Daily Mashriq


شہید ملازمت

شہید ملازمت

افضل رضا ہمارے دل کے ایک نہایت ہی قریب دوست تھے۔ ہنس مکھ' بذلہ سنج اور حد درجے ذہین انسان تھے۔ ان کی رفاقت کی خوشگوار یادیں ہمیشہ ساتھ رہتی ہیں۔ افضل رضا بھی دنیا سے گزر گئے لیکن انہیں ان کی بیماری پر خرچ ہونے والے اخراجات زندگی میں ادا نہیں کئے گئے۔ یہ کیوں اور کیسے ہوا اس کا بھی ذکر ہوگا پہلے یہ بتاتے چلیں کہ افضل رضا ایک بہت بڑی ادبی شخصیت تھے۔ پشتو کی تحقیق و تنقید کے میدان میں بے پناہ شہرت پائی۔ پچاس سے زیادہ کتابیں لکھیں۔ ریڈیو والوں کی فرمائش پر وہاں کسی کمرے میں بیٹھ کر ڈرامہ لکھ کرحوالے کردیتے۔ نثار محمد خان نے ایک دفعہ ہمیں بتایا کہ ہماری فرمائش پر وہ ایک ڈرامہ لکھ کر لائے۔ میں نے از راہ مذاق انہیں کہا' رضا مزہ نہیں آیا۔ ابھی لو دوسرا حاضر کردیتا ہوں۔ کینٹین میں جا کر بیٹھ گئے اور ایک گھنٹہ بعد اسی موضوع پر دوسرا ڈرامہ لکھ کر لے آئے۔ میں نے پھر منہ بناتے ہوئے کہا' یار' کچھ کمزور لگتا ہے۔ وہ دوبارہ کینٹین گئے اور ایک گھنٹے سے بھی کم وقت میں واپس آئے تو ہاتھ میں نئے ڈرامے کا مسودہ تھا۔ کوئی سال ایسا نہ جاتا جب وہ ریڈیو اور ٹیلی وژن کے لئے دس بارہ ڈراموں کے علاوہ تحقیق و تنقید کے موضوع پر دو تین کتابیں نہ چھپواتے۔ وہ ایک پروفیشنل لکھاری تھے کبھی اپنی کوئی کتاب اپنے خرچ پر نہیں چھاپی۔ پبلشر ان سے فرمائش پر کتابیں لکھواتے۔ پی ایچ ڈی کے لئے ہم دونوں نے پشاور یونیورسٹی کے شعبہ پشتو میں بیک وقت داخلہ لیا' کورس ورک بھی ایک ساتھ ہی مکمل کیا۔ اسی دوران وہ ایک جان لیوا بیماری میں مبتلا ہوگئے۔انہوں نے مقالہ مکمل کرلیا تھا لیکن اس کی منظوری سے پہلے ہی فوت ہوگئے۔ شنید ہے کہ انہوں نے اپنا یہ مقالہ اشاعت کے لئے پشتو اکادمی والوں کو اس غرض سے دے دیا تھا کہ انہیں اپنے علاج کے لئے پیسوں کی ضرورت تھی۔ یہ تھیسس شائع تو نہ ہوسکا لیکن اس کے ساتھ ایک ایسی کہانی بیان کی جانے لگی جس کا ہم یہاں بوجوہ ذکر کرنا نہیں چاہتے۔ افضل رضا محکمہ تعلیم میں گریڈ 20کے افسر تھے۔ جب ان پر پہلا ہارٹ اٹیک ہوا تو وہ پوسٹ گریجویٹ کالج مردان کے پرنسپل تھے۔ ہم پورے وثوق سے کہتے ہیں کہ ہمیں بھی اس کا تجربہ ہے کہ آج کل کسی بھی سرکاری کالج کی سربراہی کسی پاگل بھینسے پر سواری سے کم نہیں۔ ان کو دل کا مرض فرائض کی ادائیگی کی اذیتوں کی وجہ سے لاحق ہوا۔ سیاسی جماعتوں کی طرح ان طلبہ تنظیموں میں نظریاتی اختلافات کی وجہ سے کالج کے سربراہ کو انتظامی امور چلانے میں ہمیشہ مشکلات کا سامنا رہتا ہے اور اس کا سارا وقت ان تنظیموں کے مسائل حل کرنے میں صرف ہوتا ہے۔ حکومت بھی تعلیمی اداروں میں امن و امان قائم رکھنے کی خاطر طلبہ تنظیموں کے نمائندوں کو پرنسپل کی مجبوریوں پر ترجیح دیتی ہے۔ افضل صاحب بھی کالج میں داخل ہوتے تو انہیں بے شمار مسائل کاسامنا کرنا پڑتا۔ کبھی کوئی تنظیم ٹرانسپورٹ کا کوئی مسئلہ لے کر ان کے دفتر کے سامنے کھڑی ہوتی ' کبھی انہیں داخلوں میں ہیر پھیر کی کہانی سنائی جاتی تو کبھی سکالر شپ کی وقت پر ادائیگی نہ ہونے کے مسئلے پر طلبہ کلاسوں سے نعرے لگاتے نکل کر ان کے دفتر پر چڑھ دوڑتے۔ رضا صاحب بے چارے مرنجان مرنج شائستہ مزاج کے صرف کتاب و قلم سے تعلق رکھنے والے انسان تھے۔ بعض اوقات طلبہ کے گستاخی کی حد تک تیز وتند جملوں کی وجہ سے ہم دیکھتے کہ ان کا رنگ پیلا پڑ جاتا اور اپنی بے بسی کی وجہ سے پسینے میں شرابور ہو جاتے۔ گوشت پوست کا انسان جس کے پاس کچھ اختیار بھی نہ ہو یہ پر اذیت ذہنی دبائو کب تک برداشت کرسکتا ہے۔ ایک صبح خبر آئی کہ رات کو ان پر دل کا دورہ پڑا ہے۔ بچے انہیں اکوڑہ خٹک سے براہ راست پشاور لے گئے۔ مرض کی شدت میں اضافہ ہوتا گیا اور انہیں دوبارہ ڈیوٹی پر آنا نصیب نہ ہوا اور مجبوراً انہیں قبل از وقت ریٹائرمنٹ لینا پڑی۔ اس سے پہلے وہ ٹوپی چھوٹا لاہور پبی اور مردان کے نمبر2 کالج میں پرنسپل رہ چکے تھے۔ دیانتداری سے کام کیا تھا چنانچہ ان پر کسی مالی بے قاعدگی کا الزام نہ تھا ا س لئے انہیں پنشن لینے میں کوئی دقت پیش نہ آئی۔ لیکن جب انہوں نے اپنی طویل علالت کے دوران اپنے علاج کے اخراجات کا بل متعلقہ اکائونٹس کے دفتر میں پیش کیا جو صرف چالیس ہزار کی رقم کا تھا ۔ تو اکائونٹس والوں نے یہ اعتراض لگا کر واپس کر دیا کہ آپ کی پوسٹنگ تو مردان میں تھی ۔ چنانچہ آپ کو اکوڑہ خٹک سے پشاور جانے کی بجائے ، قواعد کے مطابق مردان کے سرکاری ہسپتال میں آنا چاہیئے تھا ۔ یہاں اگر علاج ممکن ہوتا تو پھر آپ کو پشاور ریفر کیا جاتا ۔ رضا صاحب نے ہمیں گھر سے فون پر بتایا کہ یا ر ان لوگوں کی عجیب منطق ہے ۔ کیا موت کا فرشتہ میرے مردان سے ریفر ہونے تک نوشہرہ میںمیرا انتظار کرتا ۔ اس قانونی موشگافی کی وجہ سے ہمارے دوست افضل رضا کو اُن کی زندگی میں بیماری کے اخراجات موصول نہ ہو سکے ۔ بعد میں کتنی رقم ملی ، ملی بھی یا نہیں ہمیں اس کا کوئی علم نہیں اگر مل بھی گئی ہو تو وہ اُن کی تجہیز وتکفین پر خرچ ہوگئی ہوگی ۔ پروفیسر افضل شہید ملازمت کا اعزاز پانے والے پرنسپل تھے ۔ اطہر حسن زبیری کو بھی مردان کالج کی سربراہی کے دوران ہی دل کا دورہ پڑا ۔ جو بے پناہ ذہنی دبائو اور فرائض کی ادائیگی میں بے بسی کا نتیجہ تھا ۔ بتانا صرف یہ مقصود تھا کہ سرکاری کالج کے سربراہوں کو اتنا بااختیار بنانا ضروری ہے کہ وہ ایک پر امن ماحول میں اپنے فرائض ادا کر سکیں ۔ اور ذہنی دبائو کی وجہ سے انہیں جان سے ہاتھ نہ دھونا پڑے ۔

متعلقہ خبریں