Daily Mashriq


محاذ آرائی کی حکمت عملی کا اگلا قدم

محاذ آرائی کی حکمت عملی کا اگلا قدم

اس کے باوجود کے پنجاب کے وزیر اعلیٰ میاں شہباز شریف نے حکمران مسلم لیگ کی صدارت سنبھالنے کے بعد اپنے بڑے بھائی میاں نواز شریف کی اداروں سے محاذ آرائی کی پالیسی کے برعکس نرم روی کا رویہ اختیار کیا ، انہوں نے کہا کہ عدلیہ ‘ فوج ‘ پارلیمنٹ اور سیاستدانوں کو مل بیٹھ کر ملک کو مسائل سے نکالنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ انہوں نے میاں نواز شریف کے ایسے بیانات کے باجود جنہیں متعدد ماہرین قانون توہینِ عدالت قرار دے رہے ہیں چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کے رویہ کو قابلِ تعظیم قرار دیا اور یہ بھی کہا کہ احتساب بیورو قابلِ تعریف کام کر رہا ہے لیکن وہ پارٹی کے ناراض لیڈروں کو پارٹی کے ساتھ وابستہ رکھنے میں ناکام رہے۔ ایک ایک دو دو کر کے ن لیگ کے ارکان علیحدگی کا اعلان کرتے رہے اور پیر کے روز تو جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے ن لیگ کے چھ ارکان قومی اسمبلی اور دو ارکان پنجاب اسمبلی نے پارٹی سے علیحدگی اختیار کرنے اور اپنے پارلیمانی مناصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابھی ان کے ساتھ اور بھی لیگی ارکان شامل ہوں گے اور وہ جنوبی پنجاب کو الگ صوبہ بنانے کے ایجنڈے پر عام انتخابات میں حصہ لیں گے۔ میاں شہباز شریف سے ایک طرف یہ توقع کی جا رہی تھی کہ وہ ن لیگ پر پارٹی کا اعتماد برقرار رکھیں گے اور پارٹی چھوڑنے کا ارادہ رکھنے والوں کو پارٹی کا اتحاد برقرار رکھنے پر رضامند کر سکیں گے دوسری طرف وہ خود اپنے احتساب کا سامنا کر رہے تھے۔ ایک کے بعد ایک کیس میں ان کی جوابدہی کا تقاضا ہو رہا تھا۔ ان کے وفادار بیوروکریٹ تحقیقات کا سامنا کر رہے تھے۔ اس پر مستزاد یہ کہ چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے گزشتہ روز سانحہ ماڈل ٹاؤن کے حوالے سے انصاف کی کارروائی کے سست رو ہونے کا نوٹس بھی لے لیا جس میں خود میاں شہباز شریف کو بھی ملزم قرار دیا گیا ہے۔ ان کی اپنی مصروفیات کے ساتھ ساتھ پارٹی کو متحد رکھنے کی مصروفیت ان کے لیے کچھ زیادہ ہی تھیں۔ ان مصروفیات کی وجہ سے لگتا ہے شہباز شریف پارٹی کو متحد رکھنے پر کماحقہ توجہ نہ دے سکے۔ انہوں نے اداروں سے صلح جوئی کے بیانات تو دیے لیکن ممکنہ طور پر ناراض لیگیوں سے ملاقاتوں کا ‘ ان کے شکوے شکایات سننے اور دور کرنے کا کوئی انتظام نہیں کیا۔ انہوں نے پارلیمانی پارٹی کا کوئی اجلاس نہیں بلایا جس میں وہ ارکان کا پارٹی کے کامیاب ہونے پر اعتماد قائم کر سکتے۔ یا یہ کہہ سکتے کہ میاں نواز شریف کے بیانات محض رکھ رکھاؤ ہے‘ پارٹی کی اصل قوت تو منتخب ہونے کے لیے رسوخ اور ووٹ بینک کے حامل ارکان ہیں۔یا ان کے پاس اس کے لیے وقت ہی نہیں تھا۔ اور اگر ہوتا بھی وہ بدظن لیگیوں کو کس طرح یہ یقین دلا سکتے تھے کی پارٹی کے قائد نواز شریف کے محاذ آرائی کے رویے کو نظر انداز کر کے پارٹی میں متحد رہیں۔ یہ سب کچھ میاں نواز شریف کے بھی علم میں ہو گا۔ ان کی بھی حکمت عملی غالباً یہ رہی ہے کہ شہباز شریف اداروں سے رابطے کا چہرہ رہیں گے اور نواز شریف خود عوام میں محاذ آرائی کے مؤقف کے ساتھ جائیں گے۔ یوں بھی قائد کے ہوتے ہوئے پارٹی کے صدر کی حیثیت پارٹی کے اندر کیا ہو سکتی ہے؟ پارٹی کے ارکان کے روز علیحدہ ہو جانے کے واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ میاں نواز شریف کی حکمت عملی ناکام ہو گئی ہے جس کے تحت وہ منتخب ہونے کے لیے ذاتی اثر ورسوخ اور ووٹ بینک کے مالک ارکان کو محاذ آرائی کے ذریعے پارٹی کی جوشیلی امداد فراہم کرنے کے خواہش مند تھے۔ میاں نواز شریف پارٹی کے بارسوخ ارکان کا محاذ آرائی کی حمایت پر اعتماد قائم کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ مسلم لیگ ن کا مزاج ہی ’’انقلابی‘‘ یا ’’نظریاتی‘‘ نہیں ہے۔ ان وجوہ کی بنا پر ن لیگ سے ناطہ توڑنے والے ارکان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ انتخاب پر دو چار کروڑ روپیہ کوئی اس لیے نہیں لگاتا کہ مظلومیت کا علم بلند کرے۔

اس ناکامی کے بعد میاں نواز شریف کی حکمت عملی کا اگلا قدم پنجابی کے اس محاورے کے مصداق ’’کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے‘‘ نظر آتا ہے۔ اس حکمت عملی کا ایک اہم پہلو ایمنسٹی سکیم کا اجراء ہے جو حکومت کی آئینی مدت ختم ہونے کے محض 55دن کیا گیا ہے۔ اس میں ٹیکس کی چھوٹ دینے سے قومی خزانہ کہا جاتا ہے کہ نو ارب روپے سے محروم ہو جائے گا۔ خزانے میں یہ کمی اس وقت آئے گی جب نئی حکومت بن چکی ہو گی یعنی نئی حکومت کے لیے ابھی سے مشکلات پیدا کر دی گئی ہیں اور اس قیمت پر چھوٹے سرکاری ملازموں اور چھوٹے تاجروں میں نیک نامی حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالے دھن والوں کی ہمدردیاں حاصل کی گئی ہیں حالانکہ او ای سی ڈی کے پروگرام کے مطابق اسی سال ستمبر میں ساری دنیا میں بیرون ملک سرمایہ رکھنے والوں کی جوابدہی ہونے والی ہے۔ سکیم میں اس سے پہلے ہی انہیں ناجائز دولت کے جائز ہونے کا سرٹیفکیٹ دیا جائے گا ۔ جو لوگ پارٹی چھوڑ کر جا رہے ہیں ان کو منانے کی بجائے ن لیگ کے وزراء انہیں لوٹے کہہ رہے ہیں ۔ اور جیسا کہ سطور بالا میں کہا گیا ہے میاں شہباز شریف نے ایسے لوگوں کا اعتماد برقرار رکھنے کے لیے کوئی خاطر خواہ کوشش نہیں کی۔ میاں نواز شریف قائد مسلم لیگ نواز خود پارٹی چھوڑنے کے رجحان کو قبل از انتخابات دھاندلی کہہ رہے ہیں۔ یہ تاثر دینے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کوئی ان پارٹی چھوڑنے والوں کو علیحدگی پر آمادہ کر رہا ہے۔ حکمت عملی یہ سامنے آ رہی ہے کہ انتخابات میں شکست کے بعد میاں صاحب 2018ء کے انتخابات میں دھاندلی کا شور مچائیں گے۔ اس مہم میں انہیں کالا دھن سفید کرانے والوں کی حمایت حاصل ہو گی۔ لیکن ملک میں شفاف جمہوریت اور قانون کی بالادستی کے لیے اور بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔ کیا میاں صاحب دھاندلی کی پکار کے وقت میں داخل ہو سکیں گے؟۔

متعلقہ خبریں