Daily Mashriq


دس مہینے گرمی

دس مہینے گرمی

آج سے تقریباً 25یا 30سال پہلے چھ مہینے گرمی اور 6 مہینے سردی کے ہوا کرتے تھے مگر اب گرمی کا موسم 10 مہینے اور سردی کا مو سم بمشکل 2 مہینے ہوتا ہے۔پہلے مئی کے موسم میں گرمی شروع ہوجاتی تھی اور اب ما رچ کے مہینے میں ٹھیک ٹھاک گرمی پڑ رہی ہے ۔پہلے اکتوبر میں سردیوں کا آغاز ہوتا تھا مگر اب جنوری میں بھی سردی نہیں ہوتی۔ دنیا میں اس مو سمی تغیر اور قدرتی آفات کا سب سے بڑی وجہ ہوا میں کا ربن یا کا ربن ڈائی آکسائیڈ کی بے تحا شا زیادتی ہے۔ اگر ہم ما حولیات سے متعلق2015 کے نقشے پر نظر ڈالیں تو جنوبی ایشیاء ما حولیات کے لحا ظ سے انتہائی خطرے والے زون میں ہے ۔ اس نقشے کے مطابق بنگلہ دیش پہلے نمبر، بھارت تیرہویں اور پاکستانچوبیسویں ویں نمبر پر ہے۔ اور2016ء کے جا ئزے کے مطابق پاکستان موسمی تغیر کے لحاظ سے 12 ممالک میں سے ایک ہے۔ بھارت جسکی اقتصادی شرح نمو جو اس وقت 7فیصد ہے اسکا زیادہ سے زیادہ دار ومدار کوئلے سے پیدا ہونے والی توانائی پر ہے۔ بھارتی ماہرین کے مطابق 2012-22تک کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت 67 فی صد تک بڑھائی جائے گی۔جس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کاربن ڈائی اکسائیڈ کی مقدار میں مزید اضافہ ہوگا۔ پاکستان میں صنعتی ترقی اور کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کی صلا حیت نہ ہونے کے برابر ہے ۔ مگر وطن عزیز میں موسمی تغیر کا سب سے بڑا مسئلہ جنگلات کا کٹائو، آبا دی میں اضافہ اور گا ڑیوں کا بے تحا شا استعمال ہے۔ پاکستان میں جنگلات سرکا ری اعداد وشمار کے مطا بق 4 فی صد جبکہ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ڈھائی فی صد علاقے پر ہیں۔ پاکستان میں درخت تیزی سے کاٹے جا رہے ہیں۔ اورسالانہ ہم 30 ملین میٹر لکڑی کے برابر جنگلات میں کمی کر رہے ہیں۔ جنگلات خدا وند کریم کی طر ف سے ایک ایسا تحفہ ہے جو ہوا میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب اور آکسیجن کو خارج کرتا ہے ۔کا ربن ڈائی آکسائیڈ سے نہ صرف انسان اور جا نوروں کو نُقصان ہو رہا ہے بلکہ اس کی وجہ سے زمین کے درجہ حرارت میں بھی اضفہ ہوتا ہے جسکی وجہ سے سن سٹروک کے واقعات ہوتے ہیں اور گلیشیئر پگھل کر سمندر میں پانی کی سطح میں اضا فہ کر رہے ہیں جو تباہی اور بر با دی پھیلاتے ہیں۔ اگر ہم ارد گر د پڑوسی ممالک میں گلیشیئر کے سکڑنے کا تجزیہ کریں تو دنیا میں گلیشیر 180میٹر کے حساب سے سالانہ سُکڑ رہے ہیں۔سال 2005 میں پو ری دنیا میں 433 گلیشیئر کا تجزیہ کیا گیا جس میں 398 گلیشیئر ز قدرتی طور پر کم ہو رہے ہیں۔ایڈنبرا سنٹر فار کا ربن مینجمنٹ کے اوہا یو سٹیٹ یو نیور سٹی کے گلیشیئر کے ماہر لونی تھا مپسن نے ہمالیہ کو سٹڈی کیا جس میں95فی صد گلیشیئر کی سطح کم ہونے کی تصدیق ہوئی۔ 

سائنسی تجزئیے کے مطابق جب کوئی درخت یا پو دا ایک معکب میٹر بڑا ہوتا ہے تو وہ ایک ٹن زہریلی اور انسان دشمن گیس کا ربن ڈائی آکسائیڈ کو جذب کرتا ہے اور آدھ ٹن انسان اور جانور دوست گیس آکسیجن خارج کرتا ہے۔ اس سے ہم جنگلات کی اہمیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔قرآن مجید فُر قان حمید میں 37 مقامات پر درختوں اور نباتات کا ذکر آیا ہے۔ حضور ۖ نے بھی درخت کو صدقہ جاریہ قرار دیا ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق نے لشکر کو مخاطب کرکے فرمایا کہ میں تمہیں دس با توں کی نصیحت کرتا ہوں۔ 1) حیانت نہ کرنا، فریب نہ دیناعہد شکنی نہ کرنا2) بزدلی نہ دکھانا3) کسی کی لاش کو نہ بگا ڑنا4) بچوں 'بوڑھوں اور عورتوں کو قتل نہ کرنا5) کھجوروں اور پھل والے درختوں کو نہ کا ٹنا6) آبا دیوں کو نہ اُجا ڑنا7)حلال جانور کو کھانے کی غرض کے سوا ذ بح نہ کرنا8)خانقاہوں وغیرہ میں عبادت کے لئے بیٹھے ہوئے لوگوں کو اُنکے حال پر چھوڑنا9)جو کھانا دے اللہ کا نام لے کر کھانا وغیرہ۔ اگر حضرت ابو بکر صدیق کی مندرجہ بالا نصیحتوں جو اُنہوں نے فوج اور سالا ر فوج کو ہدایت فرمائی تھی اس میں درختوں، با غوں اور پو دے کے اُجا ڑنے سے منع فر مایا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے کائنات کی ہر چیز کو ایک خا ص نظام کے تحت بنایا ہے۔ جو بھی اس نظام میں بگا ڑ پیدا کر ے گا اُس سے ماحول کو نُقصان ہو گا۔ جہاں جہاں پر جنگلات زیادہ ہیں وہاں پر با رشیں بھی زیادہ ہو تی ہیں ۔ مثلاً پاکستان کے 4فیصد رقبے پرجنگلات ہیں اور یہاں پر سالانہ 494 ملی میٹر با رشیں ہو تی ہیں جبکہ اسکے بر عکس وہ ممالک جہاں پر زیادہ جنگلات ہیں وہاں پر با رشیں زیادہ ہو تی ہیں۔ مثلاً جاپان میں 37 فی صد جنگلات ہیں اور بارشیں 1690 ملی میٹر ، بھارت میں جنگلات کی شرح 25 فی صد بارشیں 1083ملی میٹر ، سری لنکا میں 43فی جنگلات ، با رشیں 2500ملی میٹر اوربھوٹان میں 60 فی صد جنگلات ،با رشیں 2400 ملی میٹر ہو تی ہیں۔ جہاں جہاں جنگلات زیادہ ہیں وہاں کا ربن ڈائی آکسائیڈ کی کمی اور آکسیجن زیادہ ہوتی ہے جس کی وجہ سے گلیشیئرز پر زیادہ برف پڑتی اور با رشیں زیادہ ہوتی ہیں۔مگر بد قسمتی سے پاکستان میں جنگلات کی کٹائی میں جس تیزی سے اضا فہ ہو رہا ہے وہ دن دور نہیں جب پاکستان بنجر اور ویران بیابان ہو جائے گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم جنگلات کی کٹائی میں کس طر ح کمی کر سکتے ہیں ۔تو اسکا ایک حل ہے کہ دیہاتی علاقوں میں زیادہ سے زیادہ متبادل ذرائع توانائی جس میں پانی ، ہوا اور سورج سے بجلی بنانے اور با لخصوص دیہاتی علاقوں میں بائیو گیس کی طر ف توجہ دی جائے۔

متعلقہ خبریں