شہر ناپرسان، سرکاری ادارے کہاں گئے؟

شہر ناپرسان، سرکاری ادارے کہاں گئے؟

خیبر پختونخوا میں شدید بارشوں کے باعث دو خواتین سمیت چار افراد کے جاں بحق ہونے اور پندرہ افراد کے زخمی ہونے کے واقعات کو تو آفت ناگہانی قرار دے کر صبر کر لینے کی گنجائش تو ہے لیکن سرکاری محکموں کی ناقص منصوبہ بندی اور حد درجہ غفلت کے باعث عوام جس قسم کے حالات ومشکلات اور مصائب کا شکار ہو رہے ہیں اس پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے۔ صوبے میں طوفانی بارشیں پہلی مرتبہ ہوتیں اور یہ صورتحال پہلی بار سامنے آیا ہوتا تو اسے نئی صورتحال گردان کر منصوبہ بندی اور اس قسم کے حالات سے نمٹنے کیلئے تدابیر اور منصوبے میں تبدیلی کی تجویز دی جا سکتی تھی لیکن یہاں اس طرح کی صورتحال ہر سال درپیش ہوتی ہے، قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوتا ہے، سارا شہر تالاب کا نمونہ پیش کر رہا ہوتا ہے، ہر سال سرکاری محکموں پر تنقید ہوتی ہے لیکن نہ تو منصوبہ بندی میں تبدیلی آتی ہے اور نہ ہی نئے منصوبوں کے قیام کے وقت اس قسم کے حالات کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ خیبر پختونخوا کے درالحکومت پشاور میں بی آر ٹی منصوبے کے باعث شہر کی مرکزی سڑک پر اس قسم کی صورتحال کے تدارک پر مبنی اقدامات کی توقع تھی مگر گزشتہ روز کی بارش میں گورا قبرستان سے لیکر آبدرہ روڈ تک سڑک جس طرح ندی نالے کی شکل اختیار کر گئی اس سے ان کے اُمیدوں پر پانی پھر جانا فطری امر تھا۔ اربوں روپے کی لاگت کے اس منصوبے میں سڑک کے دونوں طرف نکاسی آب کے جو نالے بنائے گئے ہیں ایک عام آدمی کی نظر سے دیکھنے پر وہ کافی اور ضرورت کے مطابق نظر آتے تھے لیکن حالیہ بارش میں دیکھی گئی صورتحال سے مایوسی ہونا شہریوں اور سرکاری محکموں سبھی کیلئے کسی اچھی صورتحال کی نشاندہی نہیں ہوئی، بہرحال ممکن ہے کہ تعمیرشدہ نالیوں کی یا تو کسی جگہ تعمیرات ادھوری رہ گئی ہو یا پھر ان کی صفائی سے قبل آفت ناگہانی آگئی ہو چونکہ اس وقت کام جاری ہے اور سڑکیں کھدی پڑی ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو یہ اچھا موقع ہے کہ ان اسباب کا ایک مرتبہ پھر جائزہ لیا جائے جو منصوبے میں سقم کا باعث بنے یا جو بھی صورتحال ہو اس کا باریک بینی سے جائزہ لیکر ابھی اسقام اور رکاوٹیں دور کی جائیں تاکہ منصوبے کی تکمیل کے بعد اس صورتحال سے واسطہ نہ پڑے اور اربوں روپے کی لاگت سے تیار کردہ منصوبہ بیکار ثابت نہ ہو۔ جہاں تک من حیث المجموع شہر پشاور کی صورتحال کا تعلق ہے اس کے ناگفتہ بہہ ہونے اور آئندہ بھی اس طرح رہ جانے کے خدشات اپنی جگہ موجود ہیں ان کی طرف توجہ اور ان کے حوالے سے ٹھوس منصوبہ بندی کا موقع کب آئے گا کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ اخباری اطلاعات کے مطابق پشاور میں ہونیوالے بارش سے پورا شہر پانی میں ڈوب گیا۔ نشیبی علاقے زیر آب آگئے، بی آر ٹی کیلئے جگہ جگہ ہونیوالی کھدائی میں پانی بھر جانے سے حادثات رونما ہوئے، ٹریفک کا نظام درہم برہم ہوگیا اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں۔ پشاور میں بارش سے بجلی اور گیس کی فراہمی بھی بری طرح متاثر ہوئی اور کئی گھنٹوں تک شہر تاریکی میں ڈوبا رہا۔ شہر بھر میں گیس کی سپلائی بھی معطل رہی، طوفانی بارش سے بلور پلازہ صدر سے ڈینز ٹریڈ سنٹر تک سڑک پانی میں ڈوب گئی، اسی طرح یونیورسٹی روڈ، گلبہار، تہکال، لاہور اڈہ، لاہوری چوک، سورے پل، چارسدہ روڈ، سردار احمد جان کالونی، کوہاٹی گیٹ، بھانہ ماڑی اور اندرون شہر کیساتھ ساتھ پورا شہر بارش کے سیلاب میں ڈوب گیا۔ سڑکوں پر پانی کھڑا ہونے سے بند ہونیوالی گاڑیوں کو بروقت نکالنے کے اقدامات اور انتظامات نہ ہونے کے باعث ٹریفک جام کی صورتحال مزید گمبھیر ہوگئی۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ جی ٹی روڈ اور یونیورسٹی روڈ پر ٹریفک پولیس کی ایک بھی گاڑی، فورک لفٹر اور وہ نمائشی کرین جو معمول کے حالات میں کبھی کبھار بطور نمائش سڑک پر کھڑی کر دی جاتی ہے کہیں نظر نہیں آئی۔ شہر کے کسی چوک چوراہے اور مین روڈ پر ٹریفک پولیس کی کوئی نفری تعینات نہیں تھی اور نہ ہی ریسکیو 1122 پی ڈی ایم اے اور این ڈی ایم اے سمیت مقامی پولیس اور انتظامی اہلکاروں کی صورت دکھائی دی۔ صوبائی دارالحکومت میں اس موقع پر جس قسم کی صورتحال دیکھی گئی اور صوبہ بھر سے جو اطلاعات آئیں اسے سرکاری اداروں کی بے حسی پر محمول کرنا غلط نہ ہوگا بلکہ اس صورتحال کی بہتر تشریح شہر ناپرسان کے لفظ سے بھی ممکن نہیں۔ بے یار ومددگار لوگوں کو اس امر کا یقین نہیں تھا کہ اس صوبے پر کبھی حکومت نام کی کوئی چیز تھی بھی کہ نہیں، سرکار کے محکمے تھے بھی کہ نہیں، محکموں کو صوبائی اور وفاقی حکومت کی جانب سے کروڑوں روپے کا بجٹ ملتا ہے بریفنگز میں جو سبز باغ دکھائے جاتے ہیں وہ سب کچھ گزشتہ روز کی بارش میں اس طرح طشت ازبام ہوگیا کہ اس حوالے سے کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں۔ ہونا تو یہ بھی چاہئے تھا کہ ا س موقع پر وزیراعلیٰ کی غیر موجودگی میں صوبائی وزراء اور پارٹی کے عمائدین شہریوں کی دست گیری کیلئے کسی علاقے کا دورہ کرتے اور شہریوں کو اپنی موجودگی کا احساس دلاتے جن کی دیکھا دیکھی متعلقہ ادارے اور انتظامی افسران کو بھی طوعاً وکرھاً استراحت گاہوں سے باہر آنے کی زحمت کرنا پڑتی مگر سارے کمبل لپیٹ کر سوئے پائے گئے۔ کیا تبدیلی اس طرح سے ممکن ہے؟ کیا جس تبدیلی کی بات ہو رہی ہے یہ اس کا چہرہ ہے؟ اب معمول کے مطابق رپورٹیں بنیں گی اور وہ بھی مال بنانے کیلئے کہ یہی ہمارا تجربہ ومشاہدہ رہا ہے۔ آخر ہمارے حکمران کب جاگیں گے، ہمارے انتظامی ادارے اپنے فرائض کو کب محسوس کریں گے اور ہمارے عوامی نمائندے عوام کی مشکل وقت میں کب ان کی دست گیری کو بھی سیاست کا حصہ بنائیں گے، آخر کب؟۔

اداریہ