گدھا کُشی کی بجائے گدھا کَشی

گدھا کُشی کی بجائے گدھا کَشی

سی پیک کی اہمیت مستقبل کے پاکستان کے حوالے سے حوصلہ افزا تصور کی جارہی ہے ۔جبکہ اس میں کوئی دو رائے نہیں ہیںکہ سی پیک پاکستان کی معیشت پر دوررس اثرات مرتب کرنے جارہا ہے ۔پاکستان اگر چہ وفاقی سطح پر ایک اکائی ہے لیکن بہرحال اس میں صوبوںکا ایک وجود بھی مسلمہ ہے ۔ ہر صوبہ چاہتا ہے کہ وہ ترقی کرے ۔ سی پیک ایک ایسامنصوبہ ہے کہ جس میں تمام صوبے اپنے اپنے امکانات کی تلاش کررہے ہیں ۔ خیبر پختونخوا کی حکومت بھی اس ضمن میں اپنا ہوم ورک کرچکی ہے اور چائنہ میں ''چائنہ روڈ شو''کا اہتمام کررہی ہے کہ جس میںصوبہ خیبر پختونخوا میں مختلف منصوبے تجویز کیے گئے ہیں ۔اس روڈ شو میں یہ منصوبے پیش کیے جائیں گے کہ جن پر چینی سرمایہ کاروں کی دلچسپی حاصل کی جائے گی ۔ تقریباً تمام منسٹریوں نے اپنے اپنے شعبہ جات میں منصوبے تیارکیے ہیں ۔ جن میں تعلیم و تربیت ، ہنرکاری ، انجنیئرنگ ،زراعت وغیر ہ سے متعلقہ شعبوںمیں چینی سرمایہ کاری لانے کی جستجو کی جارہی ہے ۔ سرمایہ کاری کسی بھی ملک یا صوبے کی ترقی کے لیے بہت اہم ہوتی ہے ۔ کہ اس سرمایہ کاری سے پیسہ آتا ہے ۔روزگار کے وسیلے نکلتے ہیں ۔ خام مال کی کھپت پیدا ہوتی ہے ۔ گویا معیشت کے ہر ہر پہلو پر مثبت اثرات سامنے آتے ہیں۔خیبر پختونخوا کی حکومت کا ایک منصوبہ ہے کہ جس کی خبرگزشتہ روز کے اخبارات میں شائع ہوئی ہے ۔ مجھے ذاتی طور پر بہت اچھی لگی ۔ اور وہ ہے اس چائنہ روڈ شومیں گدھوں کی افزائش نسل کا ایک منصوبہ رکھا گیا ہے ۔ اس منصوبے کا نام ''خیبر پختونخوا ، چین پائیدار ڈنکی ڈویلپمنٹ پروگرام '' ہے ۔ اس منصوبے پرصوبائی حکومت اور چین ایک ارب کی مشترکہ سرمایہ کریں گے اور بہترین نسل کے 43لاکھ گدھے سالانہ چین کو ایکسپورٹ کیے جائیں گے ۔ اب ظاہر ہے کہ اس سے روزگار کے کتنے امکانات ظاہر ہوں گے اور کتنا زرمبادلہ اس سے حاصل کیا جاسکے گا اس کا اندازہ کوئی سٹے ٹِیشن ہی لگا سکتا ہے ۔ چائنہ میں گدھوں کی مانگ بہت زیادہ ہے ۔ اس کی کھال بہت قیمتی تصور کی جاتی ہے اور ماضی قریب میں ہم پنجاب کے حوالے سے مختلف خبروں میں دیکھ چکے ہیں کہ غیرقانونی طور پر گدھوں کو ذبح کیا جاتا ہے ۔ان گدھوں کی کھال غیر قانونی طور پر چین بھیج دی جاتی ہے اور گوشت کا مصرف بے چارے پاکستانی بنتے ہیں ۔ اس نئے منصوبے کی کامیابی کی صورت میں چین کی صنعت کو درکار گدھوں کی کھال کی کھپت بڑی حد تک پوری ہوگی اور یوں وہ غیر قانونی طور پر گدھوں کی ہلاکت کا سلسلہ بھی کم ہوجائے گا۔ عوام کو بھی سکون ملے گا کہ کہیں وہ گدھے کا گوشت تو نہیں کھارہے ۔ کیونکہ صوبائی حکومت صرف گدھوں کی کھالوں کا منصوبہ نہیں بنارہی ،کیونکہ اگر صرف کھالوں کا منصوبہ تیار ہو تو اس کا مطلب 43لاکھ گدھے سالانہ یہیں ذبح ہوں گے تو ان کے گوشت کو تلف کرنے کا کیا سلسلہ ہوگا۔ سو سالم بلکہ زندہ گدھوں کی ایکسپورٹ سے مذکورہ خطرہ ختم ہوجائے گا ۔اب چینی لوگ ان گدھوں کو ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت کا کیا مصرف کرتے ہیں یہ وہ جانیں اور ان کی بلا۔ہمیں اپنے زرمبادلہ سے غرض ہے جو ہمیں ان 43لاکھ گدھوں کی صورت میسر آجائے گا ۔ ویسے بھی چینی لوگ کھانے کے معاملے ہماری طرح سیلیکٹیو نہیں ہیں ۔ انہیں جس چیز سے پروٹین ملے اس کو پکاکرکھاجاتے ہیں ۔سنا ہے کہ گدھا وہاں کی مرغوب غذا ہے ۔ سو43لاکھ گدھوں کی ایکسپورٹ سے ہم چائنیز خوش ''خوراکوں''کے پیٹ کی دعائیں بھی وصول کرلیں گے ۔ مجھے نہیں معلوم کہ صوبائی حکومت چائنہ روڈ شو میں اور کون کون سے منصوبے لے کر ساتھ جارہی ہے ۔ لیکن اس ایک خبر سے صوبائی حکومت کی سنجیدگی عیاں ہے کہ کچھ سوچ سمجھ کر ہی منصوبے بنائے گئے ہوں گے ۔ کیونکہ گدھوں کی کھالوں کی ایک غیر قانونی مارکیٹ کی سٹڈی کرنے کے بعد گدھوں کے اس کاروبار اور چائنہ میں اس کی ڈیمانڈ کودیکھ کر اسے ایک قانونی شکل دے کر صوبے کو مالی فوائد دینے کی ٹھانی گئی ہے تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صوبائی حکومت ایک سنجیدہ نوٹ کے ساتھ اس روڈ شو کی طرف بڑھ رہی ہے ۔ صوبہ خیبر پختونخوا ماضی قریب میں بدامنی کے حوالے سے سب سے زیادہ خبروں میں رہا ہے ۔اب اللہ کا کرم ہے زندگی واپس امن کی جانب لوٹ کرآرہی ہے ۔جیسے کوئی ڈراؤناخواب ٹوٹتا ہے اور اس کے بعد سانسیںبحال ہونے میں وقت لگتا ہے اور پھر زندگی سکون کی جانب بڑھنے لگتی ہے ۔ ہمارا صوبہ بھی اس ڈراؤنے خواب سے باہر نکل آیا ہے ۔ اب زندگی سکون کی جانب بڑھ رہی ہے ۔ اور سی پیک کی صورت میں میں ایک نئی لائف لائن دیکھ رہا ہوں کہ ہمارے صوبے کو ترقی کی شاہراہ پر لاکھڑا کردے گا ۔ ہمارے صوبے کے لوگ پہلے سے ہی ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں ۔ سی پیک سے اس صوبے کی بے روزگاری میں کمی آئے گی ۔ غربت کے ستائے ہوئے ہمارے صوبے کے لوگ دوبئی ، شارجہ اور عرب ممالک میں جاکر سخت ترین محنت اور مزدوری کرتے ہیں وہ بھی بہت کم اجرت پر ۔سی پیک تو ہمارے اپنے ملک میں محنت مزدوری اور روزگار کے امکانات لے کر آیا تو اس میںہم کیسے اپنا خون پسینہ شامل نہ کریں گے۔ خوشی اس بات کی ہے کہ پنجاب میں گدھا کُشی کی جو تحریک چلی تھی اس تحریک کو ہماری صوبائی حکومت گدھا کَشی میں تبدیل کررہی ہے جوخوش آئند ہے ۔

اداریہ