Daily Mashriq


تین عشروں پر محیط دہشتگردی کی جنگ

تین عشروں پر محیط دہشتگردی کی جنگ

وطن عزیز میں تین عشروں سے جاری دہشتگردی نے ہر پاکستانی کو غموں سے رنجور کر کے رکھ دیا ہے ،دہشتگردی کی اس جنگ میں اہل وطن نے بہت بھاری قیمت چکائی ہے اور نہ معلوم کب تک چکاتے رہیں گے،دہشتگردوںکے حملوں سے بچے ،بوڑھے ،نوجوان ،خواتین حتیٰ کہ مساجد اور مقدس مقامات بھی محفوظ نہیں ہیں۔ دہشتگردوں کے حملوں سے شہریوں کو محفوظ رکھنے کیلئے حکومت اور عسکری اداروں کی طرف سے متعدد آپریشن شروع کئے گئے جس میں دہشتگردوں کی کمر توڑنے کے دعوے بھی کئے گئے لیکن حقیقت یہ ہے وطن عزیز پر اب بھی دہشتگردی کے گہرے سائے موجود ہیں۔ ہمیں یہ علم ہونا چاہیے کہ بھارتی حکومت اندرونی طور پر خلفشار کا شکار ہونے کی وجہ سے پاکستان میں خلفشار پیدا کر کے وہاں موجود ایک مخصوص طبقے کو خوش رکھنا چاہتی ہے۔ جس کا سلوگن ہی پاکستان کی بربادی ہے۔

افغانستان کا ہمیشہ سے ہی انڈیا سے تعلق رہا ہے، اور آئندہ بھی رہے گا۔ ہمیں بالغ نظری سے کام لیتے اور پراعتماد رہتے ہوئے اسے اپنا خبط بنانے سے گریز کرنا ہو گا۔ہمارے کرنے کا کام یقینی طور پر یہ ہے کہ ہمیں طورخم اور دیگر مقامات سے پاک افغان سرحد کی اچھے طریقے سے نگرانی کرنی چاہیے۔ لیکن ہمیں بننے والی وسیع ترتصویر سے صرف ِ نظر نہیں کرنا ہوگا۔ ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ ہم نے افغانستان سے کس حد تک تعلقات رکھنے ہیں۔ افغانستان کے ساتھ ہمیں دستاویزی سفر کے بغیر آنے جانے پر پابندیاں لگانا ہوں گی۔ طور خم بارڈر سمیت چمن بارڈ راور سرحدی علاقوں کی حفاظت کیے بغیر ہم دہشت گردی کے خلاف جنگ نہیں جیت سکتے۔ امیگریشن کے انتظامات اسی طرح سے کرنے ہیں جس طرح سے دوسرے ممالک کرتے ہیں۔ اور اگر اس حوالے سے ہمیں کوئی دباؤ میں رکھتا ہے تو اْسے بھی دو ٹوک جواب دینے کی اشد ضرورت ہے۔ دنیا بطور قوم اپنے ملک کی حفاظت کرنے کے لیے مرمٹنے کو ترجیح دیتی ہے اور وہ کام کرتی ہے جس سے ان کا ملک محفوظ ہو۔ اس کے لیے انہیں آخری حد تک بھی جانا پڑے تو وہ اس سے گریز نہیں کرتے لہٰذا ہمیں بغیر کسی کے دباؤ میں آئے پاک افغان سرحد کو مکمل طور پر سیل کر دینا چاہیے۔

جہاں تک دہشت گردوں کے گمراہ کن نظریات کا تعلق ہے، اس حوالے سے بھی ریاست کی طرف سے کوئی ٹھوس اقدامات نہیں لیے گئے۔ یقیناً پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے افغانستان میں دہشت گردوں کے کیمپ پر حملے سے ان کو شدید نقصان پہنچا ہوگا، اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کہ انٹیلی جنس بنیادوں پر کیے جانے والے آپریشنوں سے بہت سے سلیپر سیلز کا خاتمہ کیا ہو گا لیکن اس سے دہشت گردی کے جن کو بوتل میں بند نہیں کیا جا سکتا۔ جب تک پکڑے جانے والے دہشت گرد ان کے سہولت کار، مالی معاونت فراہم کرنے والے قانونی طور پر جکڑے نہیں جاتے اور ان کے نظریہ کے خلاف ریاستی سرپرستی میں نظریہ سازی نہیں کی جاتی۔

بھارت خطے میں دہشت گردی کی کارروائیوں کے حوالے سے اپنا کوئی ثانی نہیں رکھتا لیکن اْس نے بھی اپنے ملک کے اندر سخت ترین قوانین کو لاگو کرتے ہوئے ہر مددگار کو جکڑ ڈالا۔ ہمیں یہ بھی سمجھنا ہوگا کہ خطے میں سفارتکاری کے پینترے بدلنے کی ضرورت ہے ورنہ ہم بہت پیچھے رہ جائیں گے۔ آج افغانستان 90کی دہائی والا افغانستان نہیں رہا۔ آج اْسے بھارت نے بہت سیانا کر دیا ہے۔ قارئین کو شاید یاد ہوگا کہ سابق افغان صدر حامد کرزئی کی مدت صدارت ختم ہونے کے بعد اشرف غنی اور عبداللہ عبداللہ کے درمیان نئے افغان صدر کے لئے کانٹے دار مقابلہ چل رہا تھا۔ پاکستان اشرف غنی کو نئے افغان صدر کے طور پر دیکھنا چاہتا تھا۔اس حوالے سے قومی اداروں پر اشرف غنی کی حمایت کا الزام بھی لگایا گیا۔بین الاقوامی جریدوں میں لکھا گیا کہ پاکستان نے عبداللہ عبداللہ کی جیت کو شکست میں بدلا۔انتقال اقتدا ر کا معاملہ آیا تو امریکی مداخلت کے بعد دونوں صدارتی امیدواروں کے لئے حکومت میں مخصوص کردار کا تعین کر دیا گیا۔ اشرف غنی افغانستان کے صدر بن گئے جبکہ عبداللہ عبداللہ کو چیف ایگزیکٹو بنادیا گیا۔ عمومی تاثر تھا کہ اشرف غنی کے عہدہ صدارت سنبھالنے کے بعد پاکستان اور افغانستان کے تعلقات مزید بہتر ہوں گے۔ افغانستان کے بھارت کی طرف جھکاؤ میں کمی آئے گی۔ این ڈی ایس اور را کے درمیان اسٹرٹیجک پارٹنر شپ ختم ہوجائے گی۔ مگر افغانستان میں نئے سیٹ اپ کے بعد معاملات مزید بگڑ گئے۔ہم آپریشن ضرب عضب میں شمالی وزیرستان کے علاقوں کو دن رات نشانہ بناتے رہے جبکہ دہشت گرد سرحد پار مسلسل منظم ہوتے رہے،اس سارے عرصے میں افغانستان کے ساتھ سفارتی تعلقات کشیدہ ہوگئے ۔بارڈر مینجمنٹ کے نام پر دونوں ممالک کے درمیان سخت کشیدگی پائی گئی۔ اسلام آباد میں بیٹھنے والے افغان سفیر نے برملا محفلوں میں کہنا شروع کردیا کہ اگر نقصا ن ہمارا ہوگا تو محفوظ پاکستان بھی نہیں رہے گا۔ایک پڑوسی ملک کے جب دوسرے پڑوسی ملک کے ساتھ تعلقات اس نہج کو پہنچ جائیں تو دونوں کا امن غارت ہو کر رہ جاتا ہے۔

متعلقہ خبریں