Daily Mashriq


الیس منکم رجل رشید

الیس منکم رجل رشید

خیبر پختونخوا کی پولیس کس حد تک سدھر چکی ہے یہ میرا موضوع نہیں ۔گزشتہ دو کالموں میں آئی جی خیبر پختونخوا اور سی پی او کے نمبروں پر تھانہ تاتارا حیات آباد کی حدود میں قائم اباحیت کے مرکز کی باقاعدہ شکایات کے باوجود پولیس حکام کا ٹس سے مس نہ ہونا میرے اس تاثر کے لئے کافی ہے کہ پولیس پولیس ہوتی ہے وردی تن پہ آنے کا غرور حیا پر غالب آتا ہے۔ عیاشی کے لئے پیسہ اباحیت کے اڈوں سے ملے تو فحاشی‘ بے حیائی اور غیرت جیسے الفاظ بے معنی ہوجاتے ہیں وگرنہ غیور پختونوں کے علاقے میں جہاں عزت کی خاطر جان دی اور لی جاتی ہے یہاں حیات آباد کے مکین فریادی اور احتجاجی ہیں۔ بھینس کے آگے بڑے بین بجائے مگر صدا بصحرا ثابت ہوا۔میں اس نتیجے پر پہنچی ہوں کہ بار بار کی نشاندہی پر اگر کارروائی نہیں ہو رہی تو اس عمل میں تھانہ تاتارا کی پولیس کو بالخصوص اور سپاہی سے آئی جی تک کو بالعموم سرپرست اباحیت قرار دیا جائے۔ مجھے حیرت ہوتی ہے علمائے حیات آباد پر جن کی باقاعدہ تنظیم موجود ہے مگر میرے کالموں پر انہوں نے بھی کوئی آواز بلند نہ کی۔ عورت چیخ چیخ کر لوگوں کی دہائیاں بتا رہی ہے مگر بہروں کے شہر میں کوئی سنتا نہیں۔ علمائے حیات آباد سے تو کم از کم اس کی توقع نہیں کہ وہ حیات آباد میں گلی گلی فحاشی کے اڈوں کی موجودگی کا علم ہوتے ہوئے یوں خاموشی اختیار کریں گے۔ اس مرتبہ میں علمائے حیات آباد کی تنظیم سے باقاعدہ اپیل کرتی ہوں کہ وہ غیرت ایمانی کا ثبوت دیتے ہوئے حیات آباد میں فواحش کے خلاف اپنے پلیٹ فارم سے آواز بلند کریں۔ اگلے کالم میں اس حوالے سے مزید اقدامات کیا ہوسکتے ہیں اس پر بات کروں گی۔ دل تو چاہتا ہے کہ پورا کالم پولیس کی بے حسی اور فرائض سے غفلت پر لکھ دوں لیکن بہت سارے لوگوں کے مسائل پر بھی بات کرنا اس کالم کی ضرورت اور اس کا حصہ ہے۔

این ٹی ایس میں بد عنوانیوں اور ملی بھگت کی شکایات میں اس مرتبہ بھی کمی نہیں آئی۔ ایک جذباتی ایس ایم ایس میٹرک کے امتحانات میں نقل اور بد عنوانی کے حوالے سے ہے جس میں کہا گیا ہے کہ میٹرک کے امتحانات میں پاکٹ گائیڈ اور مائیکرو فوٹو سٹیٹ کا اس طرح بے تحاشا استعمال دیکھا گیا کہ نہ صرف امتحانی مراکز کے باہر بلکہ گلیوں اور راستے میں بھی ان کے اوراق بکھرے دیکھنے کو ملتے رہے۔ایس ایم ایس بھجوانے والے صاحب نجی سکولوں اور بورڈوں کے حکام کے خلاف کہتے ہیں بھرپور کالم لکھنے کو کہا ہے۔ میرے خیال میں اگر حکام بے حس نہ ہوں تو اتنا ہی کافی ہے۔ وہ شتر مرغ کی طرح سر ریت میں دے دیں تو کیا کیا جائے۔ بہر حال نشاندہی کا عمل اور احتجاج کرتے رہنا چاہئے شاید کہ تیرے دل میں اتر جائے میری بات۔بارہویں جماعت کے بیالوجی کے نصاب میں Darwin's theory of Evotution اب تک شامل ہے جبکہ بہت سے سائنسدانوں نے اس کو غلط قرار دیا ہے۔ اس تھیوری کے مطابق انسان بندروں کی ایک نسل ’’Apes‘‘ کی نسل سے ہیں۔ Apes میں وقت کے ساتھ ساتھ ان کی ضرورت کے مطابق تبدیلیاں اور بہتری ہوتی گئی اور سالوں بعد انسان کی شکل اختیار کرلی۔ ڈارون نے جب اپنی تھیوری دنیا کے آگے پیش کی تو بہت سارے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔ دین سے لگائو رکھنے والے لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے مگر ساتھ ہی ساتھ اس نے بہت سے لوگوں کے ایمان ہلا کر رکھ دئیے اور مغربی دنیا میں بہت لوگ Aethiest ہونے لگے‘ جن کے نزدیک خدا کا کوئی Concept ہی نہ رہا۔ تاریخ میں برطانوی اس دور کو Victorian age کہتے ہیں جس کا سب سے بڑا مسئلہ ’’دین‘‘ بن چکا تھا۔ باجوڑ ایجنسی کے ایک طالب علم کو بھی یہی ڈر ہے کہ لوگوں کے عقیدے اس تھیوری کی وجہ سے خراب ہو رہے ہیں چونکہ وہ خود بھی پڑھ رہا ہے اور اپنے دوستوں کو بھی پڑھتے دیکھ رہا ہے اس طرح کے Topic یا تو نصاب میں شامل ہی نہ ہوں ساتھ میں اسلامی Concepts کو بھی واضح کیا جائے ورنہ طالب علموں کے ذہن میں شکوک و شبہات پیدا ہوسکتے ہیں اور ہمارا معاشرہ بھی جو باقی ہر اعتبار سے Victorian معاشرے کی مانند ہوچکا ہے‘ دینی لحاظ سے بھی نہ ہو جائے۔پروفیسر جواد نے سڑکوں پر موٹر سائیکلوں اور تیز رفتار رکشوں اور چنگچی رکشوں کی تعداد میں روز بروز اضافے سے آلودگی‘ شور میں اضافہ‘ ماحولیاتی مسائل‘ جرائم میں اضافہ اور ٹریفک کے بڑھتے مسائل کی طرف توجہ دلائی ہے۔ ٹریفک کا نظام بہتر بنا کر اور قوانین کا نفاذ ہی اس کا حل ہے۔ کثرت تعداد کی وجہ آبادی میں بے تحاشہ اضافہ ہے‘ انسانوں کی تعداد بڑھنے سے ان کی ضروریات بھی بڑھ جاتی ہیں محدود افراد کی ضروریات کی منصوبہ بندی سے بسنے والی بستیوں‘ سڑکوں‘ شفا خانوں‘ سکولوں وغیرہ میں اس قسم کی صورتحال کا درپیش ہونا فطری امر ہے۔ آوے کا آوا بگڑا نظر آتا ہے کچھ سمجھ میں نہیں آتا کہ ایسے میں ہوشمندی و منصوبہ بندی کی کوئی بات کا رگر ہوگی بھی یا نہیں۔دیر لوئر سے سیکنڈ ایئر کے طالب علم ارسلان خان کو شکایت ہے کہ ان سے بورڈ کے امتحانات کیلئے 1460روپے کی مقررہ فیس کی بجائے 2250 روپے فی طالب علم وصول کئے گئے ہیں۔ نوجوان طالب علم اس مسئلے کو بورڈ حکام کے علم میں لانے کے خواہاں ہیں۔ اس اضافی رقم سے کیا انتظامات ہوں گے وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں۔ نجی سکولوں اور کالجوں میں اس طرح کی وصولیاں کرکے بورڈ حکام اور ممتحنین کو نذرانے پیش کرنے کا رواج ہے۔ کس کس کو روئیں اپنا جگر کتنا پیٹیں۔ الیس منکم رجل رشید۔

اس نمبر 03379750639 پر میسج کرسکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں