس کے طویل اقتدار میں کبھی فرقے کی بنیاد پر کوئی طوفان نہ اٹھا۔
اس کے بیٹے بشار الاسد کا اقتدار بھی ٹھیک ٹھاک چل رہا تھا لیکن یکا یک ایک طوفان آیا اورخانہ جنگی شروع ہو گئی۔اس آگ پر روس اور ایران نے اپنا تیل ڈالا، امریکہ، سعودی عرب،ترکی وغیرہ نے اپنا اور یوں شام حلب سے لے کر دمشق تک راکھ کا ڈھیر بن گیا اور سچ کہتا ہوں کہ اگر ہوشمندی نہ کی گئی تو فرقہ واریت کی یہ آگ پورے عالم اسلام کو اپنی لپیٹ میں لے لے گی۔
یہ جو بعض اسلامی ملکوں کا فوجی اتحاد بنا ہے جس کی سربراہی جنرل (ر) راحیل شریف کو دی گئی ہے، مجھے تو اس اتحاد کے پیچھے بھی امریکہ نظر آتا ہے۔سوال ذہن میں آتا ہے کہ امریکہ اتنا خطرناک کھیل کیوں کھیلنے لگا تویہ بات سمجھ لیجئے کہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ ہی نہیں لڑی اس سارے عرصے میں مسلمانوں ، ان کے عقائد اور ان میں پائی جانے والی کمزوریوں کا بہت گہرائی میں مطالعہ کیا ہے اور اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ عالم اسلام سے اگر شدت پسندی کا زہر نہ نکالا گیا تو اس زہر کے اثرات امریکہ اور یورپ کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے اور ان ملکوں کے باسیوں کے لئے ملک کے اندر اور باہر سانس لینا مشکل ہو جائے گا۔ وہ دیکھ رہے ہیں کہ جب ان کے پاس اسلحہ ہوتا ہے تو یہ اس کی مدد سے خون کی ہولی کھیلتے ہیں۔ سکیورٹی چوکس ہو تو جسم سے بم باندھ کر ہدف کو نشانہ بنا ڈالتے ہیں۔ اور کچھ بھی کرنے کا موقع نہ ہو تو کئی ٹن وزنی ٹرک راہ چلتے لوگوں پر چڑھا دیتے ہیں۔سو فیصلہ ہوا کہ انہیں آپس میں لڑایا جائے اور اتنا لڑایا جائے کہ یہ بے دم ہو کر گر پڑیں اور ان میں امریکیوں اور مغربیوں پر حملہ آور ہونے کی سکت ہی نہ رہے۔ جان میں جان آئے تو دشمنی اتنی توانا ہو چکی ہو کہ آپس میں ہی ایک دوسرے پر حملہ آور ہوں اور ہم پر حملہ آور ہونے کی سکت ہی ان میں نہ رہے۔
دیکھ لیجئے گا کہ آئندہ آنے والے دنوں میں فرقہ وارانہ جنگ کس طرح پھیلتی ہے۔شام اور عراق کے بعد اس کا رخ پاکستان کی طرف بھی ہوگا کیونکہ امریکی جن مسلم ملکوں کو اپنے مفادات کے لئے خطرہ سمجھتے ہیں ان میں پاکستان بھی شامل ہے۔وہ افغانستان کو بھی اپنے لئے خطرہ سمجھتے ہیں حالانکہ وہاں ان کی اپنی مرضی کی حکومت قائم ہے۔معاملہ تو یہ بھی ہے کہ حکومتیں ان کے لئے سرے سے مسئلہ ہیں ہی نہیں مسئلہ کچھ مسلم ملکوں کے عوام ہیں۔ ان ملکوں میں پاکستان، افغانستان، سعودی عرب، ترکی،عراق اور شام سر فہرست ہیں۔ان عوام کو فرقہ وارانہ بنیادوں پر لڑانے کے بعد جب وہ دیکھے گا کہ یہ ممالک کمزور ہو گئے ہیں تو وہ انہیں اپنی مرضی سے چلائے گا ۔امریکی تھنک ٹینک اب یہ سمجھتی ہے کہ مسلمانوں کے دلوں سے یہود ونصاریٰ کی نفرت کو نکالنا اب ممکن نہیں ۔خاص طور پر ان کے دل سے جو تشدد کے نظریئے کو رد نہیں کرتے ۔جنگ کی ابتدا کے وقت وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان مٹھی بھر لوگوں کو خاک میں ملا دیں گے جو امریکیوں کی جان کے درپے ہیں لیکن تشدد کے رویئے نے جس طرح فروغ پایا اور سرحدیں عبور کر کے دور دور تک پھیلا اس کے بعد وہ اپنی بقا مسلمانوں کی فنا میں سمجھتے ہیں اور اس کشاکش میں اگر روس اس کے ساتھ ٹکرا گیا تو جانئے تیسری جنگ عظیم کا نقارہ بج گیا۔کہتے ہیں شام میں قرب قیامت کے کچھ آثار دیکھے جا رہے ہیں،ممکن ہے وقت کے ساتھ یہ آگ اتنی پھیلے کہ پانچوں براعظم اس کی لپیٹ میں آجائیں اور سب کچھ فنا ہو جائے لیکن اس سے پہلے سمجھنے کی بات فقط یہ ہے کہ پہلی اور دوسری جنگ ہائے عظیم میں مجموعی طور جو نقصان ہوا تھا نائین الیون کے بعد شروع ہونے والی جنگ میں اس سے سینکڑوں گنا زیادہ نقصان ہو چکا ہے۔

اداریہ