Daily Mashriq


فقیرانہ آئے صدا کر چلے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

پل دو پل کہانی ہے، یہ دنیا ساری فانی ہے۔ سچ پوچھیں تو اس کڑوی حقیقت کا ادراک اس وقت شدت سے ہونے لگتا ہے جب انسان زندگی کی گاڑی میں سفر کرتا آنیوالے اسٹیشن پر گاڑی سے اُتر جانے کے بارے میں سوچنے لگتا ہے، وہ اپنی عمر کے اس حصہ میں پہنچ جاتا ہے جب لوگ اسے بوڑھا یا بزرگ کہنے لگتے ہیں۔ عمر کے اس حصے میں وہ اپنی عمر رفتہ یا ماضی کے جھروکوں میں جھانکتے وقت اپنے وجود میں میر درد کے درد کی ٹیسیں محسوس کر کے کہہ اُٹھتا ہے کہ

وائے نادانی کہ وقت مرگ یہ ثابت ہوا

خواب تھا جو کچھ کہ دیکھا، جو سنا افسانہ تھا

عہد پیری میں پہنچ کر اسے اس بات کا احساس ہونے لگتا ہے کہ اسے بوڑھا بزرگ کہنے والے اس کی ضعیفی پر ترس کھا رہے ہیں اور ان میں سے کچھ لوگ اس کی سن رسیدگی کے پیش نظر اس کا خیال بھی رکھنے لگے ہیں۔ ہمارے صوبے میں بڑے بزرگ کو احتراماً ’مشر‘ بمعنی بڑا کہہ کر پکارا جاتا ہے اور خدانخواستہ کسی بوڑھے بزرگ کی تضحیک کرنا مقصود ہو تو اسے ’بڈھا‘ کہہ کر مخاطب کیا جاتا ہے حالانکہ بڈھا کا یہ لفظ ہمارے صوبہ میں پنپنے والی صدیوں پرانی گندھارا تہذیب کا ترکہ نظر ہے۔ بڈھ بیر، بدھائی، بڈھنی، بدھو جیسے کتنے مقامات ہیں جو اشوکا اور کنشکا عہد کے مہاتما گوتم بدھ کی یادوں کو اپنے اندر سموئے نور اسلام کے طلوع ہونے سے پہلے کے اس دور کی یاد تازہ کرتے ہیں جب یہاں بڈھا کے الفاظ محترم ترین سمجھے جاتے تھے۔ بڈھا کا یہ لفظ آج بھی چین جاپان برما نیپال جیسے بودھ بھکشووں کے ممالک میں مہاتما گوتم بدھ کیلئے ہی استعمال ہوتے ہیں۔ اللہ کے فضل اور اس کے کرم سے پاکستان کے شمال مغربی صوبہ خیبر پختونخوا میں بزرگوں کا ادب یا ان کے احترام کی یہ روش بحسن وخوبی جاری ہے لیکن پاکستان کے دیگر صوبوں کے جواں طبقے میں یہ بات کم کم دیکھنے اور سننے کو مل پاتی ہے۔ بزرگوں کا احترام اور چھوٹوں سے شفقت کا برتاؤ ہمیں اپنی دینی تعلیمات میں سکھایا جاتا ہے، لیکن جس وقت ہم پنجاب یا سندھ کے اولڈ ہاؤسز میں اپنے ماضی کو یاد کر کرکے روتے دھوتے بڑے بزرگوں کو دیکھتے ہیں تو اپنے صوبے کے سعادت مند نوجوانوں پہ رشک کرنے کو جی کرتا ہے۔ بزرگی بہ عقل کسی کسی کو نصیب ہوتی ہے لیکن بزرگی بہ سال ہر اس فرد کی قسمت میں لکھ د ی جاتی ہے جس کو زندگی گزارنے کیلئے لمبی عمر نصیب ہوتی ہے۔ کسی سیانے نے کہا ہے کہ بزرگی یا ضعیفی کی عمر ایک دم یا اچانک نہیں آتی۔ پیری کا عہد وارننگ دے دے کر آتا ہے۔ پہلے بال سفید ہونے لگتے ہیں، پھر دانت ٹوٹنا شروع ہو جاتے ہیں۔ بینائی کمزور ہونے لگتی ہے، جھریاں پڑنے لگتی ہیں، بدن کے جوڑ جوڑ میں زندگی گزارنے کے قرض کا درد اُٹھنے لگتا ہے اور پھر

ہو گئے قویٰ مضمحل غالب

وہ عناصر میں اعتدال کہاں

کا شکوہ یا شکایت ہر بڑے، بوڑھے، بزرگ یا ضعیف کے دل ناتواں سے نکل کر اس کی زبان پر آنے لگتا ہے۔ بوڑھے لوگ اگر کسی سرکاری یا نیم سرکاری ادارے میں ملازمت کے بعد ریٹائر ہو گئے ہوں تو وہ اپنے بچپن، لڑکپن اور اپنی جوانی کے اس سنہرے دور کو رہ رہ کر یاد کرتے ہیں جو وہ اس ادارے یا محکمہ کی نذر کر چکے ہوتے ہیں، جہاں وہ ملازمت کرتے تھے۔ آہ پھولوں کے ہار پہنا کر انہیں رخصت کیا گیا تھا ان کے اعزاز میں الوداعی پارٹی کا اہتمام کرنیوالوں نے۔ پھر یوں ہوا کہ ان کو گریجویٹی کا حق دے کر حاتم طائی کی قبر پر لات ماری گئی، ان کو فارغ کر دیا گیا، فرائض منصبی کی ادائیگی سے۔ کیا یہ ستم نہیں کہ وہ لوگ جو زندگی کا قرض اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر پنشن سے چکا رہے ہیں، مجبور ہوگئے ہیں 16اپریل کو پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنے کی کال دینے پر اور 30اپریل کو خیبر پختونخوا اسمبلی کے سامنے انہوں نے ھرنا دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ بھلا سوچیں تو کتنے بوڑھے بزرگ اور ضعیف العمر کونٹھیوں کے سہارے چل کر آئیں گے دھرنا دینے، کتنوں کو یہاں پہنچنے کیلئے پین کلر کھا کر آنا پڑے گا اور شاید ان میں ایسے لوگ بھی ہوں جن کو کسی کے مونڈھے پر ہاتھ رکھ کر یا وہیل چیئر پر چل کر آنا پڑے۔ یہ بوڑھے بزرگ نانے، دادے اور نانیاں دادیاں اپنے مطالبات منوانے کیلئے دھرنا دینا چاہتے ہیں۔ ہم نے مطالبات منوانے والوں پر لاٹھیاں بھی چلتی دیکھیں اور انہیں آنسو گیس کے شیل بھی مارے جاتے رہے۔ اللہ اپنے حفظ وامان میں رکھے ہمارے سینئرز کو اور اللہ ہوش کے ناخن دے اپنے وطن کے جواں کار ارباب بست وکشاد کو کہ وہ ان کے جائز مطالبات کو تسلیم کرنے میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کریں کہ یہ تو مہمان ہیں انہوں نے چلے جانا ہے بہت جلد یہ دنیا چھوڑ کر۔ ارے لے لو ان سے ان کی دعائیں کہ یہی کچھ بچا کر رکھا ہے انہوں نے اللہ اللہ کرنے کی اس عمر کیلئے۔ سنو سنو وہ جو کہہ رہے ہیں کل کلاں آپ کو نہ کہنا پڑ جائے

فقیرانہ آئے صدا کر چلے

میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے

متعلقہ خبریں