Daily Mashriq


امریکی سفارتکار کو سزا ممکن نہیں

امریکی سفارتکار کو سزا ممکن نہیں

توڑ کر گاڑی کی ٹکر سے نوجوان کو موت کے منہ میں دھکیلنے والے امریکی ملٹری اتاشی کرنل جوزف کے بیرون ملک فرار ہونے کی کوشش ناکام بنا دینا الگ معاملہ ہے ممکن ہے صورتحال ایسی نہ ہو جو بیان کی گئی ہے یا پھر اگر واقعی ایسا ہی ہوا تب بھی ان کو حاصل سفارتی استثنیٰ کے باعث ان کیخلاف کوئی کارروائی ممکن نہیں۔ کرنل جوزف مستند سفارتی عملے کے کارکن ہیں ان کیخلاف کارروائی کی زیادہ توقع نہیں، قبل ازیں دو نوجوانوں کو اپنے ہاتھ سے قتل کرنیوالے ریمنڈ ڈیوس تو باقاعدہ طور سفارتی عملے میں شامل نہ تھے اور نہ ہی ان کو استثنیٰ حاصل تھا مگر اس کے باوجود ان کو چھڑانے میں جو کردار ہمارے کرتا دھرتاؤں نے ادا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ یہاں معاملہ ہی الگ نوعیت کا ہے۔ ماہرین کے مطابق اسلام آباد میں امریکی سفارت کار کی گاڑی سے ایک شہری کی ہلاکت کے بعد حکومت کے پاس اس سفارتکار کیخلاف کارروائی کرنے کے بہت محدود اختیارات ہیں۔ امریکی سفارتکار کو ویانا کنونشن کے تحت مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل ہے اور اس کی وجہ سے حکومت زیادہ سے زیادہ اس سفارتکار کو ناپسندیدہ شخصیت قرار دیکر ملک سے نکال سکتی ہے۔ ویانا کنونشن کے تحت کوئی بھی انسان اپنے ملک کے سفارتکار کے طور پر نمائندگی کرتا ہے تو اس کو بذاتِ خود ریاست ہی تصور کیا جاتا ہے۔ کنونشن کے تحت سفارتی ایجنٹ کو نہ صرف سرکاری فرائض کی ادائیگی بلکہ اپنے نجی کاموں کے دوران مکمل سفارتی استثنیٰ حاصل ہوتی ہے۔ واضح رہے کہ پاکستانی سیکرٹری خارجہ نے اس واقعے کے بعد ایک بیان میں کہا تھا کہ سفارتی تعلقات کے حوالے سے1961 کے لاء آف دی لینڈ اور ویانا کنونشن کے تحت کارروائی ہوگی۔ تو اس کے تحت پاکستان کیا کارروائی کر سکتا ہے؟ اس پر ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ حکومتِ پاکستان کے سیاسی عزم پر انحصار کرتا ہے کہ اس معاملے کو کتنی سنجیدگی سے لیا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ پاکستان امریکہ کو کہہ سکتا ہے کہ وہ اس سفارتکار کی سفارتی استثنیٰ ختم کرے یا اس کیخلاف امریکی قوانین کے تحت کارروائی کرے کیونکہ وہاں بھی ٹریفک سگنل توڑنا اور حادثے میں ملوث ہونا جرم ہے۔ اگر امریکہ اس میں سے کوئی بھی اقدام نہیں اُٹھاتا ہے تو یہ سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے لیکن یہ پاکستان کے سیاسی عزم پر ہے کہ وہ اس معاملے کو کتنا آگے لیکر جانا چاہتا ہے کیونکہ جنوبی کوریا سمیت دنیا میں پہلے ایسے واقعات پیش آچکے ہیں جس میں امریکہ کو سفارتی استثنیٰ ختم کرنا پڑی تھی اور مقامی طور پر سزا دی گئی۔ پاکستان میں امریکی سفارتی رکن کیخلاف سفارتی استثنیٰ کو ہٹا کر ان کو سزا دلوانے کا مطالبہ جذباتی تو قرار دیا جا سکتا ہے حقیقت پسندانہ نہیں۔

ایک اور ناکامی

ہمارے نمائندے کے مطابق سرکاری سکولوں میں اساتذہ کی غیرحاضری اورچیک اینڈ بیلنس کیلئے قائم انڈیپنڈنٹ مانیٹرنگ یونٹ سرکاری وسائل پر اضافی بوجھ بن گیا ہے اور زرخطیر کے خرچ کے باوجود اس نظام کی کوکھ سے بہتری کا کوئی سورج طلو ع نہیں ہو سکا، سوائے اس کے کہ چار سال گزرنے کے بعد صرف حاضریوںکا تناسب بہتر ہوا ہے مگر اس دوران تعلیمی معیار میں کوئی بہتری ریکارڈ نہیں کی گئی جو اصل مطلوب عمل ہے۔ محکمہ تعلیم کے آئی ایم یو کیلئے سالانہ تین ارب روپے مختص کئے گئے تھے جن سے پشاور سمیت 25اضلاع میںسرکاری سکولوںکی مانیٹرنگ کیلئے عملہ بھرتی کیا گیا جنہیں موٹر سائیکلیں اور گاڑیاں بھی دی گئیں جبکہ ان کے دوسرے اخراجات بھی اُٹھائے گئے اور اس کیلئے محکمہ تعلیم کے سیکرٹریٹ میں باقاعدہ ایک سیکشن بھی قائم کیا گیا مگر مطلوبہ نتائج برآمد نہ ہوئے۔ اس نئے نظام کے وضع ہوتے وقت ہی ہم نے اس امر کی نشاندہی کی تھی کہ بجائے اس کے کہ ایک کے اوپر ایک بٹھانے کیلئے سرکاری خزانے سے کروڑوں روپے خرچ کئے جائیں محکمہ تعلیم کے انتظامی افسران کو فعال بنایا جائے اور ان کو دوروں اور نگرانی کیلئے وسائل سہولیات اور مراعات دی جائیں جن کے پاس موقع پر کارروائی کا اختیار بھی ہے اور وہ یہ عمل احسن طریقے سے کرنے کے قابل بھی ہیں مگر کیا کہا جائے کہ صوبائی حکومت نے ایک نیا تجربہ کرتے ہوئے بندے تو کافی کھپائے مگر نتیجہ وہی نکلنا تھا جو اب سامنے ہے۔ آنیوالی حکومت میں اس صورتحال کو جاری رکھنا بھی مشکل نظر آتا ہے یوں فنڈز کا ضیاع بھی ہوگا اور نوجوانوں کا روزگار بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے اسطرح کے تجربات کی بجائے اگر ٹھوس اقدامات کئے گئے ہوتے تو، یہ تو وہی جگہ ہے گزرے تھے ہم جہاں سے والا معاملہ نہ ہوتا۔

متعلقہ خبریں